مجھ کو لگتا تھا کہ وہ آ کر سمیٹے گا مجھے
روز اُس کے راستے میں یوں بکھر جاتا تھا میں
وہ مجھے جینے کا کہتا تھا تو جی اُٹھتا تھا دل
وہ مجھے مرنے کا کہتا تھا تو مر جاتا تھا میں
کچھ نظر آتا نہ تھا مجھ کو سوائے یار کے
حد تو یہ تھی عشق میں حد سے گزر جاتا تھا میں
دلاور علی آزر
میری غزلوں کا انتخاب 'سورج مکھی کا پھول' کے نام سے ہندوستان کے انتہائی معتبر ادارے ریختہ نے دیوناگری رسم الخط میں شائع کر دیا ہے اس کرم فرمائی پر ادارے کا تہ دل سے متشکر ہوں کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے لنک اور ایمازون سے استفادہ کیجے
https://t.co/TVu7A45I82
#دلاور_علی_آزر