حضرت محمد ﷺ کی زندگی کو رول ماڈل بنا کر دنیا کی کوئی بھی قوم عظیم سے عظیم تر بن سکتی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ حضرت ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے انسانوں کا شمار تاریخ کی عظیم ہستیوں میں ہوا۔
#MuhammadSAW_OnlyRoleModel
علیمہ خان کا اہم پیغام: 🚨🚨
"اطلاعات ہیں کہ عمران خان سے ایک 'خاموش ملاقات' کی پلاننگ کی جا رہی ہے تاکہ باہر آ کر سچ نہ بولا جا سکے، اور پھر مستقل طور پر خان صاحب تک رسائی کا راستہ ہی بند کر دیا جائے۔ یاد رکھیں! خان صاحب کا عوام اور پارٹی سے رشتہ کوئی ڈیل یا بند کمرے کی سازش ختم نہیں کر سکتی۔ ہم ڈرنے والے نہیں!"
🚨 سائفر کی اوریجنل کاپی سامنے آ گئی
ڈونلڈ لوُ نے پاکستانی سفیر کو کہا کہ “اگر تحریک عدم اعتماد سے وزیراعظم (عمران خان) کو ہٹا دیا گیا تو “سب معاف کر دیا جائے گا” کیونکہ روس کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا-
ورنہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید سختی سے isolate/اکیلا کر دیا جائے گا”
ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ #سائفر_ایک_حقیقت تھا اور عمران خان سچا تھا اور سچا ہے!!
کل جنید جمشید کے ایک گانے کی دو چار لائنز لکھی تھی مشکل وقت کے بارے میں۔ آج کسی سوشل میڈیا ٹایگریس نے اسی گانے پر یہ IK Edit بنا کر بھیجی۔
کافی لوگ سامنے آکر اپنے نام سے پوسٹ نہیں کر سکتے آجکل مگر دل اب بھی عمران خان اور پاکستان کے لیے فکر مند ہے اور سب سوشل میڈیا کنزیوم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وڈیو ایڈٹ ان سب کے لیے جو خاموش کروا دیے گئے مگر جہاں موقعہ ملتا ہے وہاں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
Again and again!
It is absolutely inhuman and illegal to keep Khan Saab and Bushra Bibi in 24hr solitary confinement. It’s also absolutely pathetic and insecure behaviour not allowing their other legal teams, personal doctors or family from seeing them for months. The entire nation prays and stands with Khan Saab. This too shall pass… 💔
یہ پوچھتے ہیں کہ عمران خان کے سوشل میڈیا کو چار سال میں ختم کیوں نہیں کر پائے اتنی طاقت استعمال کرنے کے باوجود۔
ایک چھوٹا سا جواب تو یہ ہے کہ ایک طرف سچ ہے اور دوسری طرف جھوٹ کا مکان اور منافقت۔ قدرت کا نظام ان میں سے ایک چیز سپورٹ کرتا ہے۔
کچھ منافقت بھرے عسکری دعوے سنیں:
۱) عمران خان کی بہنوں کو اس لیے نہیں ملنے دیا جاتا کیونکہ وہ سیاسی پیغام لاتی ہیں۔ مگر سلمان صفدر کو سیاسی پیغام بدھ کے روز جیل کھلوا کر بھیجا جا سکتا ہے اور ایک سیاسی فیصلہ (جلسہ منسوخ کرنے کا) واپس لایا بھی جاسکتا ہے؟
۲) نسیم شاہ کو دو کڑور روپے جرمانہ اس لیے ٹھیک ہے کیونکہ سینٹرل کانٹریکٹ کے مطابق وہ سیاسی بیان نہیں دے سکتے۔ مگر شاہین شاہ لمبے سیاسی ٹویٹ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ خد کافی لمبے ہیں؟
۳) ۹۰ فیصد پاکستان کو اپنی سیاسی رائے دینے کی اجازت نہیں مگر جب وہ کسی واقعے پر کچھ نا لکھیں تو ان کو پاکستان دشمنی کا لیبل؟ ویسے اس والی منافقت سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ پی ٹی آئی والوں کی شاباشی کے بغیر ان کی خوشی ادھوری سے بھی کم ہے، سارا دن عمران خان اور پی ٹی آئی کو یاد کرتے رہے!
