چائے کا ذائقہ جس پتی سے آتا ہے،
چائے پینے سے پہلے وہی پتی نکال دی جاتی ہے۔
کچھ لوگ بھی مطلب پورا ہوتے ہی سب سے پہلے اسی انسان کو اپنی زندگی سے نکال دیتے ہیں،
جو ان کے کام آیا ہو۔
عمران خان میرے مینٹور تھے۔ وہ میرے دوست ہیں اور مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔ گزشتہ تین سال سے میری ان سے بات نہیں ہوئی۔ سیاسی طور پر ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت افسوسناک ہے۔ قانون کی عدالت، قانون کی عدالت ہے، لیکن جہاں تک ان کی صحت کا تعلق ہے، اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ وسیم اکرم
#pakistan @wasimakramlive
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
#قومی_زبان
شاہراہ قراقرم -محض ایک سڑک نہیں !
اس عظیم الشان سڑک کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔
اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔
ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پا��ستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔
یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!
کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔۔۔۔۔
یہ سڑک اپنے اندر سینکڑوں داستانیں سموئے ہوئے ہے, محبت, نفرت, خوف, پسماندگی اور ترقی کی داستانیں!!
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ
"انقلاب فکر و شعور کے راستے آیا کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کا انقلاب تو سڑک کے راستے آیا"
شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے آپ کا تجسس بڑھتا ہی جاتا ہے کبھی پہاڑوں کے پرے کیا ہے یہ دیکھنے کا تجسس تو کبھی یہ جاننے کا تجسس کہ جب یہ سڑک نہیں تھی تو کیا تھا؟ کیسے تھا؟ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!
شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔
تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔
تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چل��س کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔
رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔
جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔
گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔
نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نا دباتا ہو۔ "پاسو کونز" ��س بات کی بہترین مثال ہیں۔
ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔
عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔
اپنے والدین کا لاڈلا بیٹا فہیم
جس کی جوانی کی قیمتی گھڑیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہیں مگر انصاف آج بھی اس سے کوسوں دور ہے۔
تین سال گزر گئے، مگر سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج تک قانون میں وہ ترمیم نہیں کی گئی جو ملٹری قیدیوں کو اپیل کا بنیادی حق دے۔
فہیم اکیلا نہیں۔ اس ��یسے بے شمار نوجوان جن کی پوری زندگیاں ابھی سامنے پڑی ہیں انصاف کی ایک کرن کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
سسٹم روز اول سے ریت کا محل تھا، فرق صرف یہ ہے کہ ٹولے کا ایک چور اپنی چوری کا اعتراف کر گیا۔
پنