انڈیاکےسابق RAWچیف وکرم سودکہہ رہے:
"قوموں میں سب سےsmart play پاکستان نےکیا ہے. میرا خیال ہےکہ ہمارےوزیرخارجہ کو انکیstrategies سےسیکھنےکی ضرورت ہے."
---
✌️🇵🇰
میں نے صرف پاکستان کا نام سنا رکھ تھا اب میری خواہش ہے جلد پاکستان جاؤں پاکستان کے وزیراعظم اور چیف کو براہ راست دیکھوں وہ کیسے لوگ ہیں جو پوری دنیا کے فیصلے کر رہے 😋🥳
ابھی ایک لنڈے کے دانشور کی پوسٹ دیکھی۔۔ جو خود کو شاید خارجہ پالیسی کا ماہر سمجھتا ھے۔ اسکو فقط اتنا کہنا ھے کہ
ہمارے حکمرانوں کو ہر دور میں امریکہ کا ٹاؤٹ ہونے کا طعنہ ملا ہے۔
ان ٹاؤٹوں اور غلاموں نے ایٹم بمب بھی بنا لیا، میزائل بھی بنا لئے۔۔ امریکہ کی مدد سے جو جنگ پشاور میں آنی تھی وہ کابل میں لڑ کر جیت بھی لی، سویٹ یونین سے 71 کا حساب بھی پورا کر لیا، امریکہ کی مدد سے امریکہ کو افغانستان میں ہرا بھی دیا، ابھی آئی سی بی ایم بھی بنا لے گا اور آج سے کچھ برس بعد جب مورخ قلم اٹھائے گا تو وہ یہ ضرور لکھے گا کہ کیسے جو فرشتے کبھی اسلام آباد سے اڑ کر کابل میں نصرت کیلئے اترتے تھے، وہ ایران کے کوچہ و بازار میں اترے۔۔۔۔
مگر ملاں کو کیا پتہ۔۔۔اسے یہ چیزیں پڑھائی نہیں گئیں۔۔۔اسے ایک سلیقے سے بابا دولے شاہ کی چوہی بنایا گیا ہے۔۔۔۔جس کا کام بس ٹر ٹر کرنا ہے۔۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔
یادش بخیر ،جب حافظہ عاصم منیر کو سپہ سالار بنایا جارہا تھا تو طفلان انقلاب نے ان کے اہلخانہ کی ٹریول ہسٹری نکال کر سعودی عرب کو شکایت لگائی کہ یہ ایران بہت جاتے ہیں کیونکہ شیعہ ہوگئے ہیں۔ایسے شخص کو آرمی چیف نہ بننے دیں۔آج وہی طفلان انقلاب یہ بات ثابت کرنے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں کہ عاصم منیر شیعہ کمیونٹی اور ایران کے خلاف ہیں۔کیا غلط کہہ دیا آرمی چیف نے ؟ جنہیں پاکستان سے زیادہ ایران سے پیار ہے وہ وہیں جا بسیں ،ملکر جنگ لڑیں ،مارے گئے تو شہید ذندہ رہے تو غازی
پاکستان سب کا لیکن پاکستان کا کوئی نہیں !
چین کو دنیا میں متعارف پاکستان نے کروایا
الجیریا اگر آج آزاد ہے تو پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ہے
پاکستان ہی کی بدولت آج سری لنکا دہشتگردی سے پاک ہے
بوسنیا کو آزادی ہماری وجہ سے ملی
افغانستان پر جب روس نے قبضہ کیا چالیس لاکھ افغانی ہم نے پالے اپنا لہو دیکر افغانستان کو آزادی دلوائی
بوسنیا میں ہم تھے جس کے سربراہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو چلتے میزائلوں میں ان کے پاس پہنچے بوسنیا کو آزادی ہم نے دلوائی
میانمار کے مسلمانوں کو ہم نے پناہ دی
داستان بہت طویل ہے لیکن کسی سے کیا شکوہ کریں ہم نے خود اپنی بچوں کو تاریخ نہیں پڑھائی
ارسطو صاحب ، تھوڑی سی تحقیق کر لیا کرو ۔ جنرل ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو شہید ہوئے، جبکہ طالبان تحریک کا آغاز اس کے 6 سال بعد 1994 میں قندھار سے ہوا۔ ضیاء الحق کے دور میں جن مجاہدین نے روس کو شکست دی، طالبان نے 1996 میں انہی مجاہدین سے جنگ کر کے اقتدار چھینا تھا۔ جو تحریک ضیاء صاحب کی زندگی میں وجود ہی نہیں رکھتی تھی، اس کے بارے میں ان کا بیان کوٹ کرنا جہالت ہے۔ 1979 کے مجاہدین اور 1994 کے طالبان میں فرق کرنا سیکھیں،
ایک گاؤں میں ایک تاجر آیا اور اعلان کیا کہ وہ ہر بندر 10 روپے میں خریدے گا۔
گاؤں والوں نے بہت بندر پکڑ کر دے دیے۔ کچھ دن بعد بندر کم رہ گئے تو اُس نے کہا:
