چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس پر اسٹے دے دیا جو ان کے مطابق آئینی تھا، مگر ایک سیاسی ریمارکس بھی دیا کہ اگر یہ قانون رہ جاتا ہے تو جاتی امراء دو منٹ میں آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا، اگر چیف جسٹس صاحبہ کے پاس ثبوت اور معلومات ہیں کہ جاتی امراء کی زمین پر بھی قبضہ کیا گیا ہے تو وہ خود اس قبضے کو ختم کروا دیں یہ سیاسی بیان بازی کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو پھر بھی اگر وہ جاتی امراء کا قبضہ اصل مالکان کو نہیں دلوا سکتیں تو پھر یہ اپنے عہدے اپنے اختیارات کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہیں، اور اگر محض یہ حکومتِ پنجاب اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو ٹارگٹ کرنے کیلئے سیاسی ریمارکس تھا تو یہ اور بھی تشویش ناک صورتحال ہے۔اس پر حکومت پنجاب کو نہیں بلکہ جاتی امراء کے رہائشیوں کو نوٹس لینا چاہیئے۔اور عدالت کو پٹہ ملکیت سمیت تمام کاغذات دکھا کر چیف جسٹس کے ریمارکس پر جواب مانگنا چاہیے جو کہ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
والد عمران خان کے ہو یا ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیٹی نواز شریف کی ہو یا آصف زرداری کی اہلیہ عمران خان کی ہو یا کیپٹن صفدر کی مرحومین کلثوم نواز صاحبہ ہوں یا اکرام اللہ نیازی صاحب
بزرگ مولانا فضل الرحمن صاحب ہو یا اسفندیار ولی صاحب اور چودھری شجاعت حسین صاحب
کسی کی بکواس سے ان کی عزت اور احترام میں کوئی کمی نہیں آتی
صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی گفتگو کرنے والے کی تربیت "کس قماش کے لوگوں " نے کی!
ایکبار اس تحریر کو پڑھیں ضرور، آپکی آنکھیں کھل جائے گی۔ باقی عمل کرنا نہ کرنا آپکی مرضی ھے👇
پاکستان میں بھکاریوں سے متعلق حیران کن حقائق*
24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری ہیں جس میں 12 فیصد مرد ، 55 فیصد خواتین ،27 فیصد بچے اور بقایا 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں۔
ان بھکاریوں کا 30 فیصد کراچی ، 16 فیصد لاہور ، 7 فیصد اسلام آباد اور بقایا دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔۔
کراچی میں روزانہ اوسط بھیک 2 ہزار روپے، لاہور میں 1400 اور اسلام آباد میں 950 روپے ہے.
پورے ملک میں فی بھکاری اوسط 850 روپے ہے.
روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری 32 ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں.
سالانہ یہ رقم117 کھرب روپے بنتی ہے
ڈالر کی اوسط میں یہ رقم 42 ارب ڈالر بنتی ہے.
بغیر کسی منافع بخش کام کے بھکاریوں پر ترس کھا کر انکی مدد کرنے سے ہماری جیب سے سالانہ 42 ارب ڈالر نکل جاتے ہیں.
اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ 21 فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور ملکی ترقی کے لئے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کی عظیم الشان افرادی قوت کسی کام نہیں آتی.
جبکہ ان سے کام لینے اور معمولی کام ہی لینے کی صورت میں آمدنی 38 ارب ڈالر متوقع ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کرسکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئے باعزت روزگار بھی مہیا کرسکتی ہے.
اب اگر عوام اسی مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو ��یکر مطمئن ہیں تو بیشک اگلے سو سال اور ذلت میں گزارئیے.
لیکن اگر آپ چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کے لئے پرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں تو آج ہی سے تمام بھکاریوں کو خداحافظ کہہ دیجیے. خدارا انکو پیسے مت دیں۔ انکو کام کرنے کی تلقین کریں۔۔ پانچ سال کے بعد آپ اپنے فیصلے پر انشاللہ نادم نہیں ہونگے اور اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی محسوس کرینگے.