۴) ۹ اپریل کو سیاسی جلسہ کرنا ملک دشمنی ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے ہیرو کو ۲۴ گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھ کر ذہنی ٹارچر کرنا ملک دشمنی نہیں؟
۵) عمران خان سے ملاقاتوں کے متعلق عدالتوں کے فیصلے روندنا ملک سے وفاداری ہے مگر اگر کوئی عوام کے ووٹ چوری کرنے والے اور نہتے پاکستانیوں پر گولیاں چلانے والے کی نشاندہی کرے تو وہ غدار؟
یہ تو چند حالیہ باتیں ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں روز ہی کوئی اس طرح کی بات ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی سارے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ سچ جھوٹ اور منافقت ٹھیک طرح سمجھتے ہیں۔ بھروسہ ہی نہیں ان کو اب عسکری سورسز پر اور حکومت پر۔ سال میں کوئی ایک اچھا کام کر بھی لیں تو وہ پہلے پی ٹی آئی سے ویریفائی کرتے ہیں۔
جو لوگ اپنا مورل پاور کھو دیتے ہیں وہ مکمل کنٹرول اور بندوق کی طاقت کے باوجود بھی رسوا ہوتے ہیں۔
سچ کے دفاع میں سچ خود ہی کافی ہے اور جھوٹ کا دفاع کیا نہیں جاسکتا زیادہ دیر تک۔ عسکری اور ن لیگی جو کوشش کرتے ہیں وہ دن میں صرف ۸ گھنٹے ہی کر کے فیل ہوتے ہیں، اور ویسے بھی وہ آجکل پاسپورٹ لے کر Mexico گئے ہوئے ہیں :)
عمران خان اور پاکستان کے سوشل میڈیا ٹائیگرز اورٹئیگریسز اس جدوجہد کے بڑے ہیروز ہیں جو ہر گراؤنڈ ورکر کے لیے اور ہر ظلم کے خلاف روز آواز اٹھاتے ہیں۔
PAKISTAN: The unlawful detention of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) supporters yesterday, who were protesting outside Adiala jail, Rawalpindi, is yet another example of the repression of the right to protest in the country. Among those detained were former Prime Minister Imran Khan’s sisters, Noreen Niazi and Uzma Khanum, who had gathered outside the Adiala jail premises as part of court-mandated weekly family visits which have been denied since 2 December 2025.
Instead of facilitating lawful visitation, authorities responded with arbitrary detention, tear gas and baton charge. Imran Khan’s sisters and other women protesters were forcibly confined for hours in a closed shop near the jail, while dozens of others were detained in the open air for nearly five hours in torrential rain.
This incident is part of a pattern of targeting PTI supporters and former Prime Minister Imran Khan’s family by criminalizing peaceful protest and using sweeping and arbitrary bans through section 144 of the Code of Criminal Procedure as a blanket tool to silence dissent.
Amnesty International urges the Pakistani authorities to immediately end their crackdown on peaceful protests, respect the rights to freedom of expression and peaceful assembly and ensure unhindered access to court‑mandated family visits for Imran Khan.
سینیٹر مرزا آفریدی، صوبائی سیکریٹری اطلاعات و ایم پی اے عدیل اقبال، ساجد روحی اور سمیت کئی کارکنان کو اس وقت تھانہ صدر اور تھانہ روات منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے بنیادی قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری لیگل ٹیم اور تمام قانون دانوں سے گزارش ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر متعلقہ تھانوں میں پہنچ کر قانونی رہنمائی اور معاونت فراہم کریں۔
حکومت کی جانب سے پولیس گردی اور فسطائیت کی تمام حدیں عبور کر لی گئی ہیں۔ نہتے اور پرامن سیاسی کارکنوں، حتیٰ کہ خواتین اور معصوم بچوں کو بھی سڑکوں پر روکا جا رہا ہے، انہیں گاڑیوں سے گھسیٹ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی املاک (گاڑیوں) کو توڑ پھوڑ کر ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اسی انتقامی کارروائی کے تحت اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کے ہمراہ دیگر اہم رہنماؤں جن میں علی امتیاز وڑائچ، شیخ امتیاز اور فرخ جاوید مون شامل ہیں، کو بلاجواز حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حکومتی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ ساتھ ہمارے قائد عمران خان کو مکمل تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی فیملی، قانونی ٹیم اور پارٹی قائدین کو ان سے ملنے کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کے قتل، عدالتی احکامات کی توہین اور جمہوری روایات کے صریحاً منافی ہے۔
ہم دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنے کپتان کے نظریے کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ ریاستی جبر، غیر قانونی گرفتاریاں یا ہمارے قائد سے ملاقاتوں پر پابندی کے اوچھے ہتھکنڈے ہمیں عوامی حقوق کے تحفظ، آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی اس جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
🇵🇰 Kasim Khan, son of former Pakistan Prime Minister Imran Khan, raises alarm over escalating human rights violations in Pakistan at the UN Geneva conference.
پی ٹی آئی آفیشل نے قاسم کے اقوامِ متحدہ میں خطاب کی ویڈیو اردو سب ٹائٹلز کے ساتھ جاری کر دی۔
جن کو انگلش میں ان کی تقریر سمجھ نہیں ارہی تھی وہ اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں تاکہ وہ لوگ جو فیک بیانیہ بنا رہے ہیں ان کا سد باب ہو سکے