ایک مدر پدر معاشرہ کبھی بھی ترقی پذیر تصور نہیں ہوتا۔جب تک اس پر مذہبی اور سماجی قانون لاگو نہ ہو۔اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے جس نے عورت کو جو مقام عطاء کیا شاید ہی کیسی اور مذہب میں اسکا اتنا کھل کر تذکرہ ہو۔ عورت کے لباس،آزادی،تعلیم کے بارے میں قرآن، احادیث میں واضح لکھا ہے۔
عورت کی شخصیت، نیت اور شعور کو مشکوک بنا دینا دراصل معاشرے کے اصل اخلاقی بحران سے نظریں چرانے کی ایک پرانی عادت ہے،
افسوس یہ ہے کہ ہر خرابی، ہر فتنے اور ہر بے راہ روی کا بوجھ عورت کے لباس،آزادی،تعلیم،ملازمت اور محض اُس کی موجودگی پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مرد کی تربیت،کردار اور ذمہ داری پر گفتگو سے گریز کیا جاتا ہے،
اگر مسئلہ صرف عورت کی موجودگی سے جنم لیتا ہے تو پھر اُن اداروں میں ہونے والے مظالم، ہراسگی اور بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی جہاں عورت موجود ہی نہیں ہوتی؟
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جرائم کا تعلق عورت کی آزادی سے نہیں بلکہ بیمار ذہنیت،طاقت کے غلط استعمال، اخلاقی زوال اور جوابدہی کے فقدان سے ہوتا ہے،
اگر واقعی معاشرے کی اصلاح مطلوب ہے تو لوگوں کو جھوٹ، بددیانتی، دھوکہ،کرپشن،تشدد،نفرت اور استحصال سے روکنا ہوگا،
مگر بدقسمتی سے سب سے آسان راستہ یہی سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر مسئلے کی جڑ عورت کو قرار دے دیا جائے تاکہ اپنی سوچ، اپنے کردار اور اپنے رویّوں کا محاسبہ نہ کرنا پڑے،
عورت ایک مکمل انسان ہے ،شعور رکھنے والی ،
اور مہذب معاشرے وہی ہوتے ہیں جو عورت کو شک اور خوف کی نظر سے نہیں بلکہ احترام،اعتماد اور برابری کے ساتھ دیکھتے ہیں،
ویسے حج اور عمرے کے موقع پر بھی عورت مرد اکٹھے ہی ہوتے ہیں، رش بھی بہت ہوتا ہے .
جب خُدا نے اپنے گھر میں عورتوں مردوں کےلئے الگ ڈبے نہیں بنائے تو یہاں ڈبے کیوں ؟
ماں صدقے۔ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو، مولانا ڈیزل، منہ پر ہاتھ پھیر کر جیل سے اے سی اتارنے کی دھمکیاں، سر پر دوپٹہ رکھ کر محمود اچکزئی کی نقلیں، مریم کو شوہر کے سامنے نام نہ لینے کا گندہ اور گھٹیا مشورہ۔۔۔ یہ سب کر کے سیاست کرنے والا اور حکومت سے نکالے جانے پر زمان پارک کے باہر پولیس پر حملے کروانے والا، 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کا ماسٹر مائینڈ۔۔۔ جس کی کُل سیاست اور نظریہ یہ ہے کہ وہ آج بھی غصے میں پاگل ہو کر پیغام بھجواتا ہے کہ اگر میری ملاقاتیں نہیں کھلتیں تو قومی اسمبلی سے استعفے دے دیں۔۔۔
اخے وہ بے چارہ آپے سے باہر نہیں ہوا۔۔۔ بات کرتے ہوئے خان کے دیئے گئے “شعور” کا تھوڑا استعمال کر لیا کریں
سوال یہ ہے کہ اگر آج آپ کو پتہ چلے کہ کوئی صحافی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی جانے والی فائلیں دیکھ کر پروگرام اور وی لاگ کرتا ہے تو آپ اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیں گے؟ اور اگر وہ کل آپ سے کہے کہ مجھے معاف کر دیں تو کیا آپ اُسے معاف کر دیں گے؟؟
آپکی کیا گارنٹی ہے کہ آپ بھی Establismnet کے مہرے نہیں بنے گے۔یہ پاکستان کی تلخ تاریخ اور حقیقت ہے کے انکے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔8 فروری کو عوام نے جسکو وٹ دیا وہ ہار گیا۔
اگر آپ عوام راج تحریک کے میرٹ اور انٹرنل الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہوں گے تو ضرور۔۔۔ یہ وعدہ ہے کہ کوئی مقامی وڈیرہ یا سردار عوام راج کے نمائندے کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ ہم ایسا نظام وضع کر رہے ہیں جس سے گھر گھر اور گلی گلی میں عوام راج تحریک مضبوط اور مربوط ہو گی۔۔۔ پاکستان کی سب سے بڑی عوام طاقت۔ انشاء اللہ
بارش آ گئی ورنہ آج انقلاب آ جاتا۔۔۔
بھائیو !! دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی ایک شخص کے لیے انقلاب نہیں آیا کرتا۔ انقلاب ہمیشہ نظریے پر آتا ہے اور کسی شخص یا خاندان کے ذہنی غلاموں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ اپنا پسندیدہ بندہ سیٹ پر ہو تو نظام اچھا، نہ ہو تو نظام بُرا۔۔ یہ کیا نظریہ ہے؟
اسلام آباد ھائی کورٹ کے باہر سے امریکین پاکستانی بزنس مین ضیا چشتی کو مبینہ اغوا کرنے کی کوشش,اغوا کرنے والے اسلام آباد پولیس کی وردی اور سول کپڑوں میں تھے،مذاحمت اور شور شرابہ پرلوگ اکٹھے ہوگئے جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے موقع سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی
@ICT_Police@PakPMO
پاکستان نے معاشی دباؤ کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا، امارات نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے رقم مانگی، تو پاکستان نے دوسری بات نہیں کی۔ 11، 17 اور 23 اپریل کی تاریخیں طے کر کے ہم نے بتا دیا کہ ہم سخت وقت گزار سکتے ہیں لیکن ڈکٹیشن نہیں لے سکتے۔ صہیونی ایجنڈے پر چلنے والوں کی بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی، اسے کہتے ہیں حقیقی ایبسلوٹلی ناٹ ،
ویلڈن شہباز شریف
جنرل عاصم منیر
ایک فرمائشی سروے میں ظاہر کیا گیا کہ صرف 49 فیصد پاکستانی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو نا پسند کر تے ہیں۔
بطور پاکستانی کیا آپ نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں؟
ہاں کے لیے (1)
اور
نہیں کے لیے (2)
لکھیے
پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے strategic wheat reserves کیلئے پہلی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مشتمل ایک پالیسی دی۔ جس کے تحت اس سال پنجاب کے کسانوں سے تیس لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدی جائیگی ۔۔ مجھے یہ بتا کر خوشی ہو رہی ہے کہ الحمدُللّٰہ آج 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیوں نے اس میں prequalify کیا ہے ۔
@DGIPofficial
Dear Sir
I'm trying to reach out as per the mentioned contact number on the website, but the call automatically dropped.
Kindly need your kind help to come out from a problem.