پنجاب دریا دل صوبہ ہے جس کا سینہ بہت بڑا ہے۔ اس نے قوم پرست سیاست دانوں کی نفرت انگیز اور تعصب پر مبنی سیاست کے برعکس محنت کش پختون کو ہمیشہ کھلے دل سے اپنے سینے سے لگایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے اضلاع اٹک اور راولپنڈی تو اب عملی طور پر پختون شہر ہی نظر آتے ہیں، میانوالی تو نسلاً پختونوں ہی کا تاریخی مسکن ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی آج پختون اکثریت کا شہر بن چکا ہے۔
لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، بہاولپور، رحیم یار خان اور ساہیوال جیسے بڑے شہروں سے لے کر اگر آپ چیچہ وطنی، میلسی، لیہ، بھکر، وہاڑی اور احمد پور شرقیہ تک پنجاب کے جس بھی کونے، قصبے یا گاؤں میں چلے جائیں، وہاں آپ کو پختون مکمل آزادی، عزت، اور امن و تحفظ کے ساتھ باوقار روزگار اور تجارت کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ٹرانسپورٹ ہو، ہاؤسنگ، کپڑے اور پھل سبزی کی مارکیٹیں ہوں، ہوٹلنگ کا شعبہ ہو یا محنت مشقت کا کام، پنجاب کا ہر شہر ان کے لیے رزقِ حلال اور سلامتی کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔ پنجاب اپنے وسیع ظرف،اور مضبوط معیشت سے ان لاکھوں محنتی پختونوں کو گلے لگا کر یہ ثابت کرتا ہے کہ عوامی بھائی چارہ اور معاشی سانجھ سیاسی نفرتوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے
سرائیکی صوبہ بنواتے بنواتے۔۔۔ اپنی جان کو لالے پڑ گئے
فرخ سہیل گوئندی
سندھ کے دانشوروں کا ایک بڑا گروہ پنجاب کو تقسیم کرنے کے لئے سرائیکی صوبے کے لئے مدت سے برسر پیکار تھا،جب بات متعدد صوبوں کے قیام کی آئی تو تب عقل ٹھکانے لگی۔
ہم سندھ اور کسی بھی صوبے کی تقسیم کے سخت مخالف ہیں
عوام کی فلاح کو مدنظر رکھنا ہے تو خلؤص نیت سے مقامی حکومتوں کا نظام لایا جاۓ، ضلع و تحصیل کی سطح تک، اور پنجاب کو کوسنا بند کیا جاۓ، معاملہ طبقاتی ہے پنجاب کے اکثریتی عوامی اسی طرح اور اسی شدت کے استحصالی نظام کے شکار ہیں جیسے سندھ ، بلوچستان،کے پی کے یا گلگت و بلتستان کے عوام
پنجاب کو گالی دینے والوں کو پنجاب کے عوام سے اتحاد کرنا چاہئے
چند وڈیرے جو پنجاب کے جنوبی حصے میں رہتے ہیں اور ان کے کچھ خیر خواہ دانشور سرائیکی صوبے کو ایسے پیش کرتے ہیں کہ جیسے ناروال یا شکر گڑھ کے عوام نیویارک میں رہتے ہیں،پنجاب کو سامراج کہنا بھی ان دانشوروں کا فیشن ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سرائیکی صوبے کا علم بلند کرنے والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہی فیصلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ جھنگ ، سرگودھا میانوالی اور نہ جانے کون کون سا ضلع سرائیکستان کا حصہ ،
کبھی سرگودہا جا کر ان سے پوچھو کہ تم سرائیکی زبان بولتے ہو؟