*بنگلہ دیشی عوام نے جس دن بھکاری سسٹم کے خلاف مہم چلا کر اسے خدا حافظ کہا تھا، اسکے صرف چار سال بعد اسکے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر ہو گے تھے۔
میری وزیراعلیٰ مریم نواز کو تجویز ھے کہ آپ نے موثرسائیکل پہ ہر قسم کا چلان 2 ہزار روپیہ کر دیا ھے۔ اگر ایسا ہی کرنا ھے تو پھر کم از کم کچھ ماہ کے لئے ہر ناکے والی جگہ پر ٹریفک پولیس کو ہیلمٹ بھی دئے جائیں وہ موقع ہر دو ہزار جرمانہ لیکر ساتھ اس بندے کو ہیلمٹ بھی دیں۔ اس سے لوگوں کو جرمانے کی تکلیف بھی کم ہو گی اور جب پھر وہ سوچیں گے کہ اب اگر ہیلمٹ پاس ھے تو اسکا استعمال بھی شروع کر دیں، اس اقدام سے حکومت اور غریب عوام میں دوری بھی پیدا نہیں ہو گی اور اس کیساتھ ہیلمٹ انڈسٹری کو بھی فروغ ملے گا۔
ایک تصویر ،ایک ویڈیو دکھادیں سندھ،خیبرپختونخواہ،بلوچستان،آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کے موجودہ وزرا کی ،یا عمران خان کے دور حکومت کی،جہاں حکومتی وزرا سیلاب زدگان کی امداد کرنے میں اس قدر جت گئے کہ نیند ،بھوک ،پیاس اور پہناوے تک سے غافل ھوگئے ھیں،آپ صرف شعور سے عاری یا بغض سے بھرپور ھونگے جو ان لوگوں کی محنت کو نہیں سراھینگے،مریم اورنگزیب صاحبہ،سلمان رفیق ،رانا سکندر حیات،صہیب بھرتھ،آپ لوگ باکمال ھیں۔
یہ پنجاب کے صوبائی وزراء ہیں
ان کے جوتوں پر دھول دیکھیں۔۔
اور
ان کے چہروں پر تھکاوٹ مگر اطمنان دیکھیں۔ ر��زانہ کی تصاویر ایسی ہی آتی ہیں۔
جب برے وقتوں میں عوام کے ساتھ ایسے ہوتے ہیں تو نارمل حالات میں دفاتر میں بیٹھنے کا بھی ایسے لوگوں کا ہی حق ہے۔
مخالفین کے علاوہ اپنی سائیڈ کا بن کر بے جا تنقید کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
ویسے دفاتر میں بیٹھ کر بھی عوام کے لیے اہم فیصلے ہی کر رہے ہوتے ہیں۔
(*اور ہاں۔۔سندھ اور پختونخواہ سے بھی تقابلی جائزہ کر لیں)
(اسد آر چوہدری)
@RShahzaddk ہم غریب قوم، ہم سیلاب میں ڈوبی قوم، ہم زلزلوں میں گھری قوم، ہم وہ قوم کہ اگر ایک وقت کا کھانا مل جائے تو یہ پریشانی کہ اگلے وقت کا ملے گا یا نہیں، اور ہم جیسی قوم کو رب العزت نے حرمین شریفین کی حفاظت کےلئے چن لیا. بخدا ایسا نصیب؟ یہ تو کبھی خواب و خیال میں بھی نہ تھا ! 💚🤲
"جاؤ جاکر ماں سےمعافی مانگو، سال، دو سال، دس سال، جب تک وہ راضی نہ ہوجائے، تمہاری شکایت کا اور کوئی حل نہیں ہےمیرے پاس."
---
مریم صاحبہ !
ان DPO صاحب کو کسی بہترین ایوارڈ سےنوازیں. کیا تربیت ہے ماشاء اللّہ.
دل خوش کردیا.♥️🤲
@MaryamNSharif@OfficialDPRPP