اب ہر بندر کے 20 روپے دوں گا۔”
لوگوں نے پھر کوشش کی اور بندر پکڑ کر دیے۔
پھر اُس نے قیمت بڑھا کر 50 روپے کر دی۔ اب بندر بہت کم رہ گئے۔
ایک دن وہ تاجر شہر چلا گیا اور اپنا ملازم چھوڑ گیا۔
ملازم نے گاؤں والوں سے کہا:
یہ سارے بندر پنجرے میں ہیں، تم 35 روپے میں مجھ سے خرید لو،
جب صاحب واپس آئیں گے تو 50 روپے میں بیچ دینا، تمہیں منافع ہوگا۔”
لوگوں نے لالچ میں آ کر سارے بندر خرید لیے۔
اس کے بعد انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اسسٹنٹ کو، بس ہر جگہ بندر ہی بندر تھے۔
اسے کہتے ہیں اسٹاک اور کرپٹو مارکیٹ۔۔
سپرائٹ کی بوتل میں نمک ڈال کر اوپر آتی جھاگ کو دیکھ کر اپنے آپ کو سائنس دان سمجھنے والے افراد
اور وہ خواتین جو لان کے سادے سوٹ پہ 120 روپے گز والی دو رنگی لیس لگا کر ماریہ بی اور ثناء سفیناز کو اپنی طرف سے ٹف ٹائم دے رھی ہیں
۔
وہ نئی نویلی دلہنیں جو ناشتے میں شوہر کے لیے انڈہ اور بریڈ بنا کر سمجھتیں ہیں کہ انہوں نے گھر مکمل سنبھال لیا ہے
۔
وہ تمام افراد جو جمعے کو واٹس ایپ پہ اسلامی اسٹیٹس لگا کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنت الفردوس میں جانے کا راستہ ہموار کر لیا ہے
وہ ویلے افراد جو محلہ میں تین مرلہ کا سنگل سٹوری مکان سیل کروانے کے بعد اپنی بیٹھک میں پراپرٹی ڈیلر کا دفتر کھول کر اپنے آپکو ملک ریاض سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
۔
وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں جو ڈیٹنگ پہ اپنے کو چھپانے کےلیے ماسک کا استعمال کرتے ہیں
۔
وہ بزرگ حضرات جو مسجد میں بچوں کو اٹھا کر پچھلی صفوں کیطرف ایسے پھینکتے ہیں جیسے سبزی والا گاہک کو متاثر کرنے کےلیے ایک آدھ گلا سڑا ٹماٹر اپنے پیچھے کی طرف پھینکتا ہے
۔
وہ چھٹی/ساتویں کلاس کے طالب علم جو نئے سوئچ پہ تار لگا کر خود کو الیکٹریکل انجینئر سمجھتے ہیں
وہ افراد جنہوں نے اپنے موبائل فون پہ چار قسم کے وی پی این ڈاؤن لوڈ کر رکھے ہیں اور رِنگ ٹون یہ لگائی ہوئی ہے ۔ کرم مانگتا ہوں عطاء مانگتا ہوں
۔
وہ آٹھویں پاس انکل جو عبقری دواخانے کے
نسخے یاد کر کے اپنے نام کے ساتھ مستند حکیم لگا رہے ہیں ۔اور اپنے آپ کو حکمت کا بادشاہ سمجھتے ہیں
۔
وہ نندیں جو بھابھی کی غیر موجودگی میں اس کے کمرے کی پھّرولا پھُرالی کرتی ہیں
۔
وہ خود کو مرد کہلانے والے حضرات جو صرف خالی خولی باتیں ہی بناتے ہیں اور کام انکو کوئی کرنا نہیں
وہ ڈرائیور جو بغیر انڈیکیٹر دئیے مُڑ جاتے ہیں کہیں بھی
وہ تمام لوگ جو آپ سے بلاوجہ کی حسد میں اپنا منہ لال اور نیت کالی رکھتی ہیں
اِن سب کو چھوڑ کر باقی سب معزز انسانوں کو
عید کا تیسرا دن مبارک مبارک مبارک
☺️😁😆😂
#EidMubrak #عيد_الفطر_١٤٤٧ه #eid #EidAlFitrCompetition
اسرائیل اور ایران کی آپس میں سب سے زیادہ تجارتی تعلقات ہیں اسرائیل اور ایران ایک ہی ہیں
قوم یوتھ کے دو عظیم مفکر صابر شاکر اور سامع ابراھیم کی پاکستان کے چینل پر ایک گفتگو
آجکل یہ دونوں بھی ایرانی بننے کا ڈرامہ کر رہے ہیں
مودی نے جو کیا ہے وہ انڈیا کی تاریخ کے وہ Blunders ہیں جو 70 میں نہیں ہوے ۔
انڈیا کبھی بھی اسرائیل جیسی Declining پاورز کے ساتھ مل کر ترقی نہیں کر سکتا ۔
پاکستان کی فارن پالیسی آج تاریخ کے بہترین مقام پر ہے چائنہ ، روس اور پاکستان اب اتنے قریب ہیں
https://t.co/mZBw3b5Doz