سرگودہا ک دیہاتی کہے گا کیہ ۔۔۔ کر رہیا این
اور ہاں سرائیکی صوبے والے نقشے بھی بناتے ہیں جو کہ قانونی جرم ہے اس ک بھی نوٹس لیا ۔
پاکستان کا مسلہء طبقاتی اور استحصال ہے
جیوے سندھ، جیوے بلوچستان و جیوے خیبر پختون خوا
فرخ سہیل گوئندی
محسن داوڑ صاحب،
ذرا بتائیے کہ ان دہشت گردوں کو اپنے ہی علاقوں میں پناہ گاہیں کس نے دی تھی؟ نیک محمد وزیر کون تھا؟ عبداللہ محسود، بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کون تھے جنہوں نے پورے ملک کو خون میں نہلا دیا؟ قاری حسین کون تھا جو کمسن اور معصوم بچوں کے ذہنوں میں زہر بھر کر انہیں خودکش بمبار بناتا تھا؟ اور مفتی نور ولی محسود کون ہے جو آج بھی سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث ہے؟ کیا ان سفاک قاتلوں، ان کے وحشیانہ نظریات اور ان کی پناہ گاہوں کا تعاقب پنجابی اشرافیہ نے کیا تھا يا یہ آپ کے اپنے ہی خطے کے پیدا کردہ عناصر تھے؟
کیا خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو پناہ گاہیں پنجاب دیتا ہے؟ کیا ان افغانی اور غیر ملکی دہشت گردوں کو اپنے گھروں اور حجروں میں میزبانی پنجاب کے لوگ دیتے ہیں؟ کیا پنجاب کا کسان یا مزدور افغانستان کا وفادار ہے، یا وہ پاکستان کا وفادار ہے؟ پنجاب نے کبھی ریاست اور آئینِ پاکستان سے غداری کر کے کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہے ؟
جب یہی دہشت گرد لاہور، مناواں پولیس اکیڈمی، داتا دربار، مون مارکیٹ اور گلشن اقبال پارک میں معصوم بچوں، عورتوں اور شہریوں کے جسموں کے چتھڑے اڑاتے ہیں، تو ان کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں؟ پنجاب سے تو کوئی جا کر وزیرستان یا پشاور میں دھماکے کرنے نہیں گیا، لیکن اس کے باوجود پنجاب نے اپنے ہزاروں جوانوں کے لاشے اٹھائے اور چپ چاپ یہ زخم سہے۔
سب سے بڑا تعجب اور شرم کی بات یہ ہے کہ جو دہشت گرد اور افغانی جنگجو پورے ملک میں کھلے عام بم دھماکے کرتے ہیں، ان کے سامنے آپ کی زبان سے ایک مذمتی لفظ نہیں نکلتا اور آپ ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں، آپ کا سارا غصہ، بغض اور زہر صرف ریاست، اداروں اور پنجاب کے خلاف نکلتا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے اصلی قاتلوں اور سہولت کاروں پر بات کرتے ہوئے آپ کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
اپنی لسانی سیاست چمکانے، افغانستان کی وفاداری کا کارڈ کھیلنے اور دشمن کے ایجنڈے پر ملک میں صوبائیت کا زہر گھولنے کی کوششیں بند کریں۔ سچائی کو تسلیم کریں کہ دہشت گردی کا اصل سرچشمہ اور ان کا ہوسٹ کون تھا، اور اب بھی سہلوت کاری کون کررہا ہے ؟
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں!
