پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کا آغاز کراچی سے ہوا
جب ایم کیوایم کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا
بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کراچی میں سیاسی کارکنوں کے جعلی مقابلوں میں قتل کی بنیاد پر ختم ہوئی
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آج مورخہ 11اکتوبر2026ء کو پاکستان کے واحد صوبہ خیبر پختونخوا (KPK) میں قائم منتخب جمہوری حکومت کے روشن جمہوری چراغ کو بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کی طوفانی ہواؤں نے بجھا ڈالا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
Condolence Message from MQM Founder and Leader Mr. Altaf Hussain
#NanaPatekar RIP
MQM Founder and Leader Mr. Altaf Hussain expresses profound grief and heartfelt sorrow over the sad demise of legendary Indian actor Nana Patekar.
In his condolence message, Mr. Altaf Hussain said:
“I am deeply saddened and shocked by the sudden passing of the legendary Nana Patekar. He was not just a phenomenal actor, but an institution of cinema whose extraordinary talent, versatile roles, and powerful performances touched millions of hearts across the world.
Nana Patekar’s remarkable contribution to Indian cinema transcended geographical boundaries, earning him immense love and admiration from audiences across generations.
He was truly irreplaceable. No one can ever take his place in Indian cinema, and he will forever remain in the hearts of millions of admirers around the world. His artistic brilliance and iconic legacy will continue to inspire generations to come.
My heart goes out to his bereaved family, friends, colleagues, the entire Indian film fraternity, and millions of fans during this immensely difficult time. I extend my deepest condolences and heartfelt sympathies to everyone mourning this profound loss.
May his soul rest in eternal peace, and may his loved ones find strength and comfort during this difficult time.
Great artists never die; they live forever through their unforgettable contributions and in the hearts of millions.”
Altaf Hussain
Founder and Leader
Muttahida Quami Movement (MQM)
London, United Kingdom
@AltafHussain_90@OfficialMQM@filmfare@producers_guild@ANI@toientertain
Look at the energy. Look at the commitment. Look at the courage. Look at the tone. Look at the confidence. Look at the freshness. There's so much to look at... and then, look at yourself (MQM Pakistan).
بہترین---- زاہد بھائی، یہ کسی دوست یا تعلق کے لئے گاف مروائی ہے یا خود اڑتا تیر لینے کا شوق ہورہا تھا؟؟ یہ کیس شروع ہوکر ختم ہوگیا لیکن زاہد بھائی جو کہ معروف "انویسٹیگیٹیو جرنسلٹ" ہیں، انہیں اطلاع نہیں ملی۔
ہمیں معلوم ہے کہ آپ گشکوری ہیں، کیوں بار بار یہ ثابت کرنے کے کوشش کرتے ہیں؟
@sabheenghoury اسی سے نوے فیصد مہاجر الگ صوبہ چاہتے ہیں مگر اس کے باوجود چار کروڑ کے شہر میں صرف چند ہزار بمشکل جمع ہوئے متحدہ پاکستان کی ریلی میں جو ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ مہاجر قوم کو الطاف بھائی کے غداروں میں کوئی دلچسپی نہی۔ متحدہ پاکستان والے صرف ذلیل ہونگے۔ انشاءاللہ
میں فوج کے خلاف نہیں، غیرمنصفانہ اور ظالمانہ سسٹم کے خلاف ہوں۔ الطاف حسین
