3/4 ایک کے بعد ایک بچے کو وینٹیلیٹر پر شفٹ کرتے گئے اور موت کا انتظار کرتے رہے. ایک دن ایک پروفیسر مریضوں کے لواحقین سے مخاطب ہوتے ہیں "ہم آپ کا علاج کرکے آپ پر احسان کر رہے آپ بلوچ احسان فراموش ہیں"
اسی دن تہیہ کرلیا کہ پلاسٹک سرجری میں سپیشیلائیزیشن کروں گا.
کوہِ سلیمان، تھوخ گجڑی: ۲/۲
آج تک آمدورفت کے لیے کوئی روڈ نہ بنایا گیا – ایک اور حادثہ،
غریب بلوچ آج بھی بدحال سڑکوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ آج پھر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جب خواتین اور بچوں سے بھری ہوئی ایک لوڈ ٹریکٹر ٹرالی خستہ حال سڑک پر الٹ گئی۔ کئی لوگ زخمی
کوہِ سلیمان، تھوخ گجڑی:
۳ سال پہلے @BSAC_org کی کال پر فری میڈیکل کیمپ کرنے گے ۔ لوگوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسوں رویا کینسر کے کئی مریض پائے۔ کینسر سے ایک بندے کا اُس دن جنازہ اٹھتے دیکھا
یہ وہ علاقہ ہے جہاں ۱۹۴۷سے لے کر آج تک نہ کوئی ہسپتال، سکول بنا ۱/۲
گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیرمین ڈاکٹر بہار شاہ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے تمام جائز آئینی مطالبات کی حمایت کرتے ہیں جو پچھلے کئی مہینوں سے آئینی مطالبات کےلئے احتجاج پہ تھے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
Bolan Medical college authorities have suddenly ordered the BMC girls hostel to be emptied, requiring students to leave instantly with all their possessions. We are faced with the dilemma of where to go at this critical moment. #SaveBalochStudents
گوادر دھرنا پاکستانی فوج کے حملے کی زد میں۔ گرفتاریاں، دھونس و دھمکی کا سلسلہ جاری۔ بلوچی راجی مُچی دھرنے میں تبدیل مطالبات کے تسلیم ہونے تک۔
بلوچستان کا مسئلہ نہ ایک دن ہے اور نہ ہی ایک راجی مُچی پر اختتام پذیر ہوگا۔ گزشتہ سات دھائیوں سے پاکستانی جبر کے خلاف چل رہی ہے۔ جس کی قیادت ایک نسل سے دوسری بلوچ نسل کو منتقل ہو��ی جارہی ہے۔ اور بلوچ عوام سیاسی بلاغت اور تحریک کی وسعت نئی بلندیوں کو چھورہی ہے۔ جسکی مثال بلوچ تحریک کی خواتین کے مضبوط ہاتھوں میں منتقل ہونا اور بلوچ خواتین کی بے مثال شراکتداری سے تحریک کی بنیادیں مضبوط ہورہی ہے۔
پاکستانی ریاست اور فوج کا یہ کالا دھندہ ۷۵ سال سے بلوچ عوام کے ساتھ جاری ہے
لیکن
نہ پاکستان کے جبر میں کمی آئی ہے
اور نہ بلوچ عوام کی ہمت ٹوٹی ہے
Urgent attention!
Currently, the Pakistani Army and FC have launched another brutal and violent attack on the peaceful Baloch National Gathering sit-in in Gwadar.
Surrounding the sit-in from all sides, they have indiscriminately fired upon peaceful protesters and subjected them to severe violence, resulting in multiple injuries and the arrest of hundreds.
At this moment, the Pakistani state is committing extreme oppression and tyranny against peaceful protesters in Gwadar. The entire city has been held hostage at gunpoint by the Pakistani military. We are not being allowed to evacuate the injured, nor are ambulances being given passage.
Now, the scenes in Gwadar are nothing short of apocalyptic!
I urge you all to immediately write to human rights organizations, journalists, and anyone concerned with human rights, as thousands of lives are currently at extreme risk in Gwadar.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
حکومت نے گوادر میں اس اجتماع کے انعقاد کو روکنے کے لئے بلوچستان میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا لیکن لوگ رکاوٹیں توڑ کر اجتماع میں پہنچ گئے احتجاج میں شریک لوگوں کی بڑی اکثریت عورتوں اور بچوں پر مشتمل ہے ،سبق یہ ہے کہ ریاست کی لاٹھی اور بندوق آخر کار جیل کا خوف ختم کر دیتی ہے
Gwadar doesn’t belong to Pakistan or China; it belongs to the Baloch.
Defying barricades and hurdles by the Pakistani army, the resilient Baloch, led by their iron lady, Mahrang, have gathered in Gwadar city.
#BalochNationalGathering.
https://t.co/ywOqmvWMmx