پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر ہوں گی ۔ علی پرویز ملک
لیکن جب تیل سستا ہورہا تھا تو یہی صاحب فرمارہے تھے کہ خام تیل سستا ہونے سے پیٹرول سستا نہیں ہوسکتا۔
اور نہیں تو ان کو اپنی بات پر ہی قائم رہنا چاہیے تھا
یہ ایک چھوٹا پرندہ ہے جس کی کال فریکوئنسی 432Hz ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ آواز سیروٹونن اور خوشی کے دیگر ہارمونز کے اخراج میں مدد کر سکتی ہے، اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے میں قدرتی اثر رکھتی ہے.
"اس نے قانون لالچ میں آ کر نہیں توڑا۔ اس نے یہ محبت میں کیا۔
عدالت میں کھڑا، سر دونوں ہاتھوں میں تھامے، نارنجی قیدی لباس میں کانپتا ہوا، وہ ایک عام مجرم کی طرح دکھائی دے رہا تھا جس پر فراڈ کے الزامات تھے۔ لیکن جج کی میز پر رکھی فائل ایک مختلف کہانی بیان کر رہی تھی۔ اس نے ہزاروں ڈالر کا ایک جعلی چیک لکھا تھا۔ نہ کسی نئی گاڑی کے لیے، نہ کسی چھٹی کے سفر کے لیے، بلکہ ایک فارمیسی کے کاؤنٹر پر۔ جب انشورنس کمپنی نے اس کی ماں کی جان بچانے والی دوا دینے سے انکار کر دیا تو گھبراہٹ نے اسے بے بس کر دیا۔
وہ جانتا تھا کہ چیک کی رقم ادا نہیں ہو سکے گی، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اپنی ماں کو زندہ رکھنے کے لیے دوا حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ تھا۔ اب اسی مجبوری کی وجہ سے اسے جیل کی سزا کا سامنا تھا۔ اور جب وہ وہاں کھڑا رو رہا تھا، اس کے ذہن میں جیل کا خوف نہیں تھا، بلکہ صرف یہ فکر تھی کہ اگر وہ چلا گیا تو اس کی ماں کی دیکھ بھال کون کرے گا۔
وہ سزا سننے کے لیے خود کو تیار کر چکا تھا۔ مگر جج نے ہتھوڑا نہیں بجایا۔ ایک ایسے لمحے میں جس نے پورے کمرۂ عدالت کو حیران کر دیا، وہ اپنی کرسی سے اٹھیں، آگے جھکیں اور اسے گلے لگا لیا۔
انہوں نے اس میں کوئی دھوکے باز نہیں دیکھا؛ انہوں نے ایک ایسا محبت کرنے والا بیٹا دیکھا جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہو چکا تھا۔ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور وہ فیصلہ سنایا جس نے اس کی زندگی بدل دی:
'یہ سب ختم ہوا۔ میں تمام الزامات ختم کر رہی ہوں۔ تم ایک دوسرے موقع کے مستحق ہو، اور مجھے یقین ہے کہ تم اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے۔'
انہوں نے صرف اس کی آزادی واپس نہیں کی، بلکہ اسے یہ ذمہ داری بھی دی کہ وہ گھر جائے، اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرے، اور اس رحم دلی کی قدر ثابت کرے۔
کبھی کبھی انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ سمجھنے کا بھی ہوتا ہے۔
کیا آپ کے خیال میں جج نے صرف "کیا ہوا" کے بجائے "کیوں ہوا" کو دیکھ کر درست فیصلہ کیا؟"
یہ واقعی بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی بات ہے 👍
منقول
اپنا گھر پروگرام کے تحت گھر بنانے یا خریدنے کیلئے قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر سامنے آگئی ہے۔
حکام کے مطابق سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے درخواستوں، اہلیت اور قرض کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
1. مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ)
یہ حج کا نقطہ آغاز اور اختتام ہے۔ تصویر میں کعبہ شریف کو دکھایا گیا ہے جہاں سے حاجی اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں اور طوافِ زیارت کے لیے واپس آتے ہیں۔
2. منیٰ (خیموں کا شہر)
فاصلہ: مسجدِ حرام سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: حاجی 8 ذوالحجہ کو یہاں قیام کرتے ہیں اور پھر 10 سے 12 ذوالحجہ تک یہاں واپس آکر قیام کرتے ہیں۔ اس کی اپنی لمبائی تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر ہے۔
3. عرفات (حج کا رکنِ اعظم)
فاصلہ: منیٰ سے عرفات کا فاصلہ تقریباً 10 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کو تمام حاجی یہاں جمع ہوتے ہیں۔ "وقوفِ عرفات" حج کا سب سے اہم ستون ہے، جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔
4. مزدلفہ
فاصلہ: عرفات سے واپسی پر مزدلفہ کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کی رات حاجی یہاں کھلے آسمان تلے قیام کرتے ہیں، نمازیں جمع کرتے ہیں اور رمی (جمرات) کے لیے کنکریاں چنتے ہیں۔
5. جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا)
فاصلہ: مزدلفہ سے جمرات کا فاصلہ تقریباً 6 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: یہاں تین بڑے ستون (جمرہ عقبہ، جمرہ وسطیٰ، اور جمرہ اولیٰ) ہیں جہاں حاجی سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے کنکریاں مارتے ہیں۔
6. واپسی (مسجدِ حرام)
فاصلہ: جمرات سے دوبارہ مسجدِ حرام کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: قربانی اور سر منڈوانے کے بعد حاجی طوافِ زیارت کے لیے دوبارہ کعبہ شریف جاتے ہیں۔
خلاصہ:
یہ نقشہ ایک دائرہ نما سفر کو ظاہر کرتا ہے جو مکہ سے شروع ہو کر منیٰ، عرفات، اور مزدلفہ سے ہوتا ہوا واپس مکہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس تصویر کا مقصد حاجیوں کو یہ بتانا ہے کہ انہیں کس ترتیب سے سفر کرنا ہے اور ان مقامات کے درمیان کتنا پیدل یا سواری کا سفر درکار ہوگا۔
تفسیر سیریز: پوسٹ نمبر 103
عنوان: مقروض کے ساتھ نرمی اور قرآن کی آخری وصیت آیات: سورہ بقرہ (280-281)
مختصر پس منظر:
سود کی سختی سے ممانعت کے بعد اب اسلام اس صورتحال کا حل پیش کرتا ہے جہاں ایک شخص نے قرض لیا ہو لیکن اب وہ اسے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ یہاں "قانونی گرفت" کے بجائے "اخلاقی برتری" اور "ہمدردی" کا حکم دیا گیا ہے، اور پھر کائنات کی سب سے بڑی سچائی "موت اور حساب" کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔
قرآن کا گہرا تجزیہ (Deep Analysis):
1. مہلت کا قانون (The Law of Respite):اللہ کا ارشاد ہے: "اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے آسودگی (خوشحالی) تک مہلت دو۔" (آیت 280)
نکتہ: سودی نظام مقروض کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس پر بوجھ بڑھاتا ہے، جبکہ اسلامی نظام حکم دیتا ہے کہ اگر وہ پریشان ہے تو اسے مزید وقت دو۔ یہ محض ایک مشورہ نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا ایک قانونی اصول ہے کہ معاشی تنگی کی صورت میں مقروض کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔
2. ایثار کا عروج (The Peak of Sacrifice): "اور اگر تم (قرض کو) صدقہ کر دو (معاف کر دو) تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔"
نفسیاتی پہلو: اللہ تعالیٰ یہاں "انصاف" (صرف اصل مال لینا) سے اوپر اٹھ کر "احسان" (معاف کر دینا) کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے مال کی محبت کو دوسرے انسان کی تکلیف پر قربان کر دیتا ہے۔ یہی وہ "حکمت" ہے جو معاشرے سے نفرت ختم کرتی ہے۔
3. آخری یاد دہانی: یومِ حساب (The Final Warning): آیت 281: "اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔"
حقیقت: مفسرین کے مطابق یہ آیت قرآن کی آخری وحی ہے۔ سود، انفاق اور معیشت کی پوری بحث کو اس ایک جملے پر ختم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو یاد رہے: "تمہارا مال، تمہاری چالاکیاں اور تمہارا بخل سب یہیں رہ جائے گا، تمہارے ساتھ صرف تمہارا 'عدل' اور 'احسان' جائے گا۔"
4. عدلِ الٰہی (Divine Justice): آیت کے آخر میں "لَا يُظْلَمُونَ" (ان پر ظلم نہ ہوگا) کا وعدہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے تسلی ہے جنہوں نے دنیا میں اپنا حق چھوڑا یا دوسروں پر رحم کیا؛ اللہ ان کے اس ایثار کا بدلہ ضائع نہیں ہونے دے گا۔
حاصلِ کلام (Takeaway):
اسلامی معیشت کا خلاصہ یہ ہے: "حق لینے میں نرمی اور حق دینے میں جلدی۔" اگر آپ کسی کے قرض میں نرمی کرتے ہیں تو اللہ آپ کے حساب میں نرمی کرے گا۔ شعورِ دین یہ ہے کہ ہم مال کو صرف ایک "عددی ہندسہ" نہ سمجھیں، بلکہ اسے دوسروں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ بنائیں۔
اگلی پوسٹ (104):
آیت 282: "آیتِ مُداینہ" — قرآن کی سب سے طویل آیت! مالی لین دین کے تحریری معاہدے (Contracts) کی اہمیت کیا ہے؟ اور اسلام نے معاشی شفافیت کے لیے کیا قانونی ضابطے دیے ہیں؟
ڈینڈرف ایک سوزشی اور فنگل علامت ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آپ کی اندرونی صحت خراب ہو رہی ہے
آئیے تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے بنتا ہے یہ آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتا ہے اور اسے بہتر کرنے کے طریقے کیا ہیں
پاکستان میں عیدالفطر کب ہوگی۔
اعداد و شمار کیمطابق کل صبح بتاریخ 19 مارچ پاکستانی وقت 6 بجکر 23 منٹ پر چاند کی پیدائش ہوچکی ہوگی۔ کل شام چاند 6 بجکر 47 منٹ پر غروب ہوگا ۔ کل اسلام آباد میں مغرب کا وقت 6 بجکر 16 منٹ ہے۔
تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سائنسی بنیادوں پر عمل کرکے کسی بھی اختلاف سے بچا جاسکتا ہے۔ مگر بس آگے آپ سب جانتے ہیں