کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی ٹیچر حمیدہ بی بی پہلی سے پانچویں جماعت تک کے غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، والدین نے بتایا کہ ماہنامہ فیس 300 اور چار سو لیتی ہیں ۔ ایک گھر کے دو بچے پانچ سو ماہانہ بھی دیتے تھے ۔ اور کئی بچے وہ بغیر فیس کے بھی پڑھاتی تھیں ۔ اس علاقے کے بچوں کے والدین پرائیویٹ سکول کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ شام کے یہ چند گھنٹے ان بچوں کے لیے تعلیم کا واحد دروازہ تھے، اور حمیدہ بی بی کے لیے گھر چلانے کا سہارا۔ اس محنت کے بدلے مہینے میں نو دس ہزار روپے ملتے تھے، جس سے صرف بجلی کا بل ہی شاید ادا ہوتا ہو ۔ ایک ایسی رقم جو آج کے مہنگائی زدہ دور میں ایک ہفتے کا راشن بھی مشکل سے پورا کرتی ہے۔
ان کے شوہر محلے میں پھل کی ریڑھی لگاتے، دن بھر کی کمائی تین چار سو روپے، اس امید پر کہ شام کو گھر میں چولہا جل جائے۔ یہ ایک عام سا گھرانہ تھا جو دو محاذوں پر لڑ کر بمشکل زندگی کی گاڑی آگے دھکیل رہا تھا۔ جس وقت چھت گری، حمیدہ بی بی خود اسی ملبے تلے آگئیں، ان کی بیٹی زخمی ہوئی، اور ان کے دیور کی چار سالہ بیٹی بھی ثانیہ آج زندگی کی بازی ہار گئی۔ حمیدہ کے شوہر اور دیور پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ بچی سمیت ہسپتال میں ۔۔
اپ بے شک ٹیچر کو قصوروار سمجھیں، مگر یہ قدرت کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت ہے ، جو والدین دو سو روپے ماہانہ فیس بمشکل دے پاتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے حکومت نے کیا محفوظ متبادل دیا ہے، دوسری طرف صوبائی حکومت کے، وسائل اربوں روپے کے جہاز پر خرچ ہوجاتے ہیں، تنقید ہو تو دفاع میں یہی کہا جاتا ہے
ہاں بھئی ۔۔ ہم نے جہاز خریدا ۔۔ جو کرنا ہے کر لو
ایک طرف سسکتی رینگتی زندگی ۔۔۔ اور دوسری طرف عیاشی کے لیے ان کے ہی پیسوں سے گیارہ ارب روپے کا لگژری جہاز !!
دو طبقات میں تفریق بھی ۔ ۔۔ زمین آسمان کے فاصلے سے زیادہ ہے۔ 💔
ایک طرف آہیں ، چیخیں ، بین ، بھوک ، گرتی کمزور چھتیں ۔۔۔
اور دوسری طرف
ہاں بھئی ہم نے جہاز خریدا ہے ۔۔
منقول
جب نیتوں پر فتور غالب آ جائے تو پہلے سے پڑے 37 دن کے اسٹاک پر 55 روپے اضافہ کر دیا جاتا ہے لیکن جیسے ہی انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمت 68 ڈالر سے بھی نیچے گر جائیں تو وہ تیل ریفائنری کے لیے ہوتا ہے یہ ہے منطق ہمارے نااہل نالائق وزیر پیٹرولیم کی
سوات کی سیف اللہ جھیل میں کشتی ڈوبنے سے جاں بحق 6افراد کی لاشیں لاہور ڈی ایچ اے پہنچ گئیں
لاہور :کشتی ڈوبنے سے جاں بحق افراد میں کرنل ریٹائرڈ عامر اوندل ،20 سالہ بیٹا عبداللہ ،
27 سالہ پروا اوندل ، 23 سالہ بیٹی رویل اوندل شامل ہیں ۔
لاہور::پروا اوندل کا ایک سالہ بیٹا اور 5 سالہ بیٹی بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہے۔