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں کبھی کسی کے خلاف نہیں تھا، میں غیرمنصفانہ اورظالمانہ سسٹم کےخلاف تھا، میں فوج کے خلاف نہیں، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں ہر ملک کے دفاع کے لئے فوج کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں بھی فوج ضروری ہے لیکن وہ اپنے آئینی دائرہ کار سے باہررہ کرکام کررہی ہے، تمام اداروں پر سویلین کے بجائے فوج کے افسران متعین ہیں۔ملک کا پورانظام فوج کے حکام کے ماتحت ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy)ہے یعنی ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعےچلایا جارہاہے۔برطانیہ میں شہریوں کواپنے آرمی چیف کانام تک معلوم نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں آرمی چیف سے لیکرتمام اہم عہدوں پر فائزفوجی حکام کے نام اور تفصیلات بچے بچے کومعلوم ہوتی ہیں۔ فوج کے جرنیل سیاسی معاملات میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔میں فوج کے خلاف نہیں، فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں، میں کرپٹ سیاستدانوں، فیوڈلزاورکرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں،جب میں نے سیاست میں فوج اور سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف بات کی تومجھے فوج کا مخالف اور ملک دشمن قراردیدیا گیا۔ پنجاب، کشمیر پورا ملک میرے مخالف ہوگیا۔ 1992ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نوازنے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا منصوبہ بنایا، قوم کودھوکہ دینے کے لئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست تیار کی، اس فہرست میں الطاف حسین یااس کے بھائیوں بہنوں یا ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے نام نہیں تھے بلکہ آصف زرداری، بینظیر کے کامدار، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم، پیرپگارا مرحوم اور دیگربڑے بڑے وڈیروں کے نام تھے اورقوم کو یہ بتایا گیا کہ سندھ میں بڑے بڑے ڈاکوؤں، اغوا برائےتاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں کے خلاف فوجی آپریشن کیاجائے گا۔جبکہ میں نے واضح الفاظ میں اس خدشےکااظہار کردیا تھا کہ یہ آپریشن اصل میں ایم کیوایم کے خلاف ہوگا۔میری بات سچ ثابت ہوئی اورفوج نے 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا۔اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، سینکڑوں کو لاپتہ کردیا،بہت سےلاپتہ کارکنان کئی برسوں سے آج تک لاپتہ ہیں۔سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈ پر ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کومارکراسلا م آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیاگیا تھا۔ آپریشن کے دوران فوج پورے پورے علاقوں کے محاصرے کرکے نوجوانوں اور بزرگوں کو گھروں سے نکال کران کی قمیضیں اتار کر انہیں بھیڑبکریوں کی طرح میدانوں میں جمع کرتی اوراس دوران گھروں میں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی، جیسامشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا۔
جب ایم کیوایم کےخلاف آپریشن ہورہا تھا اورہماری لاشیں گرائی جارہی تھیں تو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں لوگ خوشیاں منارہے تھے اورپاک فوج زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ جب 9مئی کے واقعے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کےکارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں توپی ٹی آئی والوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پر بہت ظلم ہورہا ہے۔میں کہتاہوں کہ جتنا ظلم ایم کیوایم اورمہاجروں کے ساتھ ہواہے اس کا پانچ فیصد بھی پنجاب میں پی ٹی آئی والوں پر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر، پارٹی ذمہ داران اورکارکنان شہید کئے گئے؟ کتنے لوگ لاپتہ کئے گئے؟
میں پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کو تبدیل کرناچاہتا تھا اورآج بھی موجودہ کرپٹ سیاسی نظام حکومت کی تبدیلی چاہتاہوں۔ میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلاناچاہتا ہوں، میں میں ایساسسٹم چاہتاہوں کہ ہرشہری کویکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کامذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19 ستمبر 2026ء
Muttahida Qaumi Movement (MQM) founder and leader Altaf Hussain celebrated his 73rd birthday in Edgware, north London, surrounded by party workers and supporters, just days after two masked men attempted to force their way into his home.
قوم کا پیسہ اپنے سیاسی مالاکھڑوں پر خرچ کروانے والی اسٹیبلشمنٹ۔ سیدھا سیدھا قوم اور الطاف حسین سے معافی مانگے۔ تماشہ لگا کر رکھا ہوا ہے یہ غدار وہ غدار!
