مجھے یاد ہے، میں چار پانچ سال بعد پاکستان آ رہا تھا۔ دوستوں نے کہا کوئی اور اچھی سی فلائٹ لے لو، مگر میں نے کہا نہیں یار، پی آئی اے پی لینی ہے۔ انہوں نے کہا سستی ہے اس لیے؟ میں نے کہا سستی کی بات نہیں، بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ملک کا کھانا، اس کی خوشبو اور وہاں کے لوگ یاد آئے ہیں۔
جو شخص مسافر ہوتا ہے، اسے اپنی مٹی اور اپنا وطن ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس نوجوان کو دیکھیں، کئی سال بعد ایئرپورٹ پر اترا اور کس مسکراتے چہرے سے یونیفارم میں ملبوس شخص کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن جس فرعونیت اور تکبر سے اس نے اس کے سامان کو لات ماری، اندازہ لگائیں کہ اپنے اس رویے سے وہ لوگوں کے دلوں کو کتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں۔
پیرا فورس کا اصل چہرا دکھانے پر صحافی کو گرفتار کر لیا گیا، پہلے پیرا فورس کے اہلکار ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے لئے صحافی کی منتیں ترلے کرتے رہے، جب انہیں یقین ہو گیا کہ یہاں ہماری دال نہیں گلے گی تو اسے گرفتار کر کے تھانے لے گئے۔
عمران مغل غریب کی آواز بنا جس کی آج اس کو سزا مل رہی ہے۔ آج اسے ہتھکڑیاں لگا کر پیرا فورس کے عملے نے گرفتار کر کے گاڑی میں بٹھا لیا۔ ہماری اعلی افسران سے گزارش ہے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ایسے گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈے اپنانے والوں کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔
او میرے خدایا !
کن ظالموں سے ان غریبوں کا پالا پڑگیا ہے
لیاقت پور خان بیلہ میں پیرا فورس کے اہلکار ایک غریب دوکاندار کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے
ان حرام خوروں کو ہر جگہ پہنچاؤ اور انکا اصلی چہرہ قوم کو دکھاؤ
اسلام آباد پولیس میں ذہنی تناؤ شدت اختیار کر گیا۔۔۔
اربوں روپے کی نئی گاڑیاں، تھانوں کی تزئین و آرائش مگر اسلام آباد پولیس کا رویہ جوں کا توں۔۔!!!
سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا درس دینے والی پولیس کا اصل چہرہ بے نقاب @ICT_Police کے پاس انصاف کے حصول کے لیے جانے والے شہری گالم گلوچ سن کر واپس آ گئے۔ ویڈیو میں اہلکار اپنے پیٹی بھائی کو بہت پیار سے خاموش کروانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
اگر آپ مجھ سے کہیں کہ غیر جانب دار ہونے کے ساتھ ساتھ فیلڈ میں کام کرکے مسائل کو حقیقی انداز میں رپورٹ کرنے والے صحافیوں کی فہرست مرتب کریں، تو فرزانہ فہرست کی ابتدا میں ہوں گی۔ فرزانہ نہ صرف ملک کی پہلی خاتون بیورو چیف بنیں بلکہ انہوں نے یہ اعزاز خیبر پختونخوا کے حصے میں بھی ڈالا، جہاں خواتین صحافیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
افسوسناک بات ہے کہ وہ بھی آج برداشت نہ کی جاسکیں اور انہیں دباؤ کے تحت ادارے سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے اپنے ادارے سے اس حوالے سے گلہ بھی کیا کہ انہیں دباؤ پر نکالا گیا۔ لیکن دباؤ ڈالنے والوں نے دراصل انہیں ستارۂ امتیاز سے نواز ہے۔ حقیقی ستارہ امتیاز۔
تھانہ واہ کینٹ کے علاقے میں @RwpPolice کی موجودگی میں با اثر افراد کا خواتین پر تشدد، خواتین چیکھتے چلاتی پولیس سے مدد مانگتی رہیں لیکن پولیس نظر انداز کرتی رہی، متاثرہ فیملی کے مطابق انہوں دو سال قبل ایک سرکاری افسر کو گھر کرائے پر دیا تھا، ایک سال ایگریمنٹ تھا وہ ختم ہوگیا اب ایک سال سے کرایہ دار کرایہ ادا کررہا تھا نہ گھر خالی کررہا تھا، جب گھر خالی کرنے کیلئے نوٹس دیا تو با اثر کرایہ دار دیگر افراد اور پولیس کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا، توڑ پھوڑ کی، گاڑی توڑی خواتین اور بزرگوں پر تشدد کیا، پولیس کے مطابق متاثرہ فریق کی درخواست وصول کرلی گئی ہے کاروائی جاری ہے، اب سوال یہ ہے پنجاب حکومت @OfficialDPRPP اور تھانہ کلچر میں تبدیلی کے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عام آدمی کا اسکو کیا فائدہ ہورہا ہے جب پولیس کی موجودگی میں قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوں۔
ہم دوسرے ممالک کو تحفظ فراہم کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں لیکن افسوس کہ پانچ ماہ تک کئی پاکستانی سیلرز صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال رہے لیکن حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اپیلیں جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا یہ آپریشن ہماری سکیورٹی فورسز نے کیوں نہیں کیا؟ اگر ریاست پاکستان اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کر سکتی تو دوسرے ممالک میں جا کر دوسروں کو تحفظ کیسے فراہم کریگی؟
آئی جی آزادکشمیر کیپٹن رئٹائرڈ لیاقت ملک کا پیچھا صحافی نہیں ان کے اپنے خیالات کررہے ہیں ۔ شیراز گردیزی نے سوال دھرایا تو وہ بغیر جواب دئیے چلے گئے اس وقت شیراز گردیزی کو پتہ نہیں تھا کہ پارلیمینٹ ہاؤس کے اندر بھی آئی جی صاحب ایسی ہی صورتحال سے پریشان ہو کر آرہے تھے۔
Journalist asks IG Pak-administered Kashmir about his reaction on “deaths in Kashmir from both sides, police n the other side [Joint Awami Action Committee]” but the latter responds with anger by snatching his mic and shouting at him.
Is this the way to respond to critical qs?
Ishrat Azhar, mother Hammad Azhar, appeals to the Chief Justice of Pakistan: for 12 days, she has had no contact with her son and no information about his condition. His family has been denied access, while even his lawyer has been stopped by Punjab Police from meeting him, denying him his fundamental right to legal counsel. Despite approaching the Anti-Terrorism Court, the matter was fixed six days later. She now seeks urgent intervention from the Chief Justice to ensure Hammad Azhar’s fundamental rights and access to legal representation
اس سبسڈی کے مطابق ایک ساتھ 20 لیٹر ملے گا۰
1- اس کے لئے موٹر بائیک کی ٹنگی 20 لیٹر ہو اور خالی
- 20x 270 =-5,398 روپے نقد رقم لے کر جائیں
3- موٹر بائیک آپ کے نام اور سم بھی آپ کے نام ہونی چائیے