کہا گیا ہم احتجاج کے لیے نکلے تو once for all ہمارا علاج کیا جائے گا پتہ نہیں اب ہمارا کیا خاتمہ کرنا چاہتے چار سالوں سے ہم اس جبر کو سہہ رہے ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں ہمارے ورکرز ہماری مائیں ہماری بہنیں تشدد سہہ رہی ہیں۔ چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے لوگوں کی اپیلیں نہیں لگتیں۔ وہ چاہے ہمارے گوجرانوالہ کے 51 دوست ہوں جن کو تین سال ہوگئے ان کی ضمانت کی درخواست نہیں سنی گئی۔ بزرگ کینسر کی مریضہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ سلوک ہورہا جو عالیہ حمزہ صاحبہ ، صنم جاوید ،فلک جاوید ، فردوس رائے صاحبہ کے ساتھ سلوک ہورہا ہے چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں ان کو اٹھا کر جیلوں میں ڈالا ہوا ہے۔
ہم شروع سے سب کچھ سہہ رہے ہیں اب مزید آپ نے کوئی حملہ کرنا ہے اس ملک کو تاریکیوں میں دھکیلنا ہے تو آپ کو سوچنا چاہیے۔ سلمان اکرم راجہ
پی ٹی آئی لیڈرشپ کا اندازہ لگائیں مزاکرات کا عمل اتوار صبح 3 بجے ختم ہو گیا تھا اس میں عمران خان کی صحت متعلق ایک ایسی بات حکومتی ٹیم نے ان کے ساتھ پہلے بارکی جو اس سے قبل پبلک میں اس طرح تسلیم نہیں کی گئی تھی اس کے بعد اتوار دن بارہ بجے سے آج تقریبا تین بجے تک ہی ٹی آئی مزاکراتی ٹیم میں سے کسی نے وہ پبلک میں نہیں کی سلمان اکرم راجہ ، اسد قیصر ، حلیم عادل شیخ ، عامر ڈوگر نے گزشتہ روز ٹویٹس کیں اس کا ذکر اس میں نہیں تھا آج بھی سلمان اکرم راجہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کی
حیران کن ہے کہ جہاں حکومت عمران خان کی صحت متعلق ایک بات کو چھپا رہی تھی وہیں پی ٹی آئی نے بھی معلوم ہونے کے باوجود 30 گھنٹے تک اس کا ذکر تک نہیں کیا ۔۔۔۔ حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو پورے مذاکراتی عمل میں سب سے تشویشناک بات یہ تھی
اللہ خیر کرے : تو یہ وجہ ہے کہ عمران خان صاحب سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ؛ اب اللہ جانے یہاں تک بھی حکومت سچ بول رہی ہے یا جھوٹ - فیملی اور جماعت کے لوگوں کی فوری ملاقات کروانی چاہیئے یہ بہت الارمنگ سیچوایشن ہے
آج 5 اکتوبر،آج عمران خان کی سالگرہ کا دن،بحثیت کرکٹر ورلڈکپ جتوا دیا،بحثیت سماجی ورکر شوکت خانم جیسے ہسپتال بنا دئیے،بحیثیت سیاستدان وزیراعظم بنے اور آج ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ،آج عمران خان جیل میں مگر پوری سیاست انکے گرد گھوم رہی اور آج عمران خان کے سیاسی حریف اقتدار میں مگر پوری دنیا کا مذاق بنے ہوئے،سالگرہ مبارک عمران خان صاحب۔۔
ایسا نہیں تھا کہ سہیل آفریدی کی رائے کچھ اور جبکہ ہماری رائے کچھ اور تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی انگریزی میں لکھ لیتے ہیں جبکہ اردو کے مسودے سے نکال دیتے ہیں یہ تو ٹھیک بات نہیں، ہم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے، سلمان اکرم راجہ
سب ایک ڈرامہ سا لگ رہا کہ مذاکرات کے نام پر ڈھونگ رچایا گیا ، جس ڈرافت پر اتفاق ہوا وہ مبینہ طور پر بدل گیا : سب ڈرامہ صرف اس لیئے لگ رہا ہے کہ کل کو کہا جا سکے کہ مذاکرات کیئے مگر پی ٹی آئی ضد پر تھی اور دہشتگردوں کیخلاف تعاون نہیں کیا اس لیئے اب جو ہم کر رہے ہیں وہ جائز ہے.
