یہ ایک پشتون ماں کی لاش ہے، جسے اس قدر مسخ کر دیا گیا کہ اب اسے کفن میں لپیٹ کر بھی دنیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔ کل کرم میں ہونے والے ڈرون حملے میں اپنے معصوم بچوں سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ،
اگر غیرت صرف نعروں، تقریروں اور قصوں کا نام ہے تو پھر اس کی حقیقت کیا ہے؟ اصل غیرت تو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، حق کی بات کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے
سینئر صحافی کامران خان کو ایران میں پاکستانی ایمبیسی میں تعینات افسران نے بتایا ہے کہ تہران کی سڑکوں پر ایرانی کسی پاکستانی کو دیکھتے ہی اونچی اونچی “عاصم منیر” “عاصم منیر” کہنے لگتے ہیں۔
کامران خان نے صحافت کا سفر ضیاالحق کے دور میں اسی طرح شروع کیا۔ شروع دن سے منہ قبلہ کی طرف کر لیا۔ کبھی دائیں بائیں دیکھا ہی نہیں۔ اسلم بیگ آئے، آصف نواز جنجوعہ، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، پرویز مشرف، اشفاق کیانی، راحیل شریف، قمر باجوہ اور عاصم منیر۔ کامران خان آرمی چیف کی کرامات لوگوں کو بتاتے رہے اور دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے رہے۔ سیاستدانوں کے بارے غضب کرپشن کی عجب کہانیاں رپورٹ کرتے رہے مگر ساتھ ساتھ کبھی ایرانیوں، کبھی افغانیوں تو کبھی امریکیوں کی طرف سے اس وقت کے پاکستان کے آرمی چیف کے نعرے لگانے کی خبریں بھی رپورٹ کرتے رہے۔
یہ وہ بنیادی سبق ہے جو ہر صحافی کو پاکستان میں صحافت شروع کرتے ہوئے سیکھنا ہوتا ہے۔ مگر چند لوگ خوامخواہ بیچ میں اصول وصول لے آتے ہیں اور پھر کامران خان کی طرح ترقی بھی نہیں کرتے اور دھکے بھی کھاتے رہتے ہیں۔
When they talk about their fake history full of massacres…
Exactly one year ago, the same Satanyahu — who calls himself a “friend of the Iranian people” — bombed Tehran’s main water pipeline at Ghods Junction in Tajrish.
Supplying 15 million civilians. On a busy street full of innocent drivers and their passengers.
Zionist “friendship” in action.
عاصم لا کے تحت ریاستی درندگی عروج پر،
راولاکوٹ دریک عید گاہ مسجد والی سائیڈ پر فورسز کی دھرنے کے شرکاء پر سیدھی فائرنگ، کئی کشمیری زخمی ہو گئے۔
#RawalakotBleeds#RightsMovementAJK#FascismUnderAsimLaw
https://t.co/zZuisF5Kwo
Deeply disturbed by the news coming from across the LoC. The killing of more than a dozen protesting civilians and police personnel is extremely sad. The Government there should know better than to use force to handle public grievance and demands in this manner.
When people take to the streets to express their concerns, it is a signal that they seek to be heard. It is the responsibility of those in authority to listen, engage and peacefully resolve the matter, rather than allow it to escalate into violence, arbitrary arrests and loss of life.
Hope and pray that better sense prevails and the matter is handled with maturity while addressing the concerns of the people.
پونچھ میں اس وقت قافلوں کی صورتحال یہ ہے کہ نہ کیمرے کی آنکھ سے انسانوں کے سیلاب کی منظر کشی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں عوام کو لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں
If you want to see the biggest khoty and begairt people in the world look at those who support Pakistan's current regime and establishment. They say that supporting this illegitimate regime is the same as supporting Pakistan.