لاہور :24 سالہ بشری سموئی کو ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔
لاہور :بشری سموئی پانچ روز قبل امریکا سے ڈگری لے کر پاکستان آئی تھیں
لاہور :تمام افراد اسلام آباد ایمبسی ویزا لگوانے گئے اور وہاں سے سوات چلے گئے تھے ۔
غزہ میں ملبے تلے سے نوجوان فلسطینی خاتون اوریب عزمی الریس کی لاش کی باقیات نکالی گئی ہیں۔
انہیں اسرائیلی افواج نے اس وقت مار دیا تھا جب ان کے ساتھ پورا خاندان ایک حملے میں ان کے گھر میں دب گیا اور تباہ ہو گیا، یہ واقعہ ڈھائی سال پہلے پیش آیا تھا۔
@farii_022 واہ کیا معیار سیٹ کیا ہے جناب نے مطلب جو مفت ٹریول کرے وہ ایماندار اور جو جیب سے کرایہ ادا کرے وہ کرپٹ رشوت خور۔
اور اس پر جی حضور کہنے والوں کا حال دیکھو پھر کہتے ہیں کہ ہم باشعور ہیں۔
1879 میں مصر کے ایک عام دیہاتی علاقے کفر الشیخ کی ایک سادہ عورت مبارکہ خفاجی نے ایک کسان ابراہیم عطا سے شادی کی۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے شوہر نے اسے اس وقت طلاق دے دی جب وہ حمل کے آخری مہینوں میں تھی۔
مبارکہ اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ اسکندریہ منتقل ہو گئی، جہاں اس نے اپنے بیٹے علی ابراہیم عطا کو جنم دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو بہتر تعلیم اور بہتر مستقبل دے گی۔
زندگی نے اسے سخت حالات دیے، مگر اس نے مایوسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ اگر چاہتی تو اپنے بیٹے کو محنت مزدوری پر لگا سکتی تھی، مگر اس نے خود سڑکوں پر پنیر بیچ کر اس کی پرورش کی۔
اس نے اپنے بیٹے کو رأس التین پرائمری اسکول میں داخل کروایا۔ جب وہ ابتدائی تعلیم مکمل کر چکا تو اس کے والد اسے واپس لے جانے آئے تاکہ اسے صرف بنیادی تعلیم کے بعد مزدوری پر لگا دیں۔
لیکن مبارکہ کے خواب بڑے تھے۔ اس نے ہمت اور حکمت سے اپنے بیٹے کو چھپا کر قاہرہ منتقل کیا اور اسے خدیویہ اسکول درب الجمامیز میں داخل کروایا۔ تعلیم جاری رکھنے کے لیے وہ ایک گھرانے کے یہاں ملازمت کرتی رہی۔
علی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور 1897 میں میڈیکل کالج میں داخل ہوا اور 1901 میں ڈاکٹر بن کر فارغ التحصیل ہوا۔
کچھ سال بعد سلطان حسین کامل شدید بیمار ہوئے اور ان کی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر عثمان غالب نے ڈاکٹر علی ابراہیم کا نام تجویز کیا۔ انہوں نے کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد انہیں سلطان کا چیف سرجیکل کنسلٹنٹ اور ذاتی معالج مقرر کیا گیا اور “بیگ” کا خطاب ملا۔
1922 میں انہیں بادشاہ فواد اول نے “پاشا” کا خطاب دیا۔
1929 میں وہ قاہرہ یونیورسٹی کے پہلے مصری ڈین بنے اور بعد میں اسی یونیورسٹی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔
1940 میں وہ وزیر صحت بنے، اسی سال انہوں نے مصری میڈیکل سنڈیکیٹ قائم کیا اور اس کے پہلے صدر بنے، ساتھ ہی وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
