میں نے ابھی وفاقی حکومت کے نمائندوں کی پریس کانفرنس سنی ہے اور اس حوالے سے چند بنیادی حقائق اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔
میرے حوالے سے جو بات کی گئی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ہمارے لیے پاکستان کا امن، سلامتی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ سب سے اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔ لیکن میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہو، جب اس کے نتیجے میں امن قائم ہونے کے بجائے بدامنی بڑھتی جائے، تو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا؟ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا موجودہ پالیسی واقعی مطلوبہ نتائج دے رہی ہے؟
خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ چالیس سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کبھی افغان جنگ، کبھی وار آن ٹیرر اور کبھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ہمارے صوبے کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا گیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کاروبار تباہ ہوئے، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوا۔
آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو امن دو اور ہمارے صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کرو۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی قیادت میں ایک وسیع البنیاد امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، کاروباری نمائندوں، حکومتی شخصیات اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت تمام متعلقہ حلقوں نے شرکت کی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ اور قرارداد منظور کی گئی، جس میں امن کے قیام کے لیے واضح سفارشات اور مطالبات پیش کیے گئے۔
یہ قرارداد اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان متفقہ سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ صوبے کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں کی اجتماعی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی مسائل کے حل کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پہلے غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے تھے اور اب دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ قومی یکجہتی کے لیے مفید ہے اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کا متبادل۔
ایک طرف ہمارے صوبے کے وزرا، منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے واقعات سامنے آتے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت پر انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات اور قانونی تحفظ کو ہی نظرانداز کیا جائے تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کیسے قائم ہوگا؟
اسی طرح خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
وفاقی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ وفاقی نظام کے تحت اس کا جائز حق ہیں۔ امن و امان کی ذمہ داریاں صوبے پر ڈال کر اسے مطلوبہ وسائل سے محروم رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے وسائل فراہم کیے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمہ واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر وفاق واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے سیاسی بیانات کے بجائے عملی تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دینا ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔
یہ آواز حضرت علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کی اصل آواز ھ
جو کہ ریڈیو پاکستان کی لاٸبریری میں محفوظ تھی
اور حال ہی میں BBC نے آن اٸیر کی۔ علامہ صاحب ایک محفل میں اپنا کلام اپنی زبان سے سناتے ہوۓ🌺
اقبال کی شاعری کو اقبال ہی پڑھے تو سننے کا مزہ آتا ھے❤️
Heroes from East Pakistan who fought for their country against India in 1965 War.
The Bengali song used here, immortalized as a patriotic song, was composed during the war of 1965 which translates as,
My whole mind is filled with the smell of the soil of my country
Nothing more is needed than this green tender embrace.
