یوں بھی اک روز اِسے
چھوڑ کےجانا ہی تو ھے
خوف پھر کیا ہو زمانے
کا زمانہ ہی تو ھے
زندگی اتنی بھی
دشوار نہیں تیرے بعد
تجھ کو ہر روز
سرِ شام بُھلانا ہی تو ھے
ایسا بھی کیا کہ نشانے
پہ مسلسل ہُوں تیرے
اے مِری جان کے دشمن
تجھے پانا ہی تو ھے
سُنو! اے چاند سے ساتھی
ابھی تم کہہ رہے تھے نا!
تمہیں مجھ سے محبت ہو نہیں سکتی
چلو مانا کہ یہ سچ ہے!
مگر اے چاند سے ساتھی مجھے اتنا بتاؤ تم
کہ جب موسم بدلتے ہیں ، گُلوں میں رنگ بھرتے ہیں
تو پھر کیوں مضطرب ہو کر، اکیلے پن سے گھبرا کر
ہوا کو راز دیتے ہو ،
مجھے آواز دیتے ہو
تم نے زندگی میں
کسی سے محبت نہیں کی
تمہیں کھونے کی اذیت
نہیں اُٹھانا پڑی
میں نے محبت بھی کی
اور اُسے کھویا بھی
کیا اِس سے زیادہ تکلیف دہ
بات کوئی ہو سکتی ہے
کہ جس سے محبت کی جائے
اُسے اپنے ہاتھوں سے
کھو دیا جائے !!
لیکن میں نے ایسا کیا تھا !!