اہم ، عمران خان کا بلڈ پریشر تین چار ہفتے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا پھر لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا تو ان کی ادویات کی وجہ سے بلڈ پریشر کنٹرول ہوا ، سلمان اکرم راجہ کے بقول حکومتی مزاکراتی ٹیم نے دوران مزاکرات انہیں بتایا ہے: صحافی ثاقب بشیر کی خبر
ایک ڈرافٹ میں لکھا تھا کہ پی ٹی آئی کے جن اسیران کو کوئی بیماری لاحق ہے وہ رحم کی اپیل کریں گے ہم نے کہا کہ وہ رحم کی اپیل کیوں کریں گے یہ تضحیک آمیز الفاظ ہیں انہیں نکالیں تو کہا گیا اچھا " میں پوچھ لیتا ہوں " ! سلمان اکرم راجہ ۔۔
حکومت کو کیا ہو گیا لندن سے عمران خان کے لئے ڈاکٹر آنے کی ایک وزیر تصدیق ایک وزیر تردید کر رہا ہے
رانا ثنا اللہ نے سما ٹی وی کے پروگرام میں طلعت حسین کے ساتھ اس کی تصدیق کر دی کہ عمران خان کے چیک اپ کے لئے ڈاکٹر لندن سے بلایا گیا تھا
جبکہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سما ٹی وی کے ہی پروگرام میں ندیم ملک کے ساتھ تردید کر دی ایسا کچھ نہیں ہوا نا ڈاکٹر بلایا گیا بلکہ یہ بھی کہا عمران خان کو بھی ایسا مسئلہ نہیں ہوا وہ بالکل ٹھیک ہیں
اگر لندن سے ڈاکٹر بلا کر علاج کروایا گیا تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہیں دی جا رہی۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لانگ مارچ شروع ہوچکا، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، اور حکومت مسلسل ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے رہی ہے!
عمران خان سے کسی بھی صورت ملاقات نا کروانے کے پیچھے وجہ اب یہ لگ رہی ہے کہ ، گورنر راج کی جلدی اس لیے نہیں کہ دہشت گردی ہے بلکہ عمران خان کی حالت خطرناک ہے اس لیے KPK کو کنٹرول کرنا ہے اور خان کی بہنوں تک کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ فیلڈنگ لگائی جا رہی ہے
سلمان اکرم راجہ کے بقول پاکستان کے ڈاکٹرز سے بلڈ پریشر کنٹرول نا ہو سکا تو حکومت کو عمران خان کے لئے لندن سے ڈاکٹر بلانا پڑا یہاں خواجہ آصف سمیت دیگر وزراء یہ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی اجازت نہیں دیں گے
عمران خان کے ساتھ کچھ تو ایسا کیا گیا ہے جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوران مزاکرات عمران خان کے ذاتی معالج کی رسائی تو دور کی بات انکی میڈیکل رپورٹس تک رسائی سے انکار کر دیا گیا۔ اپوزیشن کو بتایا گیا کہ ایک موقع پر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے بیرون ملک سے بھی ڈاکٹر بلوایا گیا تھا۔۔۔ ایسا کیا ہے جسے چھپایا جا رہا ہے؟
ائی جی پنجاب صاحب یہ فرعونیت کیوں ؟؟ @OfficialDPRPP
کیا ایک ملزم چاہے اس کے اوپر جتنا بھی بڑا الزام کیوں نہ ہو کیا اس کو واش روم جانے کا بھی حق نہیں ؟؟
ایک عورت کو پولیس اہلکار کہہ رہا ہے کہ یہیں واش روم کر لو 😡
🚨رات جب 2:40 پر Breaking point آیا تب تک عمران خان سے ذاتی معالج کا پرپوزل ٹیبل پر تھا عمران خان کو جس دن قید ہوئے اس دن سے 2025 کے وسط تک ڈاکٹر فیصل سلطان 5 مرتبہ دیکھ چکے تھے تو ہم نے کہا 18 اگست کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں میڈیکل بورڈ میں ذاتی معالج کو شامل کرنے کا حکم تھا تو آخر قباہت ہی کیا ہے تو 2:40 پر ہماری اس ڈیمانڈ کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
اصل کہانی تو آج کھلی ہے۔ حکومت مذاکرات میں بڑی بڑی باتوں پر لچک دکھانے کو تیار تھی، مگر عمران خان تک رسائی کے معاملے پر ایسی دیوار کھڑی کر دی گئی کہ ذاتی معالج تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔اور سوال یہی ہے کہ آخر کیوں؟اب اطلاعات آئی ہیں کہ گزشتہ دنوں عمران خان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا اور لندن سے معالج بلانا پڑا۔
اگر حکومت ایک بیمار قیدی تک اس کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی بھی روک رہی ہے تو پھر شک تو پیدا ہوگا ہی کہ آخر پردے کے پیچھے کیا ہے؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے؟
مزاحمت کا نشان،ضمیر کا قیدی،عوام کے حق حکمرانی کا علمبردار،ہار نہ ماننے والے کپتان کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے۔
