بلوچستان سمیت پورے پاکستان کا مسئلہ صرف ایک عاصم منیر ہے یقین نہ آئے تو ایک عام شہری کا بیان سن لیں !💥
آرمی چیف بول رہا تھا 1500 بندے بلوچستان علحیدہ کرنا چاہتے ہیں آرمی چیف جب تم عورتیں بندے اغواء کرو گے اور انکا کوئی پتہ نہیں ملے گا تو ہر کوئی جنگ کرے گا،
میرے بچوں کی ماں دو سال سے اغواء ہے اسکا قصور صرف یہ تھااس نے 9 مئی کو احتجاج کیا۔اس پر تھانے کے ایس ایچ او نے تشدد کر بیان لئیے،ہم نے احتجاج خانیوال میں کیا اس پر مقدمہ لاہور میں 9مئی کا ڈال دیاآرمی چیف تم نے حکم دیاتھا پی ٹی آئی کی عورتیں پی ٹی آئی کے بندے اغواء کرو۔آرمی چیف صاحب بلوچوں کا درد میں سمجھ سکتا ہوں اور ہمارا آرمی چیف قرآن کی آیتیں سناتا ہے کہ کوئی خبر آئی اسکی تصدیق کر لو آرمی چیف صاحب قرآن میں یہ بھی لکھا ہے کسی کا حق نہ مارو آج تم فرعون بنے ہوئے ہو ایک دن اس تخت سے اتر جاؤ گے میں نے بچوں کے ہاتھ میں قلم دیا ہوا میرا بھی دل کرتا ہے انکے ہاتھ میں اسلحہ دے دوں،جیسا ہمارا آرمی چیف ہے ایسا دنیا میں کسی ملک کا آرمی چیف نہیں ہے (گالی )پہلے تو تو قرآن پر عمل کر (گالی)
@MaidahMuhammad افسوسناک۔ ایک سوال ہے۔
ان لوگوں کی ٹریننگ سمندر میں گرنے کے بعد لائف جیکٹس کے استعمال کی بہت ہوتی ہے۔ کوئی ایک بھی استعمال نہیں کر پاتا ۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے?
جہاز کا ہوا میں تباہ ہونا بہت کم ہوتا ہے۔
ڈڈو چارجر اسمبلی میں کھڑے ہو کر بڑے فخریہ اور طنزیہ انداز میں کہتی ھے "ہاں بھئی، خریدا ہے جہاز، کر لو جو کرنا ہے"....
سائرہ بانو نے ڈڈو چارجر کو تن دیا
کیوں تمھارے باپ کے پیسوں سے خریدا ہے
یا آپنی ماں کے گردے بھیج کر تم نے جہاز خریدا ہے ؟ 😂😂
@MaidahMuhammad مشورہ اچھا ہے مگر ہمارے پاس اب کچھ خریدنے کے پیسے کہاں بچے ہیں۔ بچوں کے لیے پھل خریدنے کے لیے بھی دس بار سوچنا پڑتا ہے۔ کاروبار بند پڑا ہے۔ 😭
جن لوگوں کے پاس اصلی خاک ہے کربلا کی خاک شفا اصلی وہ عاشور کے دن سرخ ہوجاتی ہے۔ چودہ سو سال بیت گئے لیکن مٹی نے سرخ ہونا نہیں چھوڑا تو ہم رونا کیسے چھوڑ دیں؟
کیا یہ بات ٹھیک ہے? اہل دین بتائیں۔
بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!
" گزشتہ ہفتے میں ایک تجرباتی مقصد کے لئے ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.
ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
کالج میں ہمارے ایک استاد فرماتے تھے کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.
اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں.
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.
صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.
یاد رکھئے!
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے.
خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی.
باقی مرضی آپ کی"
If the fish comes out of the water to tell you the crocodile is sick, believe it.
In the same way, when a retired Pakistani army officer like @soldierspeaks; a man who has lived and breathed the uniform, the chain of command, the sacred code of loyalty and the iron discipline of the armed forces, and who, even after retirement, remained firmly within the fold of that powerful institution, steps out of that entire world, burns every bridge behind him and walks into self-imposed exile, leaving behind his country, his standing, his security and the only life he has ever known, believe him.
He is not some disgruntled outsider. He is not a journalist chasing headlines. He is not a politician playing games. He is the fish that has left the water. The very element that gave him life, identity and protection has now become the thing he must escape in order to speak.
For such a man to speak against the system, and especially against the armed forces, is not a small act of dissent. It is an act of existential rupture. It is the fish choosing suffocation on dry land over silence in the depths. It is the soldier choosing the loneliness of exile over the comfort of complicity.