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
اس ڈرافٹ میں آدھا نکتہ بھی ایسا نہیں جو غیر آئینی غیر قانونی ہو۔ اس کے علاوہ کسی فریق کی فتح یا شکست کا کوئی تاثر نہیں۔ نجانے کس بات پر یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت نےدہشت گردی کے خلاف وفاق سےتعاون کرنے پر انکار کر دیا۔ اس میں تو ایسا کچھ نہیں۔ بہت مناسب تجاویز ہیں
صنم اور فلک نے معافی نہیں مانگی۔ یاسمین راشد چٹان بن گئیں۔ شاہ محمود، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کمزور نہیں پڑے۔ بشری عمران نے ساتھ نہ چھوڑا۔ چھتیس سالہ نوجوان سہیل آفریدی ہر دھمکی اور پریشر کو چٹکی میں اڑا گیا۔
جب یہ سب نہیں ٹلے تو وہ تو پھر “عمران خان “ ہے ۔ بہتر ہے صلح کر لیں
ایک عسکری ٹاؤٹ نے نظریاتی سیاسی ورکر، ایک محنتی نوجوان جو بائیک چلاتا ہے، ذاکر اللہ کی جان خطرے میں ڈال دی۔ پریس کانفرنس کرنے والے سیاسی یتیم اور اُس کے ہینڈلرز ایسے محبِ وطن نوجوانوں کے جذبے سے خوفزدہ ہیں۔
اگر ذاکر اللہ کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت، متعلقہ وفاقی وزراء اور اختیار ولی پر عائد ہوگی۔ذاکر اللہ کا شفاف ٹرائل کیا جائے، الزام ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہو، ورنہ انصاف دیا جائے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ذاکر کا شفاف اور آزادانہ ٹرائل کیا جائے۔ اگر وہ قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ہم خود قانون کے فیصلے کو تسلیم کریں گے، لیکن اگر وہ بے قصور ثابت ہوں تو پھر ان پر الزام لگانے والوں کو بھی جواب دینا ہوگا۔
گزشتہ 2 ماہ سے دہشت گردی کے بیانیے کے ذریعے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا حکومت کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذاکر کی جان و سلامتی یقینی بنانا ریاستی ذمہ داری ہے۔
#ShafiJan #KhyberPakhtunkhwa #Justice
ہمارے مشیرِ زراعت میاں عمر صاحب کا تعلق نوشہرہ سے ہے اور انہوں نے انتخابات میں اختیار ولی کو شکست دی۔ آج اختیار ولی میڈیا پر بیٹھ کر پی ٹی وی کا مائیک سامنے رکھ کر ایسے بیانات دے رہے ہیں جیسے وہ سیاسی میدان میں بہت بڑی حیثیت رکھتے ہوں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کونسلر بننے کے بھی اہل نہیں۔ پختونوں کو دہشت گرد قرار دینا اسی سیاسی غصے اور تعصب کا اظہار ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایک پختون کا پختونوں ہی کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ پختونوں نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں؛ انہیں دہشت گرد کہنا ان قربانیوں کی توہین ہے۔
#ShafiJan #Pashtuns #KhyberPakhtunkhwa
اب کدھر مر گیا ہے تو بے ختیار ولی،جھوٹے اور بد کردار انسان، اب جواب دے اپنے جھوٹ کا۔۔ورنہ اگر تم فراڈئیے اور نوسر باز میں تھوڑی سی بھی شرم،حیاء اور غیرت ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جاؤ بے غیرت انسان
@ikhtiarwali
عوامی مقبولیت سے گھبرا کر جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے، آج ہم وہ ویڈیو قوم کے سامنے رکھیں گے جو اختیار ولی نے اپنی پریس کانفرنس میں پیش کی، تاکہ عوام خود دیکھ سکیں کہ حقائق کو کس طرح توڑ مروڑ کر ایک مخصوص بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ SohailAfridiISF@ کے استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اور ان کا جوش و جذبہ سب کے سامنے ہے۔ عوام کا یہ ردِعمل بہت کچھ واضح کرتا ہے۔"
#ShafiJan #SohailAfridi #KhyberPakhtunkhwa
اختیار والی نے میڈیا کے ذریعے جو جھوٹ پھیلایا اس پر اختیار والی، پی ٹی وی اور یہ جھوٹی پریس کانفرنس چلانے والے ٹی وی چینلز اور صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی؟
@NCCIAOFFICIAL
کل جس شخص کو ٹی ٹی پی سے جوڑا جا رہا ہے تھا خواجہ آصف اور جلیبی ٹاوٹس کی طرف سے،شفیع جان انکو سامنے لے ائیں ہیں۔
بیچارہ جوان باڑہ کا رہائشی ہے اور بائیکیا چلاتا ہے۔
انیق ناجی خود کو ریاست سمجھنے والے چوکیدار کی آتماء رولتے ہوئے 🔥
عمران خان نے بتایا جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتا ہے وہ آپ کے پیسے سے تنخواہ لیتا ہے۔ وہ قوم کا نوکر ہوتا ہے ۔ اور قوم ریاست کی مالک ہوتی ہے ۔
قوم جان چکی ہے قومی مفاد کے نام اصلاحات کے نام پر فراڈ، ڈاکے اور دھوکا ہوتا ہے۔ ایک آدمی نے ریاست کے نام پر کئیے جانے والے سارے بیانیے کو اڑا دیا ہیں اور سچائی لوگوں تک پہنچادی ہے ۔
غیر ملکی خاتون ڈیانا سے زیادتی کا مقدمہ
ڈیانا نے ویڈیو بیان میں پولیس پر زبردستی جہاز میں بٹھانے کی کوشش کا الزام عائد کر دیا۔مجھے واپس آذربائیجان بھیجنے کی کوشش کی گئی۔
ڈیانا کا الزام