یقیناً جون ایلیا نے یہ شعر اپنے لیے کہا تھا، مگر اس کا بہتر اطلاق پختونوں پر ہوتا ہے۔
پنجاب سے شکوہ کرنے سے پہلے پختونوں کو ایک بار اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔ ان کے پاس ولی خان جیسے دوراندیش رہنما موجود تھے، جو برسوں پہلے خبردار کر رہے تھے کہ نام نہاد جہاد اور بندوق کا یہ راستہ کہاں لے جائے گا۔ مگر پختونوں نے ان کی بات نہیں سنی۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بندوق کسی نے پختونوں کے ہاتھ میں زبردستی نہیں تھمائی۔ 1948ء میں بھی یہ لوگ خود بندوقیں اٹھا کر کشمیر پہنچے تھے۔ مقصد کشمیر کو آزاد کرانا تھا، مگر اس سفر میں بہت سی جانیں گئیں۔ پھر افغانستان کا راستہ اختیار کیا گیا۔ سوویت جنگ کے بعد بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ امریکی حملے کے وقت بھی، طالبان کی مخالفت کے باوجود، ہزاروں لوگ افغانستان گئے۔ کچھ مارے گئے، باقی مقامی افغانوں کے ہاتھوں قیدی بنے۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ کچھ نے طالبان بن کر بندوقیں اٹھائی ہیں اور کچھ نے امن لشکر بنائے ہیں۔ دونوں پختون ہیں۔
جس افغان جہاد کو بہت سے پڑھے لکھے پختون آج افغان فساد کہتے ہیں، اسے جائز اور ناگزیر ثابت کرنے کے لیے ضیغم خان جیسے دانشوروں نے بہترین دلائل دیے ہیں۔ چلیں، مان لیتے ہیں کہ جہاد ناگزیر تھا، لیکن ایک بنیادی سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر وہ جہاد ضروری بھی تھا تو کیا پختونوں پر اسے لڑنا فرض تھا؟
شاید اب وقت ہے کہ پنجاب سے ناراضی کے بجائے پختون معاشرہ اپنے اندر بھی سوال اٹھائے۔ بندوق کو نہیں، کتاب کو ترجیح دی جائے۔ اپنے بچوں کو بہترین ممکنہ اسکولوں میں بھیجا جائے اور بچیوں کی تعلیم پر دوگنی توجہ دی جائے۔ ریاست موجود ہے تو امن قائم کرنا بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ امن لشکر بنانا، مسلح جتھے کھڑے کرنا اور ہر مسئلے کا جواب بندوق سے دینا کسی معاشرے کو مضبوط نہیں کرتا۔ پختون اب اپنا سوچیں۔ جہاد، جنگ اس کو ریاست کو کرنے دیں۔
مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک سیاست دان جب کہتے ہیں کہ ریاست کو اپنا کام خود کرنا چاہیے تو اس بات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر کبھی واقعی ضرورت پڑے تو امن کے لیے لشکر پختونخوا سے نہیں، پنجاب، سندھ اور ملک کے ہر حصے سے اٹھ سکتے ہیں۔
عام شہری کا کام جنگ لڑنا نہیں۔ اگر کوئی تشدد پسند سرگرمی نظر آئے تو ریاست کو اطلاع دینا ہے۔ اس کے بعد ریاست کا کام ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
اور مزاحمت کرنی ہو تو غیر مسلح مزاحمت کی جائے، جیسے پی ٹی آئی حکومت کے دور میں اس وقت کی حکومت اور ریاست کی طرف سے سوات میں طالبان کو دوبارہ بسانے کی کوششوں کے خلاف لوگوں نے مزاحمت کی تھی۔
آخر میں صرف دو باتیں یاد رکھنے کی ہیں۔ ایک یہ کہ بندوق نہیں، قلم۔
دوسرا یہ کہ جنہیں ووٹ دیا ہے، ان سے کارکردگی کا حساب بھی مانگیں۔
لانگ مارچ کے علاوہ کیا کیا؟ صوبے کے لیے کیا کیا؟ عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلا؟ تعلیم، صحت، روزگار اور امن کے لیے کیا کیا؟
ووٹ کسی کی رہائی کے لیے نہیں دیا جاتا۔ ووٹ صوبے کو بہتر کرنے کے لیے دیا تھا، ووٹ عوامی خدمت کے لیے دیا تھا۔
فواد صاحب درست کہہ رہے ہیں کہ طالبان اور ان کا نشانہ بننے والے دونوں پختون ہیں۔ یہ سلسلہ رک سکتا ہے۔ ذرا سوچئیے۔
آپ @MaryamNSharif سے گذارش ہے کہ آپ پنجاب کے ڈاکٹرز کے نمائندوں سے بات کریں اُن کی بات سُنیں جو ان کی مشکلات ہیں وہ دور کریں اُن کے مسائل سُنیں اور جو آپ چاہتی ہیں وہ اُن سے ڈسکس کریں۔ڈاکٹرز کو حفاظت مہیا کریں پاکستان جیسی ملک میں جہاں ہسپتال میں آیا مریض اپنی ہر غلطی کا الزام بھی ڈاکٹرز پر ڈال دیتے ہیں وہاں ڈاکٹرز کو حکومتی تحفظ ملنا چاہیے۔جہاں مریضوں کے حقوق ہیں وہیں ان ڈاکٹرز کے بھی ہیں
تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھڑا تھا
آج پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے اور خوشیاں منا رہا ہے
پاکستان جواب دے گا اور جیت ہوگی تو پھر سب بتانے آئیں گے کہ جیت کا ماحول تو ہم نے بنایا تھا
گونگا شیطان کے جھوٹے بےایمان
If war was your measure of pride, history already records your humiliating defeats at Pakistan’s hands. No cricket match can rewrite that truth. Dragging war into sport only exposes desperation and disgraces the very spirit of the game
آپریشن بنیان مرصوص ہوا. اللہ نے پاکستان کو عزت بخشی، ایک گروہ سر پیٹنے اور منہ نوچنے بیٹھ گیا کہ یہ کون سی فتح ہے.