When the insider who knows the inner circles, the files, the orders, the culture and the rot, when that man risks everything to say the crocodile or in this case, the institution of the armed forces is sick, his words do not deserve scepticism. They demand belief.
Because fish do not leave the water for lies. And officers of his calibre do not leave the fold for nothing.
جب عمران خان نے عاصم منیر کو عہدے سے فارغ کیا تھا، تو ایک دن ہماری کال ہی نہیں اٹھائی، میں نے اگلے روز پوچھا خان صاحب آپ نے فون کیوں نہیں اٹھایا اتنا بڑا فیصلہ لے کر، عمران خان نے کہا تم لوگ بزدل ہو، جنرل باجوہ اس فیصلے پر آن بورڈ تھا،
میں نے عمران خان کو کہا کہ بادشاہ جب کسی جرنیل سے تنگ ہوتے تھے تو وہ انہیں بغاوت والے علاقوں میں بھیج دیتے تھے یا حج پر،
آپ نے سیدھا عہدے سے ہی ہٹا دیا، اس کے بعد سے معاملات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے، بیرسٹر شہزاد اکبر
Impresionante muestra de poder de la delegación iraní en Suiza. Llegaron después, los hicieron esperar a los estadounidenses, se negaron a darles la mano, defendieron sus exigencias y ante las primeras amenazas de Donald Trump se retiraron de las negociaciones mientras lo trataron de desesperado. Hicieron ver a los Estados Unidos como los débiles del acuerdo. Es increíble como los persas manejan lo simbólico, como si jugaran una partida del ajedrez. No hay dudas que Irán ya se estableció como la principal potencia de Medio Oriente.
اس نوجوان کا نام راشد ہے والد کا نام عبدالرزاق ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ شاید سال 2000 سے 2004 کے درمیان کسی سال میں یہ کم عمری میں گھر سے نکلا تھا راستہ بھول گیا آج تک گھر نہیں لوٹ سکا۔
راشد کا کہنا ہے کہ انکی فیملی گاؤں سے کراچی شفٹ ہوئی تھی۔ کراچی میں سال مکمل ہونے سے قبل وہ گم ہوا تھا۔
کراچی میں جہاں رہائش تھی گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھی پہاڑی کی طرف گھومنے جاتے تھے۔ مدرسے سے کسی رشتےدار کے ہاں گیا تھا پھر وہاں سے اپنے گھر جانے کے لئے بس میں بیٹھ گیا کسی انجان جگہ پہنچا جہاں پولیس نے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں داخل کردیا تھا۔ وہ دن آج کا دن راشد اپنوں سے جدا ہے۔
راشد کو والد کا نام عبدالرازق یاد ہے۔والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔
یہ اکلوتا بھائی تھا۔ تین بہنیں تھیں۔بڑی بہن گونگی تھی ،دوسری بہن کا نام عائشہ اور تیسری کا نام رمشہ تھا۔
والد مستری کا کام کرتا تھا۔گھر میں اردو بولتے تھے۔
کراچی میں گھر کے قریب پاپے بنانے والی فیکٹری تھی۔پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر پہاڑی تھی۔
ایک طرف راشد کی حالیہ تصویر ہے اور دوسری طرف بچپن کی۔
راشد والدین کا اکلوتا بیٹا تھا نجانے ماں اپنے شہزادے کے لئے کس کرب سے گزری ہوگی۔ جس بیٹے نے بڑے ہوکر ماں باپ کا سہارا بننا تھا وہ بھری جوانی میں لاوارث ہے ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ ایک بچھڑا ہوا شہزادہ اپنوں کو مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج ہمارے فون نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
20 june 2026
#waliullahmaroof
INSTEAD OF WATCHING AN HOUR OF NETFLIX TONIGHT.
This 1 hour Stanford lecture by Joel Peterson will teach you more about negotiation and getting what you want than most people learn in years.
Bookmark it and give it an hour, no matter what.
پاکستان کے قومی ترانے کا ہمیشہ ہی بہت بڑا مداح رہا ہوں کہ ایک ایک لفظ نگینے کی مانند جڑا ہے اور حیران کن طور پر مرکزی خیال بھی کسی عقیدے سے بڑھ کر اتحاد و یکجہتی پر مبنی ہے۔ اب حفیظ جالندھری صاحب کا یوٹیوب پر انٹرویو دیکھا تو یہی بات ان سے اور کشور صاحبہ سے سن کر بہت خوشی ہوئی:
کیسے عجیب لوگ تھے جن کے یہ مشغلے رہے
میرے بھی ساتھ ساتھ تھے غیر سے بھی ملے رہے
تُو بھی نہ مل سکا ہمیں عمر بھی رائیگاں گئی
تجھ سے تو خیر عشق تھا خود سے بڑے گِلے رہے