A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
پاکستان آج مکمل طور پر #AsimLaw کے شکنجے میں ہے، جہاں نہ ہی کسی کو انصاف میسر ہے اور نہ ہی قانون کی بالادستی ہے۔ یہ قوم پُرامن جدوجہد سے نہ پیچھے ہٹی ہے اور نہ ہی ہٹے گی، یہ اللہ کی عبادت کرتی ہے اور اسی سے مدد مانگتی ہے اور اسی یقین کے ساتھ ڈٹ کر حق کا مطالبہ کرتی رہے گی۔
#اڈیالہ_کے_باہر_دس_ہزار
زبیر خان کاکڑ جو بلوچستان قلعہ عبداللہ کے پی ٹی آئی عہدے دار ہیں. وہ 10 جنوری کو کراچی جلسے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے. حب چوکی کے بعد ان کا ابھی تک نمبر بند ہے. ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا.
آواز اٹھائیں ان کیلئے
زبیر خان کاکڑ جو بلوچستان قلعہ عبداللہ کے پی ٹی آئی عہدے دار ہیں. وہ 10 جنوری کو کراچی جلسے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے. حب چوکی کے بعد ان کا ابھی تک نمبر بند ہے. ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا.
آواز اٹھائیں ان کیلئے
باغ جناح ۔ ایم پی ایز ایم این ایز کو بھی ڈنڈے پڑے ۔ پی ٹی آئی رہنما کی واٹس ایپ گروپ میں وائرل آڈیو کے مطابق ایس ایس پی ساؤتھ نے نفری کے ساتھ آکر لاٹھی چارج کروایا اور کچھ کارکن بھی گرفتار ہوئے ۔ پی ٹی آئی رہنما کے مطابق کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑے گئے
2021 میں PDM کے کراچی جلسے کے وقت کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کیلیے خفیہ ایجنسی کے اہلکار ہوٹل میں گھسے، گرفتار کیا، مبینہ طور پر مریم نواز کے کمرے کا دروازا ٹوٹا۔ مبینہ طور پر سندھ کے IG کو محبوس بنا کر یہ کام ہوا تھا۔ بلاول نے سندھ پولیس کے تمام افسران کو بطور احتجاج استعفے جمع کروانے کا چھٹی پر جانے کا کہا اور یہی ہوا۔ جمہوریت اور رول آف لاء کے جھنڈے اٹھائے میڈیا اور سیاستدان اتنا چیخے کہ جنرل باجوہ کو شدید دباؤ میں بلاول کو فون کرنا پڑا۔ ایجنسی کے افسران کو فوراً کہیں اور ٹرانسفر کیا۔
آج تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے کے بعد رات گئے پولیس اور نامعلوم افراد کا حملہ، تشدد، گرفتاریاں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ بلکل ویسا ہی عمل ہے، بلکہ یہ اس سے زیادہ سنگین ہے۔ میڈیا نمایندوں پر بھی تشدد کیا گیا ہے انکی گاڑیاں بھی برباد کر دی گئی ہیں۔
کیا یہ سب پیپلز پارٹی حکومت، زرداری و بلاول کی مرضی کے برعکس ہوا ہے؟ یا انکی مرضی شامل ہے؟ اگر برعکس ہوا ہے تو کیا بلاول سندھ پولیس کے ان اہلکاروں اور افسران کی شناخت کرکے نوکری سے برخاست کروائے گا؟ یا کوئی سخت سزا دلوائے گا؟ یا سندھ پولیس کے افسران سے اجماعی استعفے یا چھٹی کی درخواستوں دلوائے گا کہ اصل ذمہ داران کو یہاں سے کہیں دور ٹرانسفر ہونا پڑے اور آئیندہ ایسا نہ ہو؟
اگر بلاول ایسا نہیں کرتا تو اسکی صرف دو وجوہات ہیں، یا تو بلاول اور اسکی حکومت کسی کے سامنے شدید بے بس ہے، نا چاہتے ہوئے ساتھ دینا پڑ رہا ہے، یا پھر یہ سب پیپلز پارٹی کے حقیقی چہرے کی ہی جھلک ہے سب انکی رضامندی و اشتراک سے ہوا ہے۔
لاہور میں مریم نواز نے بغیر اجازت دیے مہمانوں کے ساتھ یہی فسطائیت کی، بدتہذیبی اور بدمعاشی کا ننگا ناچ کروایا گیا، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ کر، اجازت دے کر انکی پیٹھ پیچھے وار کیا ہے، دھوکہ دیا ہے، بدترین حرکت اور گھٹیا پن کی حد کی ہے۔
اگر رتی برابر جمہوری ڈی این اے اور غیرت باقی ہوئی تو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے مہمانوں کے ساتھ یہ گھٹیا پن کرنے والے سرکاری ملازمین کو نشان عبرت بنائے گی، مہمانوں سے معافی مانگے گی، ازالہ کرے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو سب جانتے ہیں کہ ماجرا کیا ہے
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ، ان کی کابینہ اور قافلے میں کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچا تو اس کا زمہ دار وزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور سندھ کابینہ ہوگی!
سیکٹر کمانڈرز زرداری، نواز شریف اور ان کی جماعتوں کو سستے ترین ٹشو پیپرز کیطرح استعمال کر رہے ہیں۔
اگر ہمیں کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری وزیراعلٰی سندھ، IG سندھ اور سندھ کابینہ کے سر ہوگی،
انھوں نے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا، ممبران اسمبلی اور کے پی کابینہ ارکین کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں، شاہد خٹک