کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ یاراں
رہتا جو یونہی راز اسے پا تو گئے ہم
اب سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے
پھر ان سے نہ ملنے کی قسم کھا تو گئے ہم
اٹھیں کہ نہ اٹھیں یہ رضا ان کی ہے جالبؔ
لوگوں کو سر دار نظر آ تو گئے ہم
#TeachersProtest
کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا
لو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم
جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر
دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم
#TeachersProtest
اگر نہ عہد کیا ہم نے ایک ہونے کا
غنیم سب کا یوں ہی بیچتا رہے گا لہو
کبھی کبھی مرے بچے بھی مجھ سے پوچھتے ہیں
کہاں تک اور تو خشک اپنا ہی کرے گا لہو
صدا کہا یہی میں نے قریب تر ہے وہ دور
کہ جس میں کوئی ہمارا نہ پی سکے گا لہو
#TeachersProtest
بٹے رہو گے تو اپن�� یوں ہی بہے گا لہو
ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو
ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ ورو
تمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو
#TeachersProtest
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں
اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں
جہاں اقبالؔ بھی نذر خط تنسیخ ہو جالبؔ
وہاں تجھ کو شکایت ہے ترا جوہر ہے خطرے میں
#TeachersProtest