متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کی ہے کہ The Team MQM @TheTeamMQM نامی X اکاؤنٹ یا TikTok اکاؤنٹ سے @OfficialMQM کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اس اکاؤنٹ سے MQM کا نام استعمال کرکے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تعلیمات اور MQM کی پالیسی کے برخلاف گمراہ کن پوسٹس جاری کر کے وفاپرست تحریکی کارکنوں کو گمراہ کرنےکی کوششیں کی جارہی ہیں۔ترجمان نے وفا پرست کارکنان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ان اکاؤنٹس سے جاری کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو MQM کا مؤقف نہ سمجھیں اور ایسی پوسٹس کو ہرگز ہرگز شیئر نہ کریں۔ وفاپرست کارکنان تحریکی معاملات میں صرف اور صرف قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیانات کو ہی تحریکی پالیسی تصور کریں اور MQM کی پالیسی کے خلاف پوسٹس جاری کرنے والے جعلی اور خودساختہ اکاؤنٹس سے ہوشیار رہیں۔
👇👇
ایم کیو ایم حیدرآباد زون کے وفاپرست کارکنان ذاہد رضا ،عمران تقوی اور قمر تقوی کی علالت پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تشویش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا پرست عوام وکارکنان ذاہد رضا ، عمران تقوی اور قمر تقوی کی جلد اور مکمل صحتیابی کیلئے اللہّ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعا کریں ،
جناب الطاف حسین کی اپیل
ایک معصوم بچی کی معصومانہ اپیل
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں میری بات
ظلم وجبر کے لامتناہی سلسلے کے باوجود
بانی وقائد جناب @AltafHussain_90 کے دیوانوں کی دیوانگی کم نہیں کی جاسکی
جئے الطاف حسین ، سدا جئے
میں پاکستان کے نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پاکستان کے نہیں بلکہ فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف ہوں، میں اس جاری نظام کوبدلناچاہتاہوں تاکہ ملک بھرکے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوبھی ان کے جائزحقوق حاصل ہوں اورملک میں انصاف کانظام قائم ہو۔
میں نے ملک کے نظام کی تبدیلی اورغریب ومتوسط طبقہ کے عوام کی حکمرانی کے لئے اپناپیغام دیااسی لئے میرے خلاف پروپیگنڈے کئے گئے۔ خاص طورپر پنجاب کے عوام کوایم کیوایم کے خلاف بہت بھڑکایا گیااور ان کے سامنے الطاف حسین کی امیج کوخراب کیاگیا،الطاف حسین کے لئے ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ مجھے جلاوطنی میں جاناپڑا لیکن میں نے پھر بھی اپناپیغام پھیلانے کاسلسلہ جاری رکھااورپھر وہ وقت بھی آیاکہ پنجاب کے نوجوان بہت تیزی سے ایم کیوایم میں شامل ہونے لگے، پورے پنجاب میں ایم کیوایم کاکام تیزی سے پھیلنے لگا جس کے پیش نظر ہم نے لاہورمیں مرکزی آفس قائم کیا،جس کے بعد ملتان میں بھی بڑا آفس قائم کیاگیا،ساتھ ہی پنجاب کے تمام اضلاع میں بھی ایم کیوایم کے دفاترقائم ہوئے، ایم کیوایم پنجاب میں تیزی سے پھیل رہی تھی لیکن ایم کیوایم کوپنجاب اورپورے ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لئے اس کے خلاف بار بار کریک ڈاؤن کیاگیا۔ اگر ایم کیوایم کوپنجاب میں پھیلنے سے نہ روکاجاتاتوآج ایم کیوایم پنجاب کی بھی بڑی جماعت ہوتی۔
یہ خدا کا شکر ہے کہ آج پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان،سندھ، آزادکشمیر اورگلگت بلتستان سمیت ملک بھرکے غریب ومظلوم عوام خود اس بات کابرملااظہارکررہے ہیں کہ الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کے خلاف پھیلائے گئے پروپیگنڈے جھوٹ ہیں، اس پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں اورالطاف حسین نے ملک کے لئے 30، 40سال پہلے جوباتیں کہی تھیں وہ آج درست ثابت ہورہی ہیں۔
مجھے خوشی ہے کہ آج پنجاب کے نوجوانوں میں شعوربیدار ہورہاہے اوروہ صحیح اورغلط میں فرق سمجھنے لگے ہیں۔
یہ قدرت کانظام ہے کہ حق اورسچ کی راہ میں رکاوٹیں ضرور کھڑی کی جاسکتی ہیں لیکن حق اورسچ کو مٹایا نہیں جاسکتا۔اسے پھیلنے میں دیرلگتی ہے لیکن بالآخر سچ ہی پھیلتاہے۔
میں اپنے پنجاب کے ساتھیوں سے کہتاہوں کہ وہ ثابت قدمی اورمستقل مزاجی کے ساتھ تحریک کاپیغام پھیلاتے رہیں، اپنی جدوجہد جاری رکھیں، انشاء اللہ کامیابی ہمارامقدرہوگی۔
میں پنجاب کے وفاپرست ساتھیوں کوان کی ثابت قدمی پر دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتاہوں۔
الطاف حسین
نارووال پنجاب میں ساتھیوں سے گفتگو
کراچی کے تعلیمی بورڈز میں دیہی سندھ سے افسران کی خلافِ قانون تقرریاں قابل مذمت ہیں، رابطہ کمیٹی
یہ تقرریاں خلاف قانون ہہں، یہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صریحاً خلاف ورزی اور حکومت سندھ کی اہل کراچی کے منظم استحصال کی پالیسی کا حصہ ہیں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی
لندن ۔۔۔۔۔ 4 نومبر 2025
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی کے تعلیمی بورڈز بالخصوص میٹرک بورڈ اور انٹرمیڈیٹ بورڈ میں دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والوں کی ڈیپوٹیشنز پر غیر قانونی تقرریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے جاری کردہ اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی کے اداروں میں موجود میرٹ پر پورا اترنے والے سینیئر اور اہل افسران کو نظر انداز کرکے بیرونِ کراچی سے ناتجربہ کار افسران کا کلیدی عہدوں پر تقرر کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف تعلیمی بورڈز کے افسران کی حق تلفی ہے بلکہ اس سے ادارہ جاتی نظام متاثر ہوا ہے۔اس اقدام سے کراچی کے طلبہ میں بھی شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ یہ تقرریاں خلاف قانون ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ کا یہ اقدام تعصب پر مبنی ہے اور اہل کراچی کے منظم استحصال کی پالیسی کا حصہ ۔
رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں تعلیمی بورڈز میں تمام غیر قانونی اور خلافِ قواعد ڈیپوٹیشنز فی الفور ختم کی جائیں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں اور متعلقہ سروس رولز کے مطابق میرٹ پر مستقل تقرریاں کی جائیں۔ کراچی کے اداروں میں موجود اہل افسران کی حق تلفی بند کی جائے اور اندرونی سینیارٹی و قابلیت کے مطابق ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ حالیہ نتائج میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی آزاد اور شفاف انکوائری کرائی جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ میں شفافیت، میرٹ اور مقامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے سُپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ کراچی کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ مزید کھلواڑ روکا جا سکے اور امتحانی اداروں میں قانون، میرٹ اور شفافیت کی بالادستی قائم ہو۔ ایم کیو ایم والدین، اساتذہ اور طلبہ کو یقین دلاتی ہے کہ وہ بانی و قائد جناب الطاف حسین کی قیادت میں ہر آئینی و قانونی فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی اور تعلیمی اداروں سمیت تمام اداروں میں میرٹ پر مبنی، غیرجانبدار اور شفاف نظام کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی۔
میں پاکستان اورافغانستان کےدرمیان کامیاب مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتاہوں اوردعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ، دونوں ممالک کو سچائی اور ایمانداری کے ساتھ اس معاہدے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوریہ معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔(آمین)
دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی اور خودمختاری کااحترام کریں ، دونوں ممالک کےدرمیان دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات فروغ پائیں۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، میں افغانستان سےکہوں گا کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرے ، پاکستان بھی افغانستان کا احترام کرے، پاکستان کی فوج سے کہوں گا کہ وہ امریکہ کیلئےافغانستان کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ امریکہ ہزاروں میل دور ہے، وہ کئی سال افغانستان میں رہ کر واپس چلاگیا۔آج امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ افغانستان کے خلاف کارروائی کرے لیکن دانشمندی کا تقاضا ہےکہ پاکستان کو ایسی کسی بھی کارروائی سے خود کو الگ رکھنا چاہیے ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 340 ویں فکری نشست سے خطاب
31، اکتوبر2025
ایم کیوایم ملک کی واحدجماعت ہےجس نےغریب ومتوسط طبقہ کےتعلیم یافتہ افرادکومنتخب ایوانوں میں بھیجا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیام پاکستان کو 78 برس گزر چکے ہیں، ہرسیاسی جماعت نے جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دارطبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کوہی صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کا رکن بنایا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں کا رکن نہیں بنایاجو ٹیکسی چلاتے ہوں، ٹھیلے لگاتے ہوں اور گنے کا جوس بیچتے ہوں۔
عمران خان پہلی مرتبہ الیکشن میں کامیاب ہوکر وزیراعظم بنے تو ان کی جانب سے اسمبلیوں میں بھیجے جانے والے افراد میں بھی غریب ومتوسط طبقہ کے افراد شامل نہیں تھے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں الطاف حسین واحد سیاسی رہنما ہے جس نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی اورغریب ومتوسط طبقے کے ڈاکٹروں، انجینئروں، پروفیسرز، ٹیکسی ڈرائیور اور گنے کا جوس بیچنے والوں کو میرٹ کی بنیادپر منتخب ایوانوں میں بھیجا جوکہ انتخابی مہم کے اخراجات برداشت کرنا تو درکنار ایک بینرتک بنانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز بلندکرنے اور غریب ومتوسط طبقے کی قیادت ایوانوں میں بھیجنے کی پاداش میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیاگیا اوراس کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، سینکڑوں لاپتہ کردیئے گئے جبکہ سینکڑوں لاپتہ کردیا گیا اور مجھے آج تک انگنت مصائب ومشکلات جھیلنا پڑرہی ہیں۔
بہت سےلوگ اس بات سےواقف نہیں ہونگے کہ عمران خان نے1995ء جنرل حمید گل کےساتھ
”ادھوری آزادی کی تکمیل“ کے موضوع پر پنجاب میں ایک پروگرام منعقد کیاتھا اور مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں اس موضوع پر پاکستان کے عوام خصوصاًنوجوان نسل کے لئے اپنا وڈیوپیغام ریکارڈ کرکے بھیجوں،میں نے پاکستان کے عوام کے نام اپنا وڈیوپیغام ریکارڈکرکے بھیجاتھاجو اس تقریب میں نشر کیاگیا۔
میں آج بھی یہ کہتاہوں کہ پاکستان کی آزادی آج بھی ادھوری ہے اورپاکستان پر آج بھی انگریزوں کے تربیت یافتہ اوران کے وفاداروں کا تسلط قائم ہے، عوام کوان سے نجات حاصل کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
میرا پیغام پھیلتا رہااور وہی عمران خان جس کےاطراف جاگیرداراوروڈیرے آگئے تھے ،ان کاذہن بدلنے لگا اور وہ حقیقی آزادی کی جدوجہد کرنے لگے۔لوگ کہاکرتے تھے کہ عمران خان ایک دن بھی جیل میں نہیں گزار سکتا لیکن انہوں نے کرپٹ جرنیلوں کی بیعت نہیں کی اور دوسال سے جیل میں قید ہیں۔
مجھے اس بات کی خوشی ہے آج ملک بھرمیں عمران خان کی مقبولیت ہے اور صوبہ پنجاب اورخیبرپختونخوا کے عوام جو ملک میں رائج کرپٹ سسٹم اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی غلط پالیسیوں پر تنقیدکرنے پر مجھے ملک دشمن اور غدار کہا کرتے تھے آج وہ حقائق کو سمجھ چکے ہیں اوراب وہ خود بھی جنرل شاہی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم جاگیرداروں اور وڈیروں سے نجات حاصل کریں گے۔
اس پیغام اورفکرکوپھیلنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ غریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سہیل آفریدی کو آج خیبرپختونخوا کاوزیراعلیٰ بنایاگیا ہے۔
پاکستان میں آج بھی پورانظام جکڑاہواہے،پاکستان میں جس کے آگے صدراوروزیراعظم بھی بے اختیار ہیں، جس کی مثال یہ ہے کہ جب وزیراعلیٰ KPK سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی غرض سے گئے تو وہاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فون کرکے مبارکباد دی، سہیل آفریدی نے ان سے درخواست کی کہ میرے لیڈر عمران خان سے میری ملاقات کرائیں تو شہباز شریف نے کہاکہ میں پوچھ کربتاتا ہوں۔ جو ظاہرکرتا ہے کہ وزیراعظم بھی غلام ہے اورغلام اپنے آقاسے پوچھے بغیر کیسے حکم دے سکتا ہے۔
یہ افسوسناک بات ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کئی بار اڈیالہ جیل گئے لیکن ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی، انہوں نے اس کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی لیکن عدالت کے حکم کے باوجود ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ یہ عمل کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ میں سہیل آفریدی سے کہتاہوں کہ وہ اسی طرح ڈٹے رہیں اورڈٹ کرعوام کی خدمت کریں۔
1/2
فرسودہ اورکرپٹ سسٹم کے خلاف جدوجہد انگاروں پر چلنے اور طوفانوں کا سامنا کرکے آگے بڑھنے کانام ہے۔
…………………………
جاگیردارانہ نظام ایک فرسودہ نظام ہے جو دنیا بھر سے ختم ہوچکاہے لیکن پاکستان میں آزادی کے بعد سے آج تک فرسودہ، گلا سڑا، جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ اورکرپٹ سرمایہ دارانہ نظام آج بھی رائج ہے۔ جس کے تحت اشرافیہ طبقہ کے چند خاندان اور ان کی اولادیں نسل درنسل حکومت کررہی ہیں، ملک کی قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کی اسمبلیاں جاگیرداروں اوروڈیروں کی اولادوں سے بھری پڑی ہیں جبکہ غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی تمام ترقابلیت اورصلاحیت کے باوجود منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچنےکا تصور نہیں کرسکتے جبکہ دیہی علاقوں کے عوام غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔ یہ فرسودہ جا گیردارانہ نظام جمہوریت کی ضد ہے۔جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ بااثرقوتیں اس نظام کو برقرار رکھنے کےلئے اس کا تحفظ کرتی ہیں۔
اس آمرانہ، جابرانہ جاگیردارانہ فیوڈل سسٹم کے خلاف آواز اٹھانا اور اس کوبدلنے کےلئے جدوجہد کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے، ملک کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جوبھی اس کرپٹ سسٹم کو چیلنج کرے گا، اس کے خلاف آوازبلند کرے گا اوراس کوبدلنے کی جدوجہد کرے گا تواس نظام کے رکھوالے آپ کی آواز کوپہلےدولت سےخریدنے کی کوشش کریں گے اور اگرآپ نے اپنا سودا کرنے سے انکارکیا تو آپ کی آواز کوطاقت سے دبانے اور کچلنے میں کوئی کسرنہیں اٹھارکھیں گے۔ آپ کے خلاف طاقت کابیدریغ استعمال کریں گے۔آپ پروطن دشمنی،دہشت گردی، تشدد عوام دشمنی کےالزامات لگائے جائیں گے، من گھڑت اوربیہودہ الزامات کے ذریعے آپ کی کردارکشی کی جائے گی۔ اس جدوجہد میں آگ اور خون کے دریاعبورکرنا پڑتے ہیں۔ قیدوبند، روپوشی، دربدری اورجلاوطنی کی اذیتیں اورمصیبتیں جھیلنا پڑتی ہیں۔ یہ جدوجہد انگاروں پر چلنے اورطوفانوں سے کھیل کرآگے بڑھنے کانام ہے۔
الطاف حسین نے اس فرسودہ جاگیردارانہ سسٹم کوچیلنج کیا،اس کے خلاف نہ صرف آوازبلند کی بلکہ عملی طور پر غریب، لوئر مڈل کلاس اورمڈل کلا س سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اورباصلاحیت نوجوانوں کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی،قومی اسمبلی اورسینیٹ میں بھیجا۔ایم کیوایم سے پہلے کسی بھی جماعت نے غریب ومتوسط طبقہ کے نوجوانوں کواسمبلیوں میں نہیں بھیجا تھا۔
جب 1987ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو میں جیل میں تھا لیکن الطاف حسین کے نظریہ میں اتنی سچائی تھی کہ میری اپیل پر عوام باہرنکلے اورہمارے نامزد حق پرست امیدواروں کواس بھاری اکثریت میں کامیاب بنایا کہ کراچی اورحیدرآباد میں ایم کیوایم کے میئر اورڈپٹی میئربلامقابلہ منتخب ہوئے۔