جنگ کے دوران پاکستان نے بھارتی جہاز گرائے تو یہ ایسے ہو گئے جیسے کوئی گونگا شیطان لاعلاج قرار دے دیا جائے لیکن دشمن کے دو ڈرون پنڈی پہنچے تو یہ فصلیں اجاڑتے جانور کی طرح دندنانے لگے کہ دیکھو دیکھو بھارت کے آگے ہماری فوج کچھ نہیں کر رہی.
یہ کہا کرتے تھے پاکستان دیوالیہ ہو چکا. اور حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کہا کرتے تھے. ان کا آسیب اترا اور پاکستان سنبھلا تو یہ اور پریشان ہو گئے کہ یہ دیوالیہ کیوں ناہیں ہو رہا.
ٹرمپ ایا تو یہ بغلین بجابے لگے گئے کہ ہنارا گلوبل ابا آ رہا ہے وہ ہمارے مقامی ابے کی خبر لے گا. یہ نہ ہوا تو یہ سر پیٹنے بیٹھ گیے کہ پاکستان امریکہ کے آگے لیٹ گیا.
ان کے وزیر نے حکومت بنتے ہی سی پیک پر دانت گاڑ دیے فھے اب چین سے تعلقات سنبھلے ہیں تو ان کے گلے میں کوئی رس گلہ سا اٹک گیا ہے.
پاکستان کا سعودی عرب سے تاریخی معاہدہ ہوا ہے تو انہیں ایک بار پھر بواسیر سمیت جملہ امراض چشم ہو گئے ہیں.
یعنی
پاکستان کے بارے ہر اچھی خبر سے انہیں تپ دق تشنج کالی کھالسی اور خسرہ جیسی مہلک فکری بیماریاں لگ جاتی ہیں.
انہیں حفاظتی ٹیکوں کی اشد ضرورت ہے
____
آصف محمود
ویسے 28 مئی پر ایک مخصوص پارٹی کابیانیہ دیکھ کر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ایک توانھیں ہسٹری غلط پڑھادی ان کےلیڈر نے۔ دوسرا تعفن سے بھرپورزہر اتنا بھردیاکہ جب منہ کھولتے ہیں سڑاند مارتے پھرتے ہیں جنگ میں کامیابی کو ناماننے والوں سے بندہ کیا بحث کرے۔
یہ ہر قومی دن/جذبہ خراب ہی کریں گے۔
پاکستان کی جو خدمت اللّٰہ تعالی نے آپ کے مقدر میں لکھی ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔
قوم کو یومِ تکبیر مبارک!
شکریہ نواز شریف!
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
کچھ لوگوں کی چند دن پیلے اور اب کی ٹویٹس پڑھ کر قرآن کی ایک آیت ذہن میں گھوم گئی تھی ۔۔ تلاش کیا تو سورۃ النساء کی آیت نمبر 141 تھی ۔۔ آپ بھی پڑھیں ۔۔
"یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں ﴿کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے﴾ ۔ اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلّہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور ﴿اس فیصلہ میں﴾ اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے"۔