طاہر چودھری ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ:
”یہ واقعہ کل ملتان کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آیا ہے۔ اس لمبے قد والے حیوان نے ایک ویٹر کو صرف اس بات پر پیٹنا شروع کر دیا جس نے کہا تھا سر یہاں باہر سے کھانا لا کر کھانا الاؤڈ نہیں ہے۔
اس لمبے قد والے حیوان کا کوئی بھائی وغیرہ مبینہ طور پر سی پی او آفس ملتان میں تعینات ہے۔ یہ ہر بات پر کاٹنے اور مارنے کو دوڑتا ہے۔ ریسٹورنٹ والوں نے پولیس کو رپورٹ کیا ہے معاملہ۔ پتہ نہیں پولیس نے کوئی کارروائی کی ابھی تک یا نہیں۔ یا مبینہ بھائی ان سی پی او آفس نے مینیج کر لیا۔“
تابش ہاشمی کا مستقبل روشن ہے۔ پروگرام شروع بھی ہوتے ہیں ختم بھی ہوتے ہیں مگر آپکا کردار اور صلاحیتیں ہمیشہ آپکے ساتھ رہتی ہیں۔ میں نے تابش کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نکھرتے دیکھا ہے۔بے فکر رہیے انکا سفر جاری رہے گا۔
@KhawajaMAsif محترم خواجہ صاحب! جناب محسن نقوی کے رُتبہ ، مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے جس طرح محنت سے آپ نے "معذرت خواہانہ" ٹویٹ لکھا ، مجھےاچھا لگا۔جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کے جارحانہ انداز گفتگو کے "جن" سیانے ہیں😊
بٹگرام تھانہ شملائی کی حدود شیڑہ ملکال گلی سے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور اغواء ہوئے 48 گھنٹے گزر گئے
والد کے مطابق درجن سے زائد ملزمان نے گھر پر دھاوا بولا تھوڑپوڑ کی اسلحے کے زور پر مجھے اور اہل خانہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ملزمان نے کم عمر بچی کو اغواء کرکے مبینہ طور مانسہرہ لے گئے چائد پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ بٹگرام خاموش
متاثرہ فیملی نے آئی جی خیبرپختونخوا ڈی آئی جی ہزارہ ڈی پی او بٹگرام سے بیٹی کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے
@policebattagram@SohailAfridiISF@PoliceHazara@YarMKNiazi@OfficialShehr
کوٹ لکھپت جیل سے ملٹری قیدی جان محمد کی لکھی ہوئی نظم:
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
اک عمر چلے، گھر نہیں آیا
راحتوں کا تقدس، عقیدتوں کا بوجھ
پھر اپنی راہ کی پیچان، اپنے گھر کی تلاش
ہم انکی قید سے چھوٹیں تو کیسے چھوٹیں
بجائے اس کے ہم ان سے سُرخرو ہوتے
انہوں نے زخم دیئے ایسے کہ بھر نہیں پائے
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
عمران خان کو تین سال سے جیل میں بند کیا ہے۔ اس کی جماعت توڑ دی ۔ اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا ۔ اس کا مینڈیٹ چوری کر لیا۔ اس کے ایم این ایز خرید لئے۔ اس کا بندوبست کرنے کے لئے آئین بدل دیا۔ اس کی ایک جھلک تک دکھانا گناہ ہو گیا۔ اس کا نام لینا جرم بن گیا۔ وہ عمران خان سے بانی پی ٹی آئی بنا دیا گیا۔ اس کی تصویر پر پابندی لگا دی گئی ۔ یہ سب اس نیت سے کیا گیا کہ ہم اس کے بغیر ملک چلا کر دلھائیں گے یہ اناڑی ہے ہم تجربے کار ہیں ہم بہت بڑے فنکار ہیں لیکن آج تجربہ کار فنکاروں نے ہاتھ اٹھا کر توبہ کر لی ہے کہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہم تو کولیپس کر گئے۔۔
یہ آپ کا اعتراف شکست ہے ،اس شخص کے سامنے سرینڈر ہے جس کے خلاف آپ نے یہ سب کیا۔ اب بھی وقت ہے قبلہ درست کریں امانت حقدار کو لوٹائیں اور تائب ہو جائیں
مرد اہلکاروں کا گھروں کی دیوار پھلانگ کر سینکڑوں عورتوں کو گھسیٹنا، مارنا، اغواء اور قید کرنا،
عبادت گزار عورت کو جادوگرنی کہنا، وفادار عورت کا نکاح اچھالنا،
بیمار کو ناحق 300سال سزا سنانا
ماؤں کو تھانے کچہری میں پھرانا
نقاب کھینچ کر تصویر "اوپر" بھیجنا