میں موروثی اورخاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، میری جدوجہد اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی حقوق کے لئے تھی اسلئے نہ میں نے کبھی خود الیکشن لڑااورنہ ہی اپنے بہن بھائیوں کوالیکشن لڑایا بلکہ اپنے کارکنوں کوہی میرٹ کی بنیاد پر ایوانوں میں بھیجا۔
میں نے ملک میں رائج فرسودہ سسٹم کو چیلنج کیا تھا اسی لئے سسٹم کے محافظوں نے مجھے اپنے کاز سے ہٹانے کے لئے پہلے خریدنے کی کوشش کی اورجب میں نے اپنا سودا کرنے سے انکارکیاتومجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، مجھے پنجابیوں، پختونوں، سندھیوں، بلوچوں کامخالف بنا کر پیش کیا گیا، میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے، مجھے تین مرتبہ گرفتار کرکے قیدوبند میں رکھاگیا، سرکاری ٹارچر سیلوں میں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں، میری تحریک کو کمزور کرنے کےلئے اس میں گروپ بنائےگئے، جب اس کے باوجود میں نے فرسودہ سسٹم کے خلاف اپنی جدوجہد ترک نہیں کی بلکہ اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کی تومجھے راستے سے ہٹانے کے لئے مجھ پر دستی بموں سے حملہ کرایا گیا، مجھے اپناوطن چھوڑنے اور جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبورکیاگیا اورپھر میری تحریک کے خلاف بدترین آپریشن کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔
میں ملک کے خلاف نہیں بلکہ کرپٹ سسٹم کے خلاف ہوں، میں کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ عوام کواپنا غلام سمجھنے والے جاگیرداروں وڈیروں کے خلاف ہوں۔ میں سمجھتا ہوں چند خاندانوں کی اجارہ داری جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، یہ مذاق ہے کہ چند خاندان نسل درنسل ملک پر حکمرانی کررہے ہیں اورغریب ومتوسط طبقہ کے عوام صرف ان کے لئے نعرے لگانا اور انہیں ایوانوں میں پہنچانےکےلئے رہ گئے ہیں۔عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اوراس کرپٹ سسٹم کوبدلنے کے لئے میدان عمل میں آئیں اور اس کے لئے عملی جدوجہد کریں۔
الطاف حسین
342 ویں فکری نشست سے خطاب
2نومبر 2025
میں پاکستان کوحقیقی معنوں میں آزاد اورخودمختار بناناچاہتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے وزیراعظم کے خوشامدانہ طرزعمل کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان معاشی طورپر بالکل تباہ ہوچکا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پاکستان میں عوام کی حکمرانی چاہتاہوں اور ملک کوحقیقی معنوں میں آزاد اورخودمختار بناناچاہتا ہوں تاکہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد ہو اور ملک کسی بیرونی طاقت سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہ پڑے اورملک کو بیرونی قرضوں اور خیرات پر چلانے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا کیاجائے
موجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے بیرونی ممالک کے نمائندوں کودعوت دیکران سے ملاقات میں یہ تاثردیا جاتا ہے کہ سب کی مشاورت اورہم آہنگی کے ذریعے معاشی معاملات طے کیے جارہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ سرکاری خرچ پر بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے اور قوم کو بے وقوف بنانے کیلئے یہ ظاہر کیاجاتا ہے کہ ”سب اچھا ہے اور ہمارا تجارتی سطح پر دنیا سے اچھا رابطہ ہے“۔ عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک معاشی طورپر بہت مستحکم ہے جبکہ آج پاکستان اپنی 78 برس کی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی انحطاط کا شکار ہے۔ غیرملکی سرمایہ کارپاکستان میں کسی قسم کا معاشی یاتجارتی معاہدہ کرنے کیلئے ہرگز ہرگز تیار نہیں۔ معاشی بدحالی، خرابی اورانحطاط کی وجہ سے پاکستان میں سینکڑوں ٹیکسٹائل ملز، دیگر صنعتیں اور کمپنیاں بند ہورہی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ملک میں مہنگائی کی جو شرح ہے وہ 78 برسوں میں نہیں تھی، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اورغریب عوام کیلئے ایک وقت کی روٹی کا حصول مشکل بن گیا ہے۔