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں باوردی فوجی افسر کی فائرنگ، پولیس افسر نے نوجوان کو ڈندے مارے جس کے بعد طلبہ مشتعل ہوئے، کرنل کو دھکے دیئے، کرنل صاحب نے طلبہ پر فائرنگ کی کوشش کی لیکن گولی نہ چل سکی، بعد ازاں ہوائی فائرنگ کی،اسلام آباد پولیس کے سینیئر افسران موقع پر پہنچ گئے
استغفر اللہ 🙏
یہ لڑکی پشتو زبان میں بول رہی ہے۔ وہ ایک نشے کی عادی لڑکی ہے جو آئس (Ice کرسٹل میتھامفیٹامین کے نشے کی وجہ سے تباہ حال ہے۔
یہ یوسف خان یوٹیوبر سے کہتی ہے میرا انٹرویو کرو
آئس بہت خطرناک نشہ ہے۔
یہ لوگوں کو مکمل برباد کر دیتا ہے۔
وہ بتائے گی کہ یہ نشہ کہاں سے ملتا ہے، لوگوں کو کیسے پھنسایا جاتا ہے۔
ایک ٹک ٹاکر نے اسے اس نشے میں پھنسایا۔
اب اس کی حالت بہت خراب ہے — وہ ایک وقت میں **دس دس انجکشن** لگاتی تھی۔
وہ خود کہتی ہے کہ "میں مرنے والی ہوں، لیکن لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں" تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔
یہ لڑکی اپنی بربادی کی کہانی سنا کر لوگوں کو آئس کے نشے سے بچانے کی اپیل کر رہی ہے اور یوسف جان سے انٹرویو کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بہت افسوسناک اور حقیقت پسندانہ ویڈیو ہے۔ 😔
نواب آف کالا باغ
جن نوابوں کے گھروں سے نکلنے پر سارا شہر رک جاتا تھا۔ اب انھیں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
جن نوابوں کی نوابزادیوں کی جھلک دیکھنا گناہ سمجھا جاتا تھا اور جب وہ گھر سے نکلتی تو سب پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاتے تھے، آج انہی نوابزادیوں کے گندے کارنامے کہانیاں اور اسکینڈل عمران نیازی جیسے بدکماش بدکردار لوگوں کے ساتھ بدنامی میں مشہور ہیں، جو ویڈیوز اور کالز لیک ہو کر پھیل بھی چکے ہیں۔
استغفر اللّلہ
بدلتا رنگ آسماں و زمین و وقت کیسے کیسے۔
نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان
اور
دریائے سندھ پر بہتی لاش
نوے کی دہائی کی بات ہے ، میں ان دنوں اسلام آباد اسٹیشن پر تھا ، کسی کام سے اپنے درویش دوست فقیر ادریس کنٹرولر ایڈمن کے پاس گیا تو وہاں ڈائریکٹر انجنئیرنگ یونس خان گپ شپ کے موڈ میں بیٹھے مل گئے۔
انہوں نے کہا میرے والد کی نواب کالا باغ ملک امیر محمد سے بہت گہری دوستی تھی۔ آپ کو ایک دلچسپ واقعہ سناوں۔
میں ایک دفعہ والد کے ساتھ کالا باغ بوہڑ بنگلہ میں ٹھہرا جس کی سیڑھیاں دریا میں اترتی ہیں ۔ میں وہاں دریا کے کنارے پر آیا تو میں نے دیکھا ایک لاش بنگلے کی سیڑھیوں کے ساتھ لگ کر دریا میں تیر رہی ہے۔ وہ لاش کفن میں ملبوس ایک باریش مرد کی تھی۔ میں نے بھاگ کر نواب صاحب کو اطلاع دی، وہ آئے ، پانی پر لاش دیکھی تو اپنے ملازموں کو ڈانٹ کر کہنے لگے ، میں نے کہا تھا، اس کو نیچے کی طرف پھینک کر آؤ۔ ملازم نے جواب دیا ، ہم نے اسے نیچے کی طرف ہی پھینکا تھا ۔ نواب صاحب نے کہا اسے اب اور دور جا کر بہانا۔
ایسا ہی کیا گیا۔۔
لیکن دوسرے دن وہ لاش پھر ان کے بوہڑ بنگلے کی سیڑھیوں کے ساتھ آکر لگی کھڑی تھی۔
یونس خان صاحب نے مزید بتایا کہ ، اس کے بعد اس لاش کو اسی جگہ دفن کرایا گیا جہاں سے اسے نکالا گیا تھا اور جگہ انکے بنگلے میں ہی تھی۔۔
یہ واقعہ میں نے کچا پکا تو پہلے بھی سن رکھا تھا لیکن اس میت کا چشم دید گواہ مجھے یونس خان ڈائریکٹر انجنئیرنگ ریڈیو پاکستان کی صورت میں بھی مل گیا۔
اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ کالا باغ میں ایک قدیم قبرستان تھا ۔ نواب صاحب نے وہ قبرستان مسمار کرایا اور وہاں بنگلہ کی تعمیر اور کاشت کاری شروع کر دی ۔ اس کھدائی کے دوران جو ہڈیاں اور ڈھانچے ملے وہ دریا برد کئے جاتے رہے۔ لیکن یہ میت ، اللہ بہتر جانتا ہے کب کی مدفون تھی ، صحیح سلامت تھی - اس کی داڑھی تک محفوظ تھی ۔ اس میت کو دریائے سندھ میں پھینکتے تو وہ اگلی صبح پھر وہیں آکھڑی ہوتی ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نواب صاحب کی والدہ کو خواب میں میت نے کہا کہ مجھے جہاں سے نکالا ہے ، وہیں دفن کرو ۔ جن لوگوں نے بوہڑ بنگلہ دیکھ رکھا ہے وہ بتاتے ہیں ، اس کے وسیع صحن میں چند قبریں ہیں۔
میرے ریڈیو کے سینکڑوں دوست جو اس واقعے کے راوی یونس خان صاحب کے ساتھ کام کر چکے ہیں ، وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ یونس خان ، انتہائی نیک ، دین دار اور سچے انسان ہیں۔
اس واقعے کا دوسرا دُکھی پہلو یہ ہے کہ نواب صاحب خود اپنی اولاد کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔ ان کا جنازہ اٹھانے لگے تو قبرستان کی دوری کے پیش نظر ٹریکٹر ٹرالی منگوائی گئی ۔ سابق ایم پی اے حمیداللہ خان روکھڑی نے نوابزادوں کو کہا۔
او نوابزادو !