ایک ان پڑھ دیہاتی اور طلاق یافتہ ماں نے ایسا بیٹا پروان چڑھایا جس نے تاریخ بدل دی۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔
ہر اس ماں کو سلام جو زندگی کی حقیقی درسگاہ ہے۔
قیامت سے پہلے ایک قیامت..😭
یہ ننھی کلیاں یہ معصوم وجود... جو کل تک گھر کے صحن میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتے تھے آج مہینوں بعد اپنے ہی گھر کے ملبے سے اس حال میں ملے کہ انسانیت سر جھکائے کھڑی ہے۔ان کا کیا قصور تھا🇵🇸*💔
پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا نیورو سرجن بھی گزرا ہے
جو دولت کے
بے حد لالچ کی وجہ سے برباد ہوا
اور اب بھی اپنی کسی کوٹھی کے ایک کمرے میں گم سم پڑا رہتا
ہے
اور دن میں متعدد بار اپنا سر نوچ لیتا ہے ۔۔۔۔
یہ شہر کا نہیں اپنے ملک کا ایک کامیاب اور مشہور ترین نیوروسرجن تھا ۔
اسکے حوالے سے دو باتیں مشہور تھیں کہ یہ مریض کو تب دیکھتا تھا جب ایڈوانس رقم اسکی دراز میں پہنچ جاتی تھی
اور دوسری یہ کہ اسکے آپریشن تھیٹر میں اگر کوئی زخمی شخص پہنچ جاتا تھا تو موت کو اندر داخلے کی اجازت نہ ہوتی تھی مریض ہر حال میں بچ جاتا تھا ۔۔۔۔
شاید یہ
"میں"
اس ڈاکٹر کو لے ڈوبی ، ایک
روز ایک نوجوان کا ایکسڈنٹ ہوا اور اسے اسی نیوروسرجن کے ہسپتال میں لایا گیا ، زخمی نوجوان کو سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور اسکے لواحقین بھی ساتھ موجود نہ تھے ،
سرجن ڈاکٹر کو جب پتہ چلا کہ ابھی پیمنٹ نہیں ہوئی تو اس نے زخمی کو دیکھنے سے بھی انکار کردیا آپریشن تو دور کی بات تھی ،
سٹاف نے بہت زور لگایا کہ کسی طرح اس نوجوان کے لواحقین کو بلا لیا جائے لیکن کچھ پتہ نہ چلا اور اسی چکر میں کافی دیر گزر گئی ، آخر سٹاف میں سے ہی کسی نے ایک خوبرو نوجوان کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر ازراہ انسانی ہمدردی ڈاکٹر کو یقین دہانی کروائی کہ اگر اس کے لواحقین نہ آئے یا پیسے نہ دیے تو آپ میری تنخواہ کاٹ لیجیے گا ۔۔۔
نیورو سرجن صاحب اس یقین دہانی کے بعد آپریشن تھیٹر پہنچے مریض پہلے ہی وہاں پہنچا دیا گیا تھا
۔ سرجن ڈاکٹر پر یہ دیکھ کر قیامت ٹوٹ پڑی کہ زخمی نوجوان کوئی اور نہیں اسکا اپنا اکلوتا بیٹا تھا
جو تیز رفتاری کے ساتھ موٹرسائیکل چلانے کا شوقین تھا اور آج حادثہ کر بیٹھا تھا ۔۔
نیورو سرجن نے روتے اور چیختے ہوئے آپریشن شروع کیا
مگر اس روز موت کا فرشتہ آپریشن تھیٹر میں داخل ہو گیا ، زخمی نوجوان جانبر نہ ہو سکا اور آپریشن کے دوران ہی دم توڑ گیا ۔۔۔۔
اس غم نے دنوں میں نیوروسرجن کو پاگل بنا دیا ۔۔۔
کچھ عرصہ قبل سنا تھا کہ وہ ڈاکٹر بعد میں نیند کی دوائیون کے مسلسل استعمال سے اپنی صحت برباد کر بیٹھا اور اسکی دماغی حالت ایسی ہو گئی کہ کرنسی نوٹ دیکھتا تو چیخیں مار کر رونے لگتا تھا
بجٹ سے ایک واقعہ یاد آگیا
لاہور گلبرگ میں مشہور ٹیلر تھا، اس کے پاس ایک صاحب اپنابلیزر سلوانے آے۔ انہوں نے سائز کےنمونے کےلیے اپنا ایک پرانا کوٹ دے دیا۔
جب درزی خانے سے کوٹ سل کر آیا تو فٹنگ میں فرق نکلا۔ اور اتنی گنجائش بھی نہیں تھی کہ اسکو ترمیم کرکے ٹھیک کیا جا سکے۔
اب دکاندار اور ٹیلر ماسٹر سوچ میں پڑ گیے کہ کیا کریں۔
دکاندار کے ذہن میں شیطانی آئیڈیا آیا اور اس نے گاہک کے نمونے کے کوٹ کا سائز بھی ترمیم کرکے نئے جیسا کر دیا۔
اب گاہک نے آ کر نیاکوٹ پہنا تو فٹنگ ٹھیک نہیں نکلی، وہ غصہ ہوا تو ماسٹر بولا کہ سر آپ اپنا نمونے والا پہن کر دیکھ لیں ہم نے عین اس کے مطابق بنایاہے
لو جی اب گاہک نے پرانا کوٹ پہنا اور وہ حیران پریشان آئینے کے سامنے کھڑا سوچتا رہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
تو
حکومت سے غربت میں کمی نہیں ہو سکی تو خط غربت ہی نیچے کرکے۔ ساڑھے آٹھ ہزار ماہانہ کمانے والے کو بھی غربت کی کیٹگری سے نکال دیا۔
*کبھی آپ نے شیطان کو دھوکہ دیا ہے؟*
یہ کوئی مشکل کام نہیں…
بس ذرا سی ہوشیاری،
ذرا سی تیزی،
اور نیت میں خلوص چاہیے۔
یہ دراصل ایک بہت خوبصورت گیم ہے —
جس میں ہار شیطان کی ہوتی ہے،
اور جیت… اللہ کی رضا کی۔
یہ گیم مجھے میرے پیارے بابا جان رحمہُ اللہ نے سکھائی تھی۔
👇
وہ باپ کے مرنے کے 3 سال بعد، اپنا اُجڑا ہوا دل لے کر میکے آئی تھی۔
کیوں؟
کیونکہ والد کے انتقال کے بعد اُس کا انتظار کرنے والا کوئی نہیں تھا کسی نے اُسے کہا ھی نہیں تھا عید شب رات کو چکر لگا لے۔ اور سسرال کی عورتیں، پڑوسنیں روز پوچھتی تھیں: *"تم اپنے میکے کیوں نہیں جاتی؟"*
بس یہ طعنے سن کر وہ جون کی گرمی میں سفر کر کے بابل کے گھر پہنچی۔
*میکے پہنچ تو
بھابی نے اسٹیل کے گلاس میں پانی دیا۔ وہ پیاس بجھانے کے لیے گٹا گٹ پی گئی۔ پیاس پانی کی نہیں تھی... 3 سال کی تنہائی، بےعزتی اور طعنوں کی پیاس تھی۔
تھوڑی دیر بعد بھابی ایک گلاس میں بوتل ڈال کر لے آئی۔ اس نے وہ بھی چپ چاپ پی لی۔ شکایت نہیں کی۔
پھر بھابی نے صحن میں چارپائی پر کھانا لگانا شروع کیا۔ دال، کدو کا سالن اور چاول۔ بھابی نے اپنے شوکیس سے ڈنر سیٹ اتارنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ وہی پرانی پلیٹیں، وہی چمچ جو اس کے بابا نے کبھی خریدے تھے۔
وہ چپ چاپ دیکھتی رہی... اور شکر گزاری سے کھا لیا۔
*کیوں؟*
کیونکہ *نخرے صرف ماں باپ کے سامنے ہوتے ہیں۔* ویسے بھی اُسے ماں باپ کے پرانے برتنوں سے انسیت ہی بُہت تھی اور
بھابیوں کے سامنے سر جھکانے میں ہی بہتری ہے۔ ورنہ بھابیاں منہ نہیں لگاتیں۔ بہت جلد بھائیوں کا دل بدظن کر دیتی ہیں۔
یہاں اس کے لیے بھابی کے برتن اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ *اس کے لیے صرف اپنے میکے میں آ کر سسرال میں عزت بنانا اہم تھا۔*صرف چند دن سسرال اور محلے والوں کی نظروں سے اوجھل ہونا اہم تھا
