اسی خوشامد نے ایک بہترین خاتون سیاستدان کو بطور حکمران ٹکے ٹوکری کر دیا۔۔۔ پنجاب کا شاید ہی کوئی شہری ہو جو محترمہ مریم نواز صاحبہ کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں نہ دیتا ہو۔۔۔
صاحب یہ بتائیں کہ سندھ میں اگر صوبے بن جائیں گے تو شد کیسے ڈیوائڈ ہو جائے گا بھئی سن تو ایک ہی ہے کوئی یہ علیحدہ ملک تو نہیں ہے صوبہ ہے صوبے کے اندر سے صوبے بنتے رہتے ہیں پیپلز پارٹی والے پنجاب میں صوبے بنانے کا مطالبہ تو کرتے ہیں اپنے صوبے کی طرف کہتے ہیں کہ نہیں
متحدہ قومی موومنٹ والے شاید بوکھلا گئے ہیں ، قرارداد تھی سندھ کی تقسیم کے خلاف اور اس کا واک آؤٹ کر کے باہر جاکر سندھو دیش نامنظور کے نعرے لگائے ، بھئی سندھ اسمبلی یا پیپلز پارٹی کا سندھو دیش سے کیا تعلق ؟ 🤔
سندھ کو تقسیم کرنا ہے تو خون کا دریاء پار کرنا پڑے گا ، وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ
اسان لاء سنڌ وطن آھي ،
اسان کي روح تي پاتل ،
اسان لاء ڄڻ بدن آھي،
اھا ئي آ زمين منھنجي،
اھو منھنجو گگن آھي،
اھا ئي بھشت منھنجي آ،
اھو باغ عدن آھي ،
سردار شاہ نے اپنی نظم کے ساتھ تقریر ختم کی
بہت منطقی سوال اٹھایا @javeednusrat صاحب نے کہ اگر چھوٹے یونٹ ہی مسائل کا حل ہیں تو پھر اسلام آباد سے چھوٹا یونٹ تو کوئی نہیں لیکن اسی اسلام آباد کے ہسپتال میں 14 بچوں کی جان چلی گئی !
نو ماہ کی اذیت، بے شمار تکلیفیں اور پھر بچے کو پہلی بار گود میں لینے کی خوشی، ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر دنیا میں شاید ہی کوئی خوشی ہو۔
آج ان ماؤں کے دکھ کا تصور بھی دل دہلا دیتا ہے، جن کی گودیں اپنے ہی بچوں کے آگ میں جھلس جانے سے اجڑ گئیں۔
اللہ ان ماؤں کو صبر دے۔ آمین۔
ڈٹ کے کھڑا ہے بیانیئے کی حالت یہ ہے کہ عمران خان کی بہن عظمی خان کی طرف سے توہین عدالت کی درخواست میں صرف وزیر اعظم کو فریق بنایا گیا جبکہ محسن نقوی کا نام شامل نہیں
خوف یا خوشامد "کس " کی؟
پی ٹی آئی والے ذرا تحقیق کر لیں کہ اس وقت ان کے "اصل قائد " کون ہیں؟
*عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ہوا تو پمز ہسپتال میں شفا انٹرنیشنل میں نہیں سرکاری ذرائع
▪️ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کرتے ہوئے عمران خان کا بلا تاخیر ہسپتال میں تفصیلی معائنہ کرایا۔ متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی سے عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا۔
▪️ الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے گرد پی ٹی آئی پارٹی کارکنوں، مختلف گروہوں، میڈیا وینز اور نمائندوں کے غیرمعمولی اجتماع نے سنگین سکیورٹی، رازداری اور انتظامی خدشات پیدا کردیے تھے۔ ایسی صورت میں ہسپتال کی تبدیلی سکیورٹی کا تقاضہ بنی اس پر اب حکومت کو سپریم کورٹ کو جواب دینا ہو گا
▪️ عمران خان کو پمز ہسپتال منتقل کرنا علاج یا طبی معائنے سے انکار نہیں تھا، بلکہ انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولت فراہم کی گئی
▪️ حکومتی ذرائع کے مطابق مروجہ طریقہ کار کے مطابق زیرِحراست افراد کو ہمیشہ سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو ماضی میں بھی طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔
▪️ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا۔ عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور انہیں طبی لحاظ سے مکمل طور پر فٹ قرار دیا گیا۔
▪️ حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ، محترمہ عظمیٰ خان، تمام طبی مراحل کے دوران موجود رہیں اور اس پورے عمل کی براہِ راست گواہ ہیں۔ اس سے طبی معائنے کی شفافیت اور خاندان کی نمائندگی، دونوں یقینی بنائے گئے۔
اب بہرحال ڈاکٹر عظمی خان ہی بتائیں گی کہ وہ کیا سمجھتی ہیں کہ علاج ٹیسٹ کیسے ہوئے اور وہ عمران خان کی صحت پر کیا بات کرتی ہیں
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں خرابی کی جڑھ پاک فوج ھے جس نے جمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ھے مگر میری راۓ مطابق خرابی کی اصل وجہ ہمارے ملک کے سیاست دان ہیں جو چند دن کی کرسی کے حصول کیلئے فوج کے ہاتھ پر دست بیعت کرکے 25 کروڑ پاکستانیوں کو یرغمال کروا دیتے ہیں آپکی کیا راۓ ھے
اس دن بزنس مین سمٹ کانفرنس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے اوپر ہاتھ رکھیں ہم اپ کو ڈبل ایکسپورٹ کر دیں گے ہاتھ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بجلی فری گیس فری ایف بی ار فری لعنت ہے سوچ پہ
Chairman sb you have rightly identified business models in Pakistan and its limitations.
If I may add, Over a decade ago, I, along with journalists from Europe and Asia, visited German state of Baden-Württemberg in southwest Germany. We also went to family owned factories doing billions of Euros annual business. Most of these were family-owned SMEs. They were competitive and making profits. Resolution of Trade disputes, which you also identified as a hurdle, was not an issue because of strong and independent judicial system. Above all, the economic environment was competitive and cost of doing business was/is not high.
Our problem is high taxation, high energy costs, low trusts in courts, abnormally high interest rates, low availability of capital and non recognition of SMEs as a true player for economic revival. SMEs owners mostly do not get an audience with PM before or after budget.
@nadia_a_mirza اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس ملک میں جو مافیا ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک ترقی نہیں کر سارے سوسائٹی کے سارے سیکشن جو ہیں وہ مافیا ہیں تعلیم ہو صحت ہو وکیل ہوں صحافی ہوں جج ہوں پولیس ہو یہ سی ڈی سی او برو کیوٹس ہوں اور دوسرے سارے
اس ملک کی اس سے بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو مافیہ ہے وہ کہہ رہا ہے تم لوگ ترقی نہیں کر رہا معافیاں تو سارے ڈیپارٹمنٹ ہیں صحافت ہو وکیل ہو جج ہو ڈی سی ایسی ہوں بیوروکریٹس ہوں پولیس ہوں مطلب عام شاعری ہو ٹال والا ہو ٹیکسی والا ہو ہر مافیا ہے ہر مافیا ہے
محسن نقوی اپنے بل بوتے پر کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے اور بات کررہے ہیں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی، صرف اس لیے کہ اُنہیں ملک کے آرمی چیف نے سیاسی جماعتوں کی گردن دبا کے سینیٹر بنوایا اور وزیر داخلہ بنایا ہوا ہے، لیکن کام وزیر خارجہ کا کرتے ہیں اور اب بات کررہے ہیں نظام کی ناکامی کی۔
نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ آپ نے جس چیز کا حلف اٹھایا ہوتا ہے، آپ وہ کام نہیں کررہے ہوتے۔
پہلے کرکٹ کا بیڑا غرق کیا، پھر ملک میں امن امان کی صورتحال دیکھیں کہ بلوچستان میں کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ وزیرستان اور خیبر پختون خواہ میں روزانہ نہیں تو ہر ہفتے سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہورہے ہیں اور اب چلے ہیں نئے انتظامی یونٹس بنانے تاکہ پورے ملک میں لسانی بلوے شروع ہوجائیں
آپ چاہتے کیا ہیں اور آپ کا مینڈیٹ کیا ہے اتنی بڑی بات کرنے کا؟
کیا آپ کو صدر نے گرین سگنل دیا ہے، وزیراعظم نے، قومی اسمبلی یا سینیٹ، یا کسی صوبے کی اسمبلی نے آپ کو یہ ٹاسک دیا ہے؟
اس ملک کا ہر طبقہ مافیہ ہے چاہے وہ صحافی ہوں وکیل ہوں جج ہوں ڈاکٹر ہوں تعلیم والے ہوں یا جیسے پنجاب کالج والا بہت بڑی بڑی باتیں کرتا ہے لوٹ کھسور اس نے شروع کی ہے محکمہ علی میں یار جتنی مہنگی تعلیم پاکستان میں یا کسی اور ملک میں ہے
نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہیں ، لیپ ٹاپس تقسیم کرنے سے نظام نہیں بدلے گا ، وزیراعظم بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں وہ اٹھارہ گھنٹے بھی کرلیں تب بھی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے ، پارلیمنٹ کے اندر اس پر بحث ہونی چاہئے ، سب کو بند کمرے میں سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا:محسن نقوی