اپنے باپ کو مار تو بیٹھے ہو ، لیکن آخر تھا تو تمہارا ہی باپ۔ اس کی میت کا کچھ تو احترام کرو۔
اس پر ٹرالی کی بجائے جنازہ کندھوں پر لے جایا گیا ۔ تدفین کے بعد نواب صاحب کی میت کا کیا ہوا ، اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن افواہیں کچھ اچھی نہیں ہیں۔
نواب صاحب کے قتل کی سرکار کے سامنے ذمہ داری ملک اسد نے قبول کی تھی کہ سیلف ڈیفنس میں ان سے یہ فعل ہوا ہے ، لیکن اتنی بات طے ہے کہ چاروں بھائیوں نے بعد میں ایک دوسرے کو بھرپور سپورٹ کیا تھا۔ قتل کی اصل وجہ کبھی سامنے نہ آسکی۔
عثمان بکھانی نواب صاحب کا مسلح گارڈ تھا جس کا کام ہر اس شخص کو شوٹ کرنا تھا جو بغیر اطلاع نواب صاحب کے باغ میں داخل ہو - اس کے ہاتھوں کئی لوگ گولی کا شکار ہوئے- نواب صاحب کے بعد وہ شخص اپنی بندوق اتفاقیہ چل جانے سے خود اپنی گولی کا شکار ہو کر اسی انجام کو پہنچ گیا۔
نوابزادہ مظفر خان جو نواب صاحب کے بڑے صاحبزادے تھے ، وہ بھی ایسی ہی شوٹنگ کی شاخسانے میں آخر کار لقمہ اجل ہوئے- ان کے گارڈز نے بنی افغاناں کے ایک نوعمر لڑکے کو ہرنی کے شکار کے چکر میں گولی ماری تھی-
وہ افغان لڑکا میٹرک کا طالب علم تھا- اس کے وارثوں نے اس کی لاش امانتا" گھر کے صحن میں دفن کر دی تھی کہ جب تک بدلہ نہیں لیں گے اس وقت اسے قبرستان میں دفن نہیں کریں گے-
آخر آٹھ دس سال بعد نوابزادہ مظفر خان اس انتقام کا شکار ہو گئے- اور اس کے مرنے پر لڑکے کی امانت میت گھر کے صحن سے نکال کر بنی افغان کے قبرستان میں دفن کر دی گئی- نوابزادہ مظفر خان کے قتل کے بعد مزید خونریزی ہوئی جس میں بنی
1/2
🇮🇳⚡️Indian air force jets Bombing Dhaka- real 1971 Footage. PAF lost two Sabres in dog fights over Dhaka on that day to IAF Hunters. And IAF kept bombing unchallenged
Meta is paying real money for your opinion.
Yes, the company behind Facebook and Instagram.
How it works:
1. Download the Meta Viewpoints app
2. Log in with Facebook or Gmail
3. Complete your profile
4. Join available programs (surveys, research, product testing)
5. Earn points for each program completed
6. Cash out
Points system:
1,000 points = $3 USD
The more programs you complete, the more you earn.
No shady gift cards, real cash.
Pro tips:
• Join as many programs as possible
• Check the app regularly
• Stay in long-term studies (they pay more)
Asrar Rashid:
Adnan and Imtiaz did not have sufficient time to answer.......I can respond to all the references in a minute.
🔹Apparently Adnan and Imtiaz could not find that ONE magical "Minute" in the entire 8 hours long debate. 🤣🤣
Earn $5 daily just by recording your voice for 15 seconds.
No complex work. No skills needed.
> Sign up here: https://t.co/d3KGshf3YW
> Record short audio clips
> Get paid instantly
> Withdraw to bank or crypto
Even when the market is down this is a simple way to make consistent daily income.
🚀 Hong Kong Web3 Festival 2026 Concludes Successfully
📍 April 20 – 23 | Hong Kong
The world's premier Web3 event brought together industry pioneers, technology leaders, and innovative projects to explore the future of blockchain and artificial intelligence.
Novaex AI made a strong debut at this summit, showcasing:
✨ An AI-driven one-stop asset management solution
✨ Integrated application scenarios of AI × Web3
✨ The future of quantitative investment for the global market
💡 From cutting-edge topics on the main stage
to in-depth exchanges and interactions at the exhibition area
🟢Novaex AI is becoming an important bridge connecting AI with the future of global finance
#Web3 #Blockchain #Crypto #DeFi #AI
#CryptoNews #BlockchainTechnology #Web3Community #AsiaCrypto #HKWeb3Festival #Novaexai
چینی سوشل میڈیا پر دھوم! 🔥
چینیوں نے 2025 کے پاک-بھارت جنگ پر مبنی ایک خصوصی ویڈیو جاری کر دی، جس میں بھارت کی علامتی شکست کو فلمایا گیا ہے۔ ویڈیو میں بھارتی سورماؤں کے غرور کو خاک میں ملتے دکھایا گیا ہے۔ 🇵🇰
لگتا ہے ہمسایوں کو بھی حقیقت کا بخوبی اندازہ ہے! 🇨🇳🤝🇵🇰
💥🇮🇳🇵🇰 According to Partition rule in British India kashmir belongs to Pakistan because it was muslim majority state.
Indian military occupied it in 1947 and massacred over 100,000 kashmiris.
Entire Kashmir is the part of Pakistan legally.!
Prime Opinion – Reliable survey platform.
Otter AI – Earn by completing tasks and projects.
AttaPoll – Quick surveys, easy payouts.
PureProfile – Paid for opinions and research participation.
Respondent – High-paying surveys and research studies.
GrabPoints – Rewards for surveys, watching videos, and offers.
OneForma – Freelance and micro-tasking opportunities.
Swagbucks – Popular platform for surveys, shopping, and tasks.
👉 All of these are legit and well-paying platforms depending on consistency and task availability.