سرگودھا یونیورسٹی سے گریجویشن، انجینیئرنگ کا ڈپلومہ، سٹینوگرافی کا کورس۔۔ لیکن کام گلیوں کی صفائی کا!
یہ کہانی ہے گوجرانوالہ کے مظہر عباس کی، جن کے پاس اعلیٰ ڈگریاں ہیں لیکن موقع نہ ملنے کے باعث ستھرا پنجاب میں بطور سینیٹری ورکر کام کر رہے ہیں۔
یہ نام نہاد عوامی نمائندے جو مراعات لینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، کر لیں عوام کے ٹیکسوں پر عیاشی کیونکہ ان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے ، بے بس عوام تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی لیکن یہ سب بہت جلد اللہ تعالی کی سخت پکڑ میں آئیں گے انشا اللہ !
جس ملک کی آمدن کا زیادہ تر حصہ انڈائریکٹ ٹیکسسز لگا کر ملکی معیشت کا پہیہ چلانے پر منحصر ہو جہاں IMF کے دو پرگرامز کے برابر 2700 ارب کی صرف پیٹرولیم لیوی محض ایک ہی سال میں اکٹھی کر لی گئی ہو
اور ٹیکسسز انتہائی غیرمنصفانہ طریقے سے لوگوں سے نکلوائے گئے ہوں وہاں کی ایک صوبائی اسمبلی کچھ دن پہلے قانون پاس کرتی جس میں تمام Mpa's اور انکی بیگمات و بچوں سمیت کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کردی گئی ہو
حالانکہ یہ بلیو پاسپورٹ صرف ان حکومتی اہلکاروں کو ڈیوٹی دوران دیا جاتا ہے جو ملک کے کسی کام کی صورت میں بیرون ممالک سفر کررہے ہوں
خیبرپختونخوا اسمبلی کے پاس کردہ اس بل کو دیکھتے ہوئے اب یہی بل سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پاس کردیا ہے کہ بلیو پاسپورٹ کا حصول سابقہ سینیٹرز کے 28 سال تک کے بچوں اور بیگمات کو بھی مہیا کیا جائے
یہ نوازشات وہ طبقہ لے رہا ہے جن کو سفری سہولیات سے لیکر پیٹرول رہائشی الاونس بجلی کے بل تک میں ریاست انکو پوری پوری مدد فراہم کرتی ہے
اور اس سب کے باوجود اس طبقے کا ایک عام آدمی کے ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت کا ایک تہائی حصہ حکومتی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے مختلف ٹیکسسز کی مد میں کاٹنا اور اپنے لئیے تمام سہولیات مفت لینا انتہائی شرمناک حرکت ہے
اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ مراعات وہ طبقہ لینے کا خواہشمند یا لے رہا ہے جو پاکستان کے امیر ترین خاندانوں طبقات میں سے ہوکر اتنی بڑی پوزیشنز پر آتا ہے۔
کشمیر میں بجلی کا بل صرف اور صرف 60 روپے اور پنجاب میں 200 یونٹ کے بعد بل چھ آٹھ دس ہزار
ہمارے پالیسی ساز جس دن یہ تفریق ختم کریں گے اُس دن ہمیں سکھ کا سانس آئے گا
بجلی چوروں ٹیکس چوروں مفت خوروں مادر۔۔۔۔ں کا بوجھ پنجاب کی عوام کیوں اُٹھائے ؟
پنجاب حکومت کے خیال میں تعلیم اور صحت کے شعبے اس لیے آوٹ سورس کر دیے ہیں
تاکہ یہ درست ہو جائیں
۔
@تو پھر اسمبلیاں برطانیہ کو
@عدالتی نظام جاپان کو
@بجلی کا محکمہ چائنہ کو آوٹ سورس کر دیں
۔
تاکہ ان کا نظام بھی ٹھیک ہو جائے اور عوام سکھ کا سانس لی
میری 15 سالہ بیٹی گزشتہ 14 دن سے لاپتا ہے، لیکن پولیس ہماری کوئی مدد نہیں کر رہی۔ SHO نعیم اعجاز نے بھی تعاون نہیں کیا۔ میں CPO کے پاس بھی گئی، مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ SHO کے پاس جائیں۔ اس کے باوجود SHO نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ آج میری بیٹی کو لاپتا ہوئے 14 دن ہو چکے ہیں، مگر پولیس اسے تلاش کرنے کے لیے ذرا سی بھی کوشش نہیں کر رہی۔ میری سب سے گزارش ہے کہ خدارا میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ — گوجرانوالہ سے ایک ماں کی فریاد