آپ نے 10، 11 سال قبل چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کا بڑا چرچا سنا ہوگا کہ اس منصوبے سے دوسال میں ہی پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا،میں نے پانچ سال قبل جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا تھاکہ یہ ڈرامہ کررہے ہیں اور امریکہ بہادر سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچنے ہی نہیں دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سویلین صدر ہیں، گزشتہ دنوں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے سلسلے میں شرم الشیخ مصر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی اوروہاں اسلامی اوریورپی ممالک کے سویلین سربراہوں سے ملاقاتیں کیں وہاں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کاتذکرہ کیوں کیاتھا؟آخراس کاکیامقصد تھا؟ ایک امریکی صدر کا کسی ملک کے چیف آف آرمی اسٹاف سے متعلق ایسی محفل میں تذکرہ کرنا جہاں مختلف ممالک کے صدور،وزرائے اعظم اور ممالک کے متعین کردہ نمائندگان شریک تھے وہاں امریکی صدر کی جانب سے پاکستانی فوج کے سربراہ کی بات کرنے کامطلب کیاہے؟
امریکی صدر کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کی یاد تو بہت آتی ہے لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے تو امریکی نژاد پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے صدراور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو خطوط اورپٹیشنز بھیج کر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی غیرقانونی گرفتاری سے آگاہ کیالیکن امریکہ کی جانب سے عمران خان اوران کی اہلیہ کی غیرقانونی قید کے خلاف کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیاگیا۔البتہ صدرٹرمپ، پاکستانی فیلڈ مارشل کوان کی غیرموجودگی میں بھی یاد کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف امریکی صدر کو کئی مرتبہ سیلوٹ پیش کرتے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان بیرونی طاقتوں کادستِ نگر ہے اسی لئے ان کی ڈکٹیٹشن پر چلتا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم کے خوشامدانہ طرزعمل کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان معاشی طورپر بالکل تباہ ہوچکا ہے،اس کانظام آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، دیگربین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں اوربیرونی ممالک کی بھیک اور خیرات سے چل رہاہے، پاکستان کو عوام کی فلاح وبہبود، ترقی اورروزگارفراہم کرنے کیلئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے جو رقم ملتی ہے وہ سرکاری دعوتوں میں خرچ ہوجاتی ہے اورملک میں معاشی تباہی اوربے روزگاری عروج پر ہے۔
1/2
شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی والدہ کے انتقال پر ڈاکٹر صاحب کی ہمشیرہ نرگس باجی اور بہنوئی سےفون پر بات ہوئی۔ ان سے والدہ کے انتقال پر قائد تحریک جناب الطاف حسین، رابطہ کمیٹی اور تمام وفاپرست ساتھیوں کی جانب سے تعزیت کی ۔اللہ انکی والدہ کی مغفرت فرمائے
#RaeesaFarooqRIP
امریکہ میں گرفتار پاکستانی نوجوان آصف رضا مرچنٹ کے حوالے سے اہم انکشافات
—————————————————
امریکہ میں سیاستدانوں کو قتل کروانے کی سازش میں گرفتار پاکستانی نوجوان آصف رضا مرچنٹ کے بارے میں کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آصف مرچنٹ کےسہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے جس کے باعث ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں خصوصا مصطفے کمال، انیس قائم خانی اور انکی سرپرستی کرنے والے رضوان اختر اور بلال اکبر سمیت دیگر فوجی افسران