اہم ، عمران خان کا بلڈ پریشر تین چار ہفتے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا پھر لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا تو ان کی ادویات کی وجہ سے بلڈ پریشر کنٹرول ہوا ، سلمان اکرم راجہ کے بقول حکومتی مزاکراتی ٹیم نے دوران مزاکرات انہیں بتایا ہے
"میں واضح بتانا چاہتا ہوں مزاکرات میں رات 2 بج کر 40 منٹ پر جب میں نے آخری بار کہا کہ کیا آپ ہماری یہ گزارش مانتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے جو لائحہ عمل 72گھنٹے میں طے ہونا ہے وہ متفقہ ہوگا ،مجھے کہا گیا کہ کوئی متفقہ نہیں ہوگا ۔ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے کرنا ہے وہ ہم کریں گے، میں نے گزارش کی جو پالیسی آپ لارہے اس سے دہشتگردی کم نہیں ہوگی میں نے کہا اس معاملے پر تمام جماعتوں کا متفقہ جرگہ ہوا ہے آپ وہ گزارشات سنیں لیکن انکار کیا گیا میڈیا پر جھوٹ پھیلایا جارہا ہے، سہیل آفریدی کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے سہیل آفریدی نے کہا تھا ایمرجینسی میں کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے بتانے سے انکار کیا گیا" @salmanAraja
کہا گیا ہم احتجاج کے لیے نکلے تو once for all ہمارا علاج کیا جائے گا پتہ نہیں اب ہمارا کیا خاتمہ کرنا چاہتے چار سالوں سے ہم اس جبر کو سہہ رہے ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں ہمارے ورکرز ہماری مائیں ہماری بہنیں تشدد سہہ رہی ہیں۔ چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے لوگوں کی اپیلیں نہیں لگتیں۔ وہ چاہے ہمارے گوجرانوالہ کے 51 دوست ہوں جن کو تین سال ہوگئے ان کی ضمانت کی درخواست نہیں سنی گئی۔ بزرگ کینسر کی مریضہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ سلوک ہورہا جو عالیہ حمزہ صاحبہ ، صنم جاوید ،فلک جاوید ، فردوس رائے صاحبہ کے ساتھ سلوک ہورہا ہے چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں ان کو اٹھا کر جیلوں میں ڈالا ہوا ہے۔
ہم شروع سے سب کچھ سہہ رہے ہیں اب مزید آپ نے کوئی حملہ کرنا ہے اس ملک کو تاریکیوں میں دھکیلنا ہے تو آپ کو سوچنا چاہیے۔ سلمان اکرم راجہ
پی ٹی آئی لیڈرشپ کا اندازہ لگائیں مزاکرات کا عمل اتوار صبح 3 بجے ختم ہو گیا تھا اس میں عمران خان کی صحت متعلق ایک ایسی بات حکومتی ٹیم نے ان کے ساتھ پہلے بارکی جو اس سے قبل پبلک میں اس طرح تسلیم نہیں کی گئی تھی اس کے بعد اتوار دن بارہ بجے سے آج تقریبا تین بجے تک ہی ٹی آئی مزاکراتی ٹیم میں سے کسی نے وہ پبلک میں نہیں کی سلمان اکرم راجہ ، اسد قیصر ، حلیم عادل شیخ ، عامر ڈوگر نے گزشتہ روز ٹویٹس کیں اس کا ذکر اس میں نہیں تھا آج بھی سلمان اکرم راجہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کی
حیران کن ہے کہ جہاں حکومت عمران خان کی صحت متعلق ایک بات کو چھپا رہی تھی وہیں پی ٹی آئی نے بھی معلوم ہونے کے باوجود 30 گھنٹے تک اس کا ذکر تک نہیں کیا ۔۔۔۔ حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو پورے مذاکراتی عمل میں سب سے تشویشناک بات یہ تھی
اللہ خیر کرے : تو یہ وجہ ہے کہ عمران خان صاحب سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ؛ اب اللہ جانے یہاں تک بھی حکومت سچ بول رہی ہے یا جھوٹ - فیملی اور جماعت کے لوگوں کی فوری ملاقات کروانی چاہیئے یہ بہت الارمنگ سیچوایشن ہے
آج 5 اکتوبر،آج عمران خان کی سالگرہ کا دن،بحثیت کرکٹر ورلڈکپ جتوا دیا،بحثیت سماجی ورکر شوکت خانم جیسے ہسپتال بنا دئیے،بحیثیت سیاستدان وزیراعظم بنے اور آج ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ،آج عمران خان جیل میں مگر پوری سیاست انکے گرد گھوم رہی اور آج عمران خان کے سیاسی حریف اقتدار میں مگر پوری دنیا کا مذاق بنے ہوئے،سالگرہ مبارک عمران خان صاحب۔۔
ایسا نہیں تھا کہ سہیل آفریدی کی رائے کچھ اور جبکہ ہماری رائے کچھ اور تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی انگریزی میں لکھ لیتے ہیں جبکہ اردو کے مسودے سے نکال دیتے ہیں یہ تو ٹھیک بات نہیں، ہم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، سلمان اکرم راجہ
سب ایک ڈرامہ سا لگ رہا کہ مذاکرات کے نام پر ڈھونگ رچایا گیا ، جس ڈرافت پر اتفاق ہوا وہ مبینہ طور پر بدل گیا : سب ڈرامہ صرف اس لیئے لگ رہا ہے کہ کل کو کہا جا سکے کہ مذاکرات کیئے مگر پی ٹی آئی ضد پر تھی اور دہشتگردوں کیخلاف تعاون نہیں کیا اس لیئے اب جو ہم کر رہے ہیں وہ جائز ہے.