الطاف حسین کو مکمل آزادی ہونی چاہیے سیاست کرنے کی۔ زرداری اور اٹھارہ سالہ PPP آسمان توڑ کرپشن سے نجات کا واحد حل! الطاف حسین
میرے گھر پر حملہ کرنے والے سمجھ رہے تھے کہ وہ مجھے ڈرا دیں گے
لیکن دیکھ لو
میں آج کے پروگرام میں آگیا
اور صحافی حضرات بھی دیکھ لیں کہ اس ہال میں کوئی سیٹ خالی نہیں ہے
#17SepBirthdayOfAltafHussain
وہ سمجھ رہے تھے کہ میں خوف زدہ ہوجاؤنگا مگر الطاف حسین اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف جو دھمکی آمیزبیان دیا ہے کہ اگرکسی نے لانگ مارچ کرنے اوراسلام آباد آنے کی کوشش کی تونتائج کی ذمہ داری آنے والوں پر ہوگی، یہ بیان افسوسناک ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ نے یہ واضح حکم دیاتھا کہ عمران خان کو شفااسپتال منتقل کیا جائے، توحکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟
لانگ مارچ ایک سیاسی عمل ہے، لیکن کیا اب کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرے گی یانہیں؟ سپریم کورٹ کے حکم پر دوسری عدالت کامعاملے میں مداخلت کاعمل عجیب ہے، عدالتوں کا وقارچور چور اورٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، عدالتوں کا سارانظام الٹ پلٹ ہوکررہ گیاہے۔
میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں،ارکان اسمبلی اورکارکنوں سے کہتا ہوں کہ آپ کوعمران خان کی عمر اورجیل میں قیدتنہائی میں جو ان کی حالت ہے اس کوپیش نظررکھناچاہیے اورانہیں ڈرنانہیں چاہیے اورکسی بھی قیمت پر بڑی تعدادمیں نکلناچاہیے اوریہ سمجھ لیناچاہیے کہ ”اگر اس مرتبہ نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 471 ویں فکری نشست سے خطاب
18 ستمبر 2026ء
“I was not afraid yesterday, nor am I afraid of yesterday’s attack. Altaf Hussain”
#LongLiveAltafHussain
“Altaf Hussain has never been afraid, nor will he ever be afraid. He has never bowed down, nor will he ever bow down.”
The incident in which masked individuals attacked my home is deeply regrettable. The attackers climbed over the gate and attempted to enter the house by breaking the glass of the entrance door, but they fled when the security alarm went off. By the grace and mercy of Allah Almighty, and through the prayers of mothers, sisters, elders, young people, children and the entire nation, Allah protected me from this attack.
I have faced several attacks in Pakistan before. On 21 December 1991, I was attacked with a hand grenade in the Federal B Area of Karachi, at Aisha Manzil. Allah protected me on that occasion as well. Following that incident, at the request of my colleagues, I came to London and continued the struggle from here.
Even after coming here, whenever my birthday approached, the establishment would carry out some act or another aimed at turning the celebrations of 17 September into tears. Sixteen years ago, Dr. Imran Farooq, the Shaheed-e-Inqilab, was also murdered in London on 16 September, one day before my birthday. During the course of the movement’s struggle, dozens of similar incidents were carried out.
I have been arrested several times in Pakistan. I was subjected to torture in detention centres and kept in solitary confinement. I have seen death from close quarters many times.
To those who seek to take my life, I want to say: “Kullu nafsin dha’iqatul maut” — every soul shall taste death. Every human being has to taste death.
I was not afraid of such attacks yesterday, and I am not afraid of the attack that took place the previous day.
I want to make it absolutely clear once again to all governments and all my adversaries and enemies: Altaf Hussain has never been afraid, has never bowed down, will never be afraid and will never bow down. If Altaf Hussain bows his head, he will bow it only before Allah Almighty. He will not bow before even the most powerful person or authority.
The word “Hussain” is part of my name. I have deep love and devotion for this sacred name. Because of this association, I can follow in the footsteps of Hussain and have my head cut off, but I cannot bow my head before any Yazid of the time or pledge allegiance to him.
To all loyal colleagues, do not be worried. By the grace and mercy of Allah Almighty, your brother Altaf Hussain is still alive.
There is neither any weakness nor any sign of fear in your brother’s voice. Altaf Hussain has never learned to fear anyone except Allah Almighty.
Altaf Hussain
Addressing the 471st Ideological Session on TikTok
18 September 2026
تاریخوں کے معاملے میں یاداشت ہمیشہ کمزور رہی ہے، بیگم سے ہر سال دو دفعہ کی لڑائی ضروری ہے، ایک شادی کی تاریخ اور اسکا جنم دن---- بچوں کی برتھ ڈیز یاد دلائی جاتی ہیں----- لیکن ایک دو چار تاریخ ایسی ہیں جو ذہن پہ نقش ہیں، ان میں ایک ہے
۱۷ ستمبر
قائد آپ سلامت رہیں، صحت مند رہیں
#17SepBirthdayOfAltafHussain
دو نقاب پوش افراد کود کر گھر کے اندر داخل ہوئے، بڑے گملے سے دروازے کاشیشہ توڑا ۔
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے گھر پر حملے کے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا
@metpoliceuk@10DowningStreet