@hinaparvezbutt@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
1۔ مشرف دور کی نشانی، خواتین کے لیے بے مقصد مخصوص نشستوں کو ختم کرکے اسمبلیوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
2۔ ریٹائرڈ ججوں اور جرنیلوں کی مراعات عام سرکاری ملازمین کے مساوی کرکے معاشرے پر نفسیاتی اور مالی بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
3۔ بیوروکریسی کے دفاتر اور رہائش گاہیں فلیٹ سسٹم کی طرز پر قائم کرکے اخراجات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اگر ان تین نکات پر عمل ہو جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ “کفایت شعاری” کی مہم حقیقتاً شروع ہو گئی ہے، ورنہ باقی سب گپ شپ ہے۔
پنجاب میں زمین کا فرد لینے کی فیس جو ساڑھے آٹھ سو روپے تھی اب بڑھا کر ساڑھے پانچ ہزار کر دی گئی ہے یعنی اپنی زمین کی بنیادی معلومات لینا بھی مہنگا کر دیا ہے
ہر قسم کے ٹیکس اور فیسیں صرف پنجاب میں ہی بڑھاتے جا رہے ہیں پتہ نہی نون کی پالیسیاں کون بنا رہا ہے ؟
پیٹرول کی قیمت کا تعلق عالمی منڈی سے نہی بجٹ کی مندی اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے خسارے پورے کرنے سے ہے یہ سب سے آسان ٹیکس ہے اور جو خسارے وہ اس سے نکل آتے ہیں
عوام کو جاگنا ہو گا ان سے سوال کرنا ہو گا اس ظلم کو روکنا ہو گا
پنجاب، خصوصاً لاہور میں، آج ہر محفل، ہر گلی اور ہر گھر میں ایک ہی موضوع ہے: ٹیکس، جرمانے، چالان اور نئی نئی فیسیں۔
گٹر ٹیکس، کوڑا ٹیکس، مسلسل تیسرے سال پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ، ٹوکن ٹیکس، ڈرائیونگ لائسنس کی فیسیں، ای چالان، اور نت نئے مالی بوجھ نے عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
لوگ سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مالی بوجھ ان پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب میں عوامی حکومت نہیں بلکہ کسی ریکوری مشن پر آئی ہوئی آئی ایم ایف کی ٹیم کام کر رہی ہو، جس کا مقصد ہر ممکن ذریعے سے عوام کی جیب سے مزید رقم نکالنا ہو۔
ریاست کی ذمہ داری صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ریلیف، بہتر سہولیات اور باوقار زندگی فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر ہر مسئلے کا واحد حل نئے ٹیکس اور فیسیں ہوں، تو اس کا بوجھ آخر کب تک عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟
پیٹرول کی عالمی قیمت ایک طرف رکھ کر یہ دیکھیں ہر لیٹر پیٹرول پر حکومت پورے 80روپے لیوئ لیتی ہے یہ فیڈرل ٹیکس ہے حکومت اس سے روزانہ 20 ارب روپیہ عوام کی جیب سے نکالتی ہے
اس کے علاوہ جی ایس ٹی ڈیلر مارکن وغیرہ الگ ہے حکومت 118 روپے ہر لیٹر پیٹرول پر ایکسٹرا لیتی ہے
فرانس اور ڈنمارک میں اک پادری نے بھی تو ایسی گستاخی کی تھی۔
جیو کو معافی کیوں؟
یہ حکومت چاہتی کیا ہے؟؟؟
سیدھا سیدھا 295 C کا کیس ہے۔
@iamowaisnoorani حضور خاموشی کیوں؟