پھر چاہے بھائی بھابی کچھ بھی سلوک کریں... *کچھ بیٹیاں اندر ہی اندر سب کچھ پی جاتی ہیں۔*آدھی رات کو کھلے آسمان تلے چارپائی بچھائی ہوئی اس کی چارپائی پر کوئی چادر دری نہیں تھی صرف ایک تکیہ اور شروع میں بھائی بھابی کی چارپائی ائیر کولر کے سامنے تھی باقی اُنکے بچوں کی سب سے اینڈ پر وہ بیٹی لیٹ گئی اُسے ہوا نہیں آرہی تھی لیکن اس نے رب کا شکر ادا کیا سونے کے لیے چارپائی تو ملی رات کو نیم کیودرختوں کی ہوا چلی تو اسے ٹھنڈ لگنے لگی اس کی آنکھ کھلی سب اپنے اپنے کھیس لے کر سو رہے تھے
اس نے رات ایسے ہی گزاری وہی میکے کا گھر تھا جہاں وہ رہتی تھی سسرال گئی تو ہر چیز پرائی ہوگئی اس کے ماں باپ کا سامان بستر چارپائی سب بھائیوں کے استمال میں تھا پھر بھی اس نے احسان ہی جانا۔۔
*بھائیو:* جب بہن میکے آئے تو یاد رکھنا، وہ سسرال کے طعنے سن کر آئی ہے۔ اسے عزت دو۔
*سسرال والو:* بیٹی کو میکے جانے پر مجبور نہ کرو۔ اگر 3 سال بعد گئی ہے تو سوچو اس نے کیا سہا ہو گا۔
باپ کے بعد میکے کے در و دیوار بھی بدل جاتے ہیں۔ لیکن بیٹی پھر بھی اسی آس پر آتی ہے کہ شاید یہاں سانس لے سکے۔
کسی نے کیا خُوب کہا میکا تو صرف ماں باپ سے ہوتا ہے
اللہ ہر بیٹی کے نصیب اچھے کرے 🤲🤲🤲🤲
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہر بات پتھر پر لکیر تو ہے ہی لیکن ان کی منہ سے یہ باتیں سن کر بہت شاندار لگی بہت مزیدار انداز میں یہ باتیں کی ہے
(1).اپ پندرہ سو لوگ اکھٹے کرکے کہتے ہے کہ ہم بلوچستان کولے جاینگے
آپ کے دس نسلیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کرسکتے۔
(2)اگر مجھے لگا کہ پاکستان جانے والے ہے تو ہم آدھی دنیا کو ساتھ لے کے جاینگے۔
(3)مجھے ایسی دنیا قبول ہی نہیں جس دنیا میں پاکستان نہ ہوں۔
یہ جو الفاظ ہے فیلڈ مارشل کے ہیں یہ سننے میں معمولی لگتے ہے لیکن ان باتوں پر غور کرنے کے بعد انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان باتوں میں کتنا درد ہے اس طرح کی باتیں کوئی عام یا بزدل کی بس کی بات نہیں ایسے کہنے کیلئے ببرشیر کادل اور ملک کیلئے سچاپیار کا ہونا لازمی ہے جو دونوں خصوصیات فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میں موجود ہے ببر شیر کادل اور وطن سے سچی محبت ۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
ذندہ باد🫡
یہ تصویر معصومیت پر ڈھائے جانے والے اس ظلم کی ایک دردناک داستان ہے، جو لفظوں کی محتاج نہیں۔ تصویر میں موجود یہ بچی غزہ کی ننھی 'رہف' ہے، جس نے ایک بم دھماکے میں نہ صرف اپنا گھر کھویا بلکہ اپنے دونوں معصوم پاؤں بھی گنوا دیے۔ یہ سسکتی ہوئی تصویر انسانیت کےضمیرپرایک بہت بڑا بوجھ ہے۔
@Saminakhan4000@qasm588 اگر پیشہ ور بھکاری نہ ہوں تو عوام کھلے دل کی مالک ہے۔
میرے آبائی گاوں میں سالوں سے ویلفیئر فاؤنڈیشن یے۔ممبران ماہانہ رقم بھیجتے ہیں۔فاونڈیشن نے دکاندار کو غرباء کےنام اور گھرانے کے افراد کے حساب سے قرض کی لمٹ دی ہوئی ہے۔مہینہ بعد فاونڈیشن ادائیگی کرتی ہے۔
کوئی بھکاری نہیں ہے۔