کیا یہ اسلام کا طریقہ ہے؟
5 اکتوبر 1998ء کو جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی تجویز دی تو نواز شریف نے اسے سویلین بالادستی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے آرمی چیف کو رخصت کر دیا۔ دو دن بعد جنرل کرامت نے کسی آئینی تصادم کے بغیر استعفیٰ دے دیا۔
کل ڈی جی آئی ایس پی آر گڈ گورننس، انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں جیسے خالصتاً سویلین و آئینی معاملات پر کھل کر گفتگو کر رہے ہیں، مگر وہی نواز شریف اج مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔۔
اپنے والدین کا لاڈلا بیٹا فہیم
جس کی جوانی کی قیمتی گھڑیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہیں مگر انصاف آج بھی اس سے کوسوں دور ہے۔
تین سال گزر گئے، مگر سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج تک قانون میں وہ ترمیم نہیں کی گئی جو ملٹری قیدیوں کو اپیل کا بنیادی حق دے۔
فہیم اکیلا نہیں۔ اس جیسے بے شمار نوجوان جن کی پوری زندگیاں ابھی سامنے پڑی ہیں انصاف کی ایک کرن کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
عاصم منیر رجیم نے اپنے ہی قائم کردہ نظام کی تباہی کا پیشگی اعلان خود ہی کر دیا ہے۔ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج کیوں؟
آج مقتدرہ نے اپنے تمام پتے کھیل لئے ہیں انکی سب بیساکھیاں دیمک زدہ ہو چکیں ہیں اور عمران خان انکی بیساکھی بننے کو شاید تیار نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں رجیم مکمل طور پر تنہائ کا شکار ہو چکی ہے اور بقول شخصے فیڈ مارشل کی وارنٹی ختم ہونے کو ہے پاکستان کی شاہ رگ کو قربانی کے بکرے کی رگ کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور اسکی چینلوں نے اسلام آباد، سے لیکر لندن تک پاکستانی اور کشمیریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ مغرب نے جتنا عاصم منیر کو استعمال کرنا تھا کر لیا ہے۔ ایک دھکا اور کی ضرورت ہے
ظالم حکمرانو اور انکے درباریو ۔۔ اس وقت سے ڈرو جب طوق گلے میں ہو گا اور قدم لڑکھڑا رہے ہوں گے
جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے لیکن اس کراۓ کی حکومت اور ان کے ہینڈلرز کا فرعونی قانون ہے
پی ٹی آئی رہنما سلیم بیگ کا نواسہ جیل میں قید کے دوران ہی فوت ہو گیا لیکن پولیس نے کارکن کی لاش کو سنگل سے باندھ رکھا ہے۔
یہ کوئی دھشتگرد نہیں تھا صرف ملک کی ترقی کے لیے مثبت سوچ لے کر اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو .
ایک دن میں فیلڈ مارشل کے گھر ان کے ساتھ چائے پی رہا تھا۔ اِرم بھابھی بھی وہیں بیٹھی تھیں۔ میں نے اِرم بھابھی سے ایک پہیلی پوچھی: آپ کے پاس ایسا کیا ہے جو ہے تو آپ کا لیکن لیتا کوئی اور ہے؟ جس پر اِرم بھابھی گہری سوچ میں پڑ گئیں اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولیں: کیا وہ شعیب اختر بھی لیتا ہے؟ جس پر میں نے کہا: جی وہ بھی لے سکتا ہے۔ اتنے میں فیلڈ مارشل اندر سے بندوق لے آئے اور مجھ پر تان دی۔ میں نے گھبرا کر پوچھا: فیلڈ مارشل صاحب کیا ہوا میں نے ایسی کونسی گستاخی کر دی؟ تو وہ بولے: حرامزادے تم اتنے معصوم مت بنو تم کو سب پتہ ہے۔ تم اچھے سے جانتے ہو شعیب اختر اِرم سے کیا لے سکتا ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں تو “نام” کی بات کر رہا تھا آپ کا تو ذہن ہی گندہ ہے۔ جس کے بعد فیلڈ مارشل نے شرمندہ ہوتے ہوئے بندوق نیچے کر دی اور میں چائے ادھوری چھوڑ کر، دل ہی دل میں فیلڈ مارشل کی سوچ پر لخ دی لعنت بھیجتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔
سہیل وڑائچ کی ڈائری سے