پنجاب کا سٹروک پروگرام ان لوگوں کے لیے امید ہے جنہیں اچانک فالج کا سامنا ہوتا ہے اور بروقت علاج ان کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ہسپتال میں 42 سالہ ڈرائیور سے ملاقات ہوئی جسے گاڑی چلاتے ہوئے سٹروک ہوا، مگر وقت پر ٹی این کے انجکشن ملنے سے بڑے اور مستقل نقصان سے بچنے میں مدد ملی۔ اب اس کی بحالی جاری ہے اور اسے دوبارہ چلنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ تجربہ یاد دلاتا ہے کہ فوری طبی امداد کسی کی زندگی اور جسمانی صلاحیتیں بچا سکتی ہے۔
اگر انہیں بھی پختونخوا والی شب دیگ میں سے تھوڑا “ ٹُکر پا دیا جاتا “ تو کل والی تقریر نہیں ہونی تھی
اور ناظرین خواجہ محمد آصف نے سود سمیت حساب چُکتا کردیا ہے اور گوڈا وچھا کر گینڈ گراونڈ سے باہر سٹ دی ہے
منڈا کلایا دا تسی بوتل پی کے جانا
ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے، جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں۔ جب تک ریاست سے مال لیتے ہیں، ریاست اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ریاست اور حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو۔محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید
استعفا اور وجوہات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بخدمت
صدرِ مملکت، اسلامی جمہوریہ پاکستان
ایوانِ صدر، اسلام آباد
تاریخ: ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء
موضوع: لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ
محترم جناب صدر!
میں، جسٹس محسن اختر کیانی، ذاتی وجوہات، جن میں حالیہ آپریشن کے بعد صحت سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں، اور ذیل میں بیان کردہ ضمیری وجوہات کی بنا پر لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا میرے لیے باعثِ اعزاز رہا ہے۔ عدالتی خدمت کے یہ برس میری زندگی کے بامقصد ترین اور باعثِ اطمینان ادوار میں شامل ہیں۔ اپنے دورِ منصب میں، میں نے مختلف نوعیت کے ۲۳ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ آئین کی بالادستی برقرار رکھوں، بنیادی حقوق کا تحفظ کروں اور کسی خوف یا جانب داری کے بغیر انصاف فراہم کروں۔
تاہم، میری سوچی سمجھی رائے میں، چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی سالمیت کو مجروح کیا ہے۔ میں نے عدالتی اداروں پر انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کا مشاہدہ کیا ہے، جو میری نظر میں ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، اس نوعیت کی مداخلت نے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیر جانب داری پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
خصوصی تشویش کا باعث عام سائل کی حالتِ زار ہے، جو نظامِ انصاف کا بنیادی فریق ہے، لیکن اس کی تکالیف مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ انصاف کے طلب گاروں کی ضروریات کو اکثر نظرانداز کیا گیا ہے، جبکہ دیگر عناصر اُس نظام سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں جو دراصل ان سائلین کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
ان حالات میں میرا ضمیر مجھے جج کی حیثیت سے خدمات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے، لیکن یہ میرے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتی منصب کو آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا، میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں عدالتی منصب سے سبک دوش ہو کر وکالت کی طرف لوٹ جاؤں، جس کے ذریعے میں عوام کی خدمت، ان کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
آخر میں، میں اپنے اساتذہ، ساتھی جج صاحبان اور اہلِ خانہ کا ان کی رہنمائی اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، خصوصاً اس غوروفکر کے دوران بھی جو اس فیصلے پر منتج ہوا۔
بااحترام،
جسٹس محسن اختر کیانی
جج، لاہور ہائی کورٹ
نقل: رجسٹرار، لاہور ہائی کورٹ
پاکستانی ایئرپورٹس پر مسافروں کی سہولت اولین ترجیح بنائی جائے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ائیرپورٹس پر بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھ کر سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی.
وزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی. وزیرِ اعظم نے توسیعی منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے، توسیعی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے، انہیں بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، توسیعی منصوبوں اور مسافروں کی سفری سہولیات کو بہترین بنانے کیلئے اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایات دیں.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ائیر پورٹس پر سفری سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات لی جائیں. ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سہولت فراہم کرنے والے افسران و عملے کو اعلی سروس ڈلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے. ہوائی اڈوں پر موجود مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مزید بہتر بنایا جائے اور مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے. ہوائی اڈوں پر مسافروں کیلئے بہترین کیٹررز کی خدمات لی جائیں اور کھانے پینے کی معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کے بڑے شہروں میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس کو بڑے ائیرپورٹس پر سفری سہولیات کے معیار کو جانچنے کے حوالے سےحال ہی میں بین الاقوامی فرم کے زریعے مکمل کئے گئے سروے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو کراچی اور لاہور ائیر پورٹس کے توسیعی منصوبوں کے علاوہ ملک بھر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مختلف ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن و جاری ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے رن وے کی توسیع مکمل ہو چکی ہے۔
اجلاس کو لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کے ماسٹر پلانز اور ان کے تحت توسیع کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی معینہ مدت پر بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے تعمیر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مقامی پروازوں کی بحال کیلئے 14 ایئر پورٹس فعال کئے ہیں. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے مسافروں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹاف اور کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے.
اجلاس کو بتایا گیا کہ بڑے ائیرپورٹس پر بارڈر مینیجمینٹ کے خودکار نظام (E-Gates) کی تنصیب پر کام تیزی سے جاری ہے۔ مزید برآں کراچی کو ائیر کارگو حب بنانے کیلئے ائیر کارگو ویلیج پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہوائی اڈے پر مسافروں کی سہولت کیلئے میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کی گئی ہے ۔ اسی طرح ایف آئی اے نے ملک کے بڑے ائیرپورٹس پر مسافروں کی بروقت راہنمائی کے لیے پری ڈیپارچر ڈیسک قائم کئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حیدرآباد میں ہوا بازی کے موجودہ ادارے کو مزید بہتر کرکے بین الاقوامی معیار کی ایویشن یونیورسٹی بنائی جارہی ہے جس پر فروری 2028 تک کام شروع کر دیا جائیگا۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، ارکان قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، علی زاہد، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر سردار یاسر الیاس اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
Imaan Mazari and Hadi Chattha Sentenced to 10 Years Each for Removing Security Barriers
Imaan Mazari and husband Hadi Ali Chattha sentenced to 10 years each plus fines for removing security barriers and interfering in official work during the 2024 Pakistan-England Test match security arrangements in Islamabad.
کچھ دن پہلے نون لیگ کے وزیر حنیف عباسی اور دانیال چودھری نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف بہت سخت پریس کانفرنس کی تھی پارلیمنٹ میں۔ میں نے خواجہ اصف سے سوال کیا کہ نون لیگ بہت سخت stance لے رہی ہے مولانا کے خلاف اپ کیا کہیں گے خواجہ اصف نے جواب دیا کہ میں اپنے کولیگز کی کسی بات پر کمنٹ نہیں دیتا۔ سیاست میں یہ سب چلتا ہے کل کے دشمن اج کے دوست ۔اج کے دوست کل کے دشمن۔ اج مولانا فضل الرحمن نے ڈائریکٹ خواجہ اصف کو "کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے والا ان کا جملہ واپس لوٹایا ہے" دیکھتے ہیں خواجہ اصف مولانا کی اس بات کا کیا جواب دیتے ہیں وہ بھی یقینا دھواں دار جواب دیں گے ان کو بھی جوابی وار میں کمال حاصل ہے اب خواجہ اصف کی باری ہے۔ مجھے ان کے جوابی وار کا انتظار رہے گا۔
شوکت بسرا کون ہیں ان کی کیا حثیت ہے عمران خان نے انکو کوئی عہدہ دیا ہوا ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے شوکت بسرا کو اپنے منشی کی حثیت سے رکھا ہوا ہے تو ہمارے لئے کسی منشی کی کوئی ویلیو نہیں ہے، ترجمان بشریٰ بی بی مشال یوسفزئی
اینکر منیب فاروق کا انکشاف:
منیب فاروق کے مطابق، "میں ایک ایسا چھپا ہوا فیکٹ آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں جو آپ کو حیران کر دے گا۔"
منیب فاروق کے مطابق 9 مئی کو جب عمران خان کو گرفتار کر کے ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا، تو وہاں کا ماحول کسی پریشان قیدی والا نہیں تھا۔ +++
کے ایف سی کے بعد مارکیٹ میں ان قریب ایک نئی فوڈ چین آنے والی ہے بی ایف ٹی بھٹی فرائیڈ چکن کیونکہ بھٹی اب ہر براڈکاسٹ میں فل فرائی ہو رہا ہے جیسے ہی عون چوہدری نے یااللہ کہا وہاں سے دعا مکمل ہونے تک بھٹی کی شکل پہ تبدیلی نہیں دیکھی کی تو کچھ نہیں دیکھا۔
کیا کسی اور ملک میں انتی اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہوتا ہونا جتنا افغانیوں نے پاکستان میں مچا رکھا ؟
افغان مہاجرین کی دو نمبری سے بنوائے گئے 3 لاکھ 26 ہزار شناختی کارڈ منسوخ کر دئیے گئے ہیں گزشتہ پانچ سالوں میں 2026 میں 2 لاکھ 54 ہزار 139 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے
دنیا میں کوئی اور قوم ایسی دیکھی جو اُس ملک کو گالی بھی دے جس کے شناختی کارڈ بنوانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرے ؟