دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دیلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کرے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں
بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں
غیر سے دور مگر، مگر ان کی نگاہوں کے قریں
محفل یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں
یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
آج تک خواہش منصب سے الگ بیٹھا ہوں
عمر کرتا ہوں بسر گوشہ تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے تب سے الگ بیٹھا ہوں
میرا انداز نصیر اہل جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں، مگر اب سے الگ بیٹھا ہوں
نصیر الدین نصیر رح
وہ ہمیشہ بھاگتے ہی رہتے ہیں، کسی گھنے درخت کی چھاؤں میں دو پل سکون سے بیٹھ نہیں پاتے، رکنا چاہتے ہیں لیکن رکتے نہیں ہیں کیونکہ ان میں رکنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ آرام کے وقت طاری ہونے والی طویل مسافت کی تھکن محسوس کرنے سے ڈرتے ہیں اور دوڑتے چلے جاتے ہیں۔۔۔
مومن خاں مومن کی لازوال غزل
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
عید مبارک میں کِس نوں _آکھاں
جس عید اِچ پئی ______جدائی
عید اُناں دی جناں دید سجن دی
بنا دیدوں عید نہ ________کا ئی
یار فرید لکَھاں عیداں تھی _سَن
جدُوں ویچھڑے مِل سَن__ ماہی
کلام :حضرت غلام فرید رح
آواز: استاد نصرت فتح علی خان
Happy Men's Day to all of you. I appreciate the good that you bring to the world, your efforts for your families and your shoulders that carry never ending responsibilities. May you find it in you to open up about your silent battles and find peace, happiness and love, Amen.