آئی جی آزاد کشمیر، کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے آج ایک مختصر مگر نہایت اہم پریس کانفرنس کی۔
انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور آزاد کشمیر پولیس عوام کی خدمت اور مدد کے لیے ہر وقت موجود ہے۔ تمام شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں کھلی ہیں اور معمولاتِ زندگی حسبِ معمول جاری ہیں۔
آئی جی آزاد کشمیر نے سوشل میڈیا پر آزاد کشمیر کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے بالخصوص بی بی سی کی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ خبریں نشر کرنے سے قبل آزاد کشمیر پولیس کے سرکاری پلیٹ فارمز سے حقائق کی تصدیق کی جانی چاہیے۔
انہوں نے آزاد کشمیر پولیس ہیلپ ڈیسک کے رابطہ نمبروں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ کسی بھی شخص کو اگر سڑکوں، راستوں یا کسی علاقے کی صورتحال کے بارے میں معلومات درکار ہوں تو وہ ان نمبروں پر رابطہ کر کے مستند اور سرکاری معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
آئی جی آزاد کشمیر نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی، گمراہ کن اور منفی پروپیگنڈا مہمات سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے قومی و بین الاقوامی میڈیا، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے بھی درخواست کی کہ صرف مصدقہ اور مستند معلومات پر مبنی خبریں نشر کی جائیں اور خبر چلانے سے قبل متعلقہ سرکاری ذرائع یا رابطہ نمبروں سے تصدیق ضرور کی جائے۔
کشمیر میں الیکشن کمپین کرنے والوں پر حملہ کر دیا گیا یہ انتشار ہے اس سے کسی کو فائدہ نہی ہو گا اگر ایکشن کمیٹی جو زیادہ تر مقامی تاجر اور دوکاندار ہیں وہ خود الیکشن لڑیں اور ایسے حالات میں کونسا ٹرانسپورٹر کشمیر خوراک اور ادویات لے کر جائے گا ؟
کالعدم ایکشن کمیٹی کے یہ وہ انتشاری لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم سے مذاکرات کیے جائیں! ‼️‼️
🔺 ایک طرف امن اور حقوق کا راگ الاپا جاتا ہے، اور دوسری طرف کھلم کھلا سیکیورٹی اہلکاروں کی وردیاں مارکیٹ سے حاصل کر کے انہیں سرِعام لہرایا اور تذحیک کی جا رہی ہے۔
🔺 یہ عناصر سیاسی و ذاتی مفادات کے لیے اس حد تک گر چکے ہیں اور گھٹیا پن پر اتر آئے ہیں کہ ان وردیوں کی حرمت پامال کر رہے ہیں۔ یہ وہی وردیاں ہیں جنہیں پہن کر سیکیورٹی اہلکار امن و آمان برقرار رکھنے کے لیے اور وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنے خون کا نذرانہ دے رہے ہیں اور ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبروز کا تحفظ کر رہے ہیں۔
🔺 حیرت تو ان سیاست دانوں پر ہوتی ہے جو زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر کے ان شرپسندوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ جب مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری جیسے صاحبان یہ کہتے ہیں کہ "ان عناصر سے مذاکرات کیے جائیں"، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کے دفاع اور شہداء کی تذلیل کرنے والے اس قابل ہیں کہ ان سے مذاکرات ہوں؟ کیا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو میز پر بٹھانا شہداء کے خون سے غداری نہیں؟
🔺 سچ تو یہ ہے کہ عوام اب ان کا اصل چہرہ پہچان چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باشعور لوگوں نے ان انتشاری ٹولوں کو اکیلا چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب عوام کی اکثریت ان سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لے گی اور میدان میں صرف دو چار بڑے انتشاری اور ان کے دو تین درجن اندھے حامی رہ جائیں گے۔ تب ان ملک دشمن عناصر کو پتا چلے گا کہ ریاست اور اس کے محافظوں کی توہین کا انجام کیا ہوتا ہے!
بریکنگ
آزادکشمیر کے اینٹری پوائنٹس بند ہونے کا شرپسند عناصر کا جھوٹا پروپیگنڈا دم توڑ گیا
آزادکشمیرسے پاکستان کے اینٹری پوائنٹس مکمل فعال،گاڑیوں اورعوام کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے
مانسہرہ کےعلاقہ برارکوٹ کی چوکی سے آزاد کشمیر اور کے پی کے عوام کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت دیکھی جاسکتی ہے
*پولیس چوکی برارکوٹ کے انچارج کے مطابق؛*
ضروری دستاویزی اور سیکیورٹی چیکنگ کے بعد دونوں اطراف کے شہریوں کو نقل وحرکت کی مکمل آزادی ہے
مال بردار گاڑیوں بھی حسب معمول اشیائے خورونوش کی ترسیل میں مصروف ہیں،*انچارج چوکی برارکوٹ*
*دوسری جانب ڈپٹی کمشنرمظفرآباد منیرقریشی کا کہنا ہے کہ؛*
مظفرآباد میں اشیائے خورونوش کی نہ تو کوئی کمی ہے اور نہ ہی ان کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ ہے
*ایس ایس پی مظفرآباد ریاض مغل کے مطابق:*
اینٹری پوائنٹس پر تعینات نفری صرف معمول کی سیکیورٹی چیکنگ کیلئے ہے،عوام یا گاڑیوں کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں
اس موقع پر ڈرائیورز اور اشیائے خورونوش کی ترسیل سے منسلک تاجروں نے بھی سپلائی کی بلاتعطل آمدورفت پر مکمل اطمینان کا اظہارکیا
*حقائق پرمبنی ویڈیوز نےآزاد کشمیر کے راستوں کی بندش سے متعلق شرپسندوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا*
وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری‼️‼️
کلعدم ایکشن کمیٹی کی ریاست مخالف مہم اور بھارتی ایماء پر کشمیر کاز کو نقصان پہچانے پر اس کے بنیادی اراکین کی لاتعلقی کا سلسلہ جاری۔
کور کمیٹی کے بنیادی اراکین راجہ امجد ایڈوکیٹ، انجم زمان، افتخار زمان اور رضوان کرامت کے بعد آج کور کمیٹی کے اہم ممبر فیصل جمیل کشمیری نے بھی اس کن کترا کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کر دیا
مستونگ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، بی وائے سی کی جانب سے ہڑتال کی کال مسترد کر دی گئی اور معمولاتِ زندگی اپنے معمول کے مطابق جاری ہیں، تمام کاروباری مراکز اور بازار کھلے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب ترقی اور امن کے خواہاں ہیں۔
اس پورے کھیل کو آپریشن گولڈ سمت یا بھارتی سازش نہ کہیں تو اور کیا کہیں‼️‼️
🔺بی بی سی برطانوی حکومت کا جریدہ ہے جس پر کنٹرول ایم آئی سکس کا ہے۔ ایم آئی سکس صہیونیوں کے اشارے پر چلتی ہے۔ صہیونیوں نے جہاں بھی انتشاری بیانیہ پھیلانا ہو وہاں بی بی سی سرفہرست ہوتا ہے۔ چاہے لیبیا میں قذافی مخالف مہم ہو یا عراق میں جھوٹے WMD کا شوشہ، سب جھوٹ بی بی سی نے پھیلایا۔
🔺پاکستان نے ایران امریکہ ثالثی کروائی جس کا سب سے زیادہ دکھ صہیونیوں اور مودیوں کو ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم چند کن کتروں کو چابی دی، جنہوں نے آزاد کشمیر میں اپنے چیلوں کو انتشار کا سگنل دیا۔
🔺پہلے تو انہیں امید تھی کے چیلے کام کر جائیں گے لیکن عوام نے بھی ساتھ نہ دیا اور حکومت بھی اس بار ثابت قدم رہی۔ تحریک جب مرنے لگی تو پھر سے جھوٹ کا پلندہ اٹھائے بی بی سی میدان میں آ گیا۔
🔺بی بی سی نے ایک جھوٹی سٹوری پوسٹ کی اور اب صہیونیوں کے دوسرے چیلے یہوتیے اسے ماں کا نکاح نامہ سمجھ کر پھیلا رہے ہیں۔ یہوتیوں کی للی صدیق جان بھی اسے باجی کے ولیمے کا کارڈ سمجھ کر ریٹویٹ کر رہا ہے۔
🚨قصہ مختصر اس وقت تمام جنگلی سور برطانوی بندر، بی بی سی، یہوتیے اور کن کترے ایک ہی صف میں ہیں- سو ڈٹے رہو
آزاد جموں و کشمیر کے غیورعوام نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی انتشار پھیلانے کی سازش کو مسترد کر دیا۔۔
بیرونی ایماء پرآزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے والی انتشاری کمیٹی سے شہری لاتعلقی کا اعلان کررہے ہیں
*آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کا کہنا تھا کہ؛*
کالعدم انتشاری کمیٹی کی حقیقت واضح ہونے پر اس کے اپنے ارکا ن بھی لاتعلقی کا اعلان کر رہےہیں
عوام کالعدم کمیٹی کے انتشار اور احتجاج سے تنک آ چکےہیں جبکہ کشمیر میں زندگی معمول پر آ چکی ہے، *شہری*
آزاد جموں وکشمیر میں دکانیں اور مارکیٹس کھل چکی ہیں،عوام نے انتشاری تحریک کو مسترد کر دیا ہے ، *شہری*
معمولاتِ زندگی تیزی سے بحال ہو رہے ہیں، ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے ، *شہری*
لوگوں کو انتشاری کمیٹی کی اصل حقیقت پتہ چل چکی ہے کہ یہ کن بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے پر کام کر رہےہیں ، *شہری*
عوام کالعدم کمیٹی سے بیزار ہو چکےہیں اور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑےہیں، *شہری*
عوام نے احتجاج کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں ، *شہری*
یہوتییوں کا چہتا ماریو نوفل کسی پیپے اسکوبار کو پکڑ کر لے آیا ایک سنسنی خیز خبر چلانے کے لیے۔
اسکوبار نے لگتا ہے نشہ کچھ زیادہ کر لیا جو الف لیلی کی کہانی لے کر آ گیا
@MarioNawfal
مہمند: خیبرپختونخوا حکومت کی 13 سالہ کارکردگی پر عوامی تحفظات کا اظہار، تحصیل بیزئی میں اسکول، ہسپتال، پینے کے پانی اور سڑکوں کی عدم دستیابی سے علاقہ پسماندگی کا شکار، منتخب نمائندوں کی عدم توجہی کے خلاف ملک احمد جان کی پختون ڈیجیٹل سے گفتگو۔
بی بی سی اب جریدہ نہیں بلکہ برٹش بھونکا چوتم سیلفیٹ ادارہ ہی بن کر رہہ گیا ہے۔ صہیونیوں کو خوش کرنے کے چکر میں اس نے اپنی تمام تر کریڈیبلٹی ردی کی ٹوکری میں پھینک دی ہے۔
لیبیا، شام اور عراق میں جھوٹی خبریں پھیلا کر آگ لگانے میں یہی چوتیم سیلفیٹ پیش پیش تھے۔
اس ادارے کو انسانی حقوق صرف مسلم ممالک میں نظر آتے ہیں، جب غزہ یا مقبوضہ کشمیر کی بات آئے تو ان کی عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔
برطانیہ اور فرانس میں پر امن احتجاج کرنے والوں کو چالیس چالیس سال کی سزائیں ہوئیں تو اسی ادارے نے شادیانے بجائے لیکن پولیس پر فائر کرتے، روڈ بلاک کرتے اور املاک کو جلاتے لوگ انہیں اپنے پرامن بہنوئی نظر آتے ہیں۔
لعنت بی بی سی
@BBCUrdu
بلوچ خاتون کا ماہرنگ بلوچ کی سزا پر ردِعمل
🔴 مستونگ سے تعلق رکھنے والی ایک بلوچی خاتون نے ماہرنگ بلوچ کے خلاف عدالتی فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اگرچہ دیر سے آیا، مگر بالآخر انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
🔴 ایسے عناصر جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جو نوجوانوں کو ریاست مخالف اُکسانے کی جانب راغب کرتے ہیں۔ اُن کے خلاف پہلے ہی کارروائی ہونی چاہیۓ تھی انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق تمام شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام قائم ہو سکے۔
وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری‼️‼️
کلعدم ایکشن کمیٹی کی ریاست مخالف مہم اور بھارتی ایماء پر کشمیر کاز کو نقصان پہچانے پر اس کے بنیادی اراکین کی لاتعلقی کا سلسلہ جاری۔
کور کمیٹی کے بنیادی اراکین راجہ امجد ایڈوکیٹ، انجم زمان اور افتخار زمان کے بعد آج میرپور سے کور کمیٹی ممبر رضوان کرامت نے بھی اس کن کترا کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کر دیا
یہود و ہنود کے فتنہ عمرانیہ اور فتنہ کن کتریہ میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔
دونوں جھوٹے اور احسان فراموش
دونوں سوشل میڈیا پر شیر لیکن اصل میں گیدڑ
دونوں خود چارپائی کے نیچے چھپ کر کارکنوں کو ڈنڈے پڑواتے ہیں
دونوں یو ٹرن
کن کترے ایک جگہ کہتے ہیں کہ حکومت نے ہمارے راستے بند کیے اور پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے خود راستے بند کئے
یہ وہ ویڈیو ہے جس کی وجہ سے ماہ رنگ لنگو کو سزائے موت سنائی گئی۔
اس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک معصوم بلوچ ایف سی اہلکار کو کیسے شہید کیا گیا اور بعد میں لاش کی بے حرمتی کی گئی۔
#MahrangBaloch