وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
12 ربیع الاول کے دن آج سے 1500 برس قبل سرزمینِ مکہ میں نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت نے ظلمتوں کو نور میں بدل دیا اور انسانیت کو عدل، رحمت، مساوات اور وحدت کی نئی راہیں دکھائیں۔ رواں سال، پاکستان سمیت پوری دنیا میں سالِ رحمت للعالمین ﷺ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قراردادیں، جن کی رو سے نبی مکرم ﷺ کی 1500ویں ولادت باسعادت کو ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منانے کا فیصلہ کیا گیا، اس امر کی گواہ ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے محبوب نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنے دستور، قانون اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں.
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک کامل اور ہمہ جہت اسوہ ہے۔ حکومت و سیاست ہو، عدل و انصاف ہو، معیشت اور تجارت ہو، یا معاشرتی اقدار ہوں، سیرتِ طیبہ ہمارے لیے ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن ہمیں واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ "تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے۔"
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہ��، جدید ٹیکنالوجی سے روابط میں تیزی اور فاصلے سمٹ گئے ہیں. ایسے میں ہمیں اپنی نئی نسل کو خیر، علم اور ا��ن کی طرف راغب کرنے کیلئے انہیں حیات طیبہ ﷺ سے روشناس کرانا ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زبان اور کلمہ خیر و بھلائی کے لیے استعمال ہو، اس لئے ہمیں نسل نو کو جدت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے لازوال اصول جو نبی آخرزماں حضرت محمد ﷺ نے امت کیلئے وضح کئے، ان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انکے محبت، بھائی چارے اور امن کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی ترغیب دینی ہے۔
ہمیں اپنے ملک پاکستان کو سیرتِ طیبہ کی عملی تعبیر بنانا ہے۔ ہمیں تعصب، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت کی ہر شکل کو رد کرنا ہے اور بھائی چارے، ایثار اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کو درپیش مسائل چاہے ��ہ معاشی ہوں یا سماجی ان کا پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب ہم نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنائیں۔
آئیں، ہم سب آج کے دن اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم سب ملک پاکستان کو سیرت النبی ﷺ کے سنہری اصولوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہماری پالیسیوں کا مقصد مساوات، غربت کا خاتمہ اور علم و تحقیق کا فروغ ہے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بن سکے۔
میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے، اتحاد و یگانگت عطا فرمائے، اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی محبت و اطاعت میں زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین۔
عمران خان شوکت خانم کا بیٹا ہے قاسم سلیمان جمائمہ کے بیٹے ہیں شاہریز شیرشاہ علیمہ کے بیٹے ہیں اس خاندان میں ماں کنفرم ہوتی ہے لیکن باپ کا نام پتہ نہیں ہوتا😂🤣
Deeply saddened by the devastating earthquake in eastern Afghanistan, which shook Kabul & was also felt in various parts of Pakistan, including Islamabad.
With reports confirming hundreds of precious human lives lost & villages destroyed, our hearts go out to the victims and their families.
On behalf of the people and Government of Pakistan, I extend my heartfelt condolences & prayers to the bereaved families.
We stand in solidarity with our Afghan brothers & sisters in this hour of grief, and we are ready to extend all possible support in this regard.
🇵🇰🤝🇦🇫
Chief Minister Punjab @MaryamNSharif sometimes like a mother, sometimes like a daughter, and sometimes like a sister, is taking care of her people in the flood situation.
بہاولنگر میں رہنے والے سپیرے آغا حمید کا نام سن کر ایک عرصہ تک خوف کھاتے رہے
قصہ یہ تھا کہ کچھ عرصہ پہلے آغا حمید نیکر اور بنیان پہنے اپنی باری کے مطابق صحن میں کھڑے برتن دھو رہے تھے کہ ایک سپیرا بین بجاتا ہوا ادھر آ نکلا، اشارے سے سپیرے کو اندر بلایا ۔ سپیرا سانپ کی پٹاری اٹھا کر صحن میں آ گیا پٹاری کا ڈھکنا کھول کر سانپ کو باہر نکالا اور سانپ کے گن بتلانے شروع کر دیئے۔ آغا حمید نے پروفیسر لودھی کو اشارہ کیا اس نے دروازہ بند کر دیا اور خود اندر جا کر پروفیسر غضنفر کا پستول اٹھا لائے اور آتے ہی ایک ہوائی فائر کر دیا۔ سپیرا یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گیا آغا حمید اس سے کہنے لگے:
پٹاری بند کر اور اٹھ کر برتن صاف کر نہیں تو میں تجھے گولی مار دوں گا
سپیرے نےجلدی سانپ پٹاری میں رکھا اور سہم کر بیٹھ گیا۔ آغا حمید نے پھر پستول لہرا کر کہا۔ " گولی مارنا میرے لیے بہت آسان ہے پولیس آئی تو کہوں گا کہ سپیرا سانپ پھینک کر لوٹنا چاہتا تھا اس لیے میں نے گولی ماری ہے۔
سپیرا آغا حمید کی بات سن کر گھبرا گیا سپیرا اٹھا اور جا کر برتن دھونے لگا، اس نے کپڑے بھی دھوئے ، گھر کی صفائی کی شام کے وقت فارغ ہوا۔ آغا حمید نے اس کے ہاتھ پر پچاس کا نوٹ رکھا اور کہا حق حلال کی کھایا کر۔
سپیرا اپنی پٹاری اٹھا کر گھر چلا گیا اور سارے سپیروں کو بلا کر اپنے ہاتھوں پر پڑے چھالے دکھائے اور رو رو کر کہنے لگا شہر جانا مگرپروفیسروں کے گھر کی طرف نہ جانا، ورنہ برتن دھونے پڑیں گے.
(احمد عقیل روبی کی کتاب کھڑے کھوٹے سے)
دھاندلی کے الزامات سے حقائق کو دھندلایا نہیں جا سکتا۔ دھونس، دھاندلی اور دھرنے کی چیمپئین پارٹی 2018 کے الیکشن کے آئینے میں خود کو دیکھے تو انہیں اپنا ہی چہرہ نظر آئے گا۔ اس کے باوجود ہم اب بھی ان سے کہتے ہیں کہ اپنی اکثریت ثابت کر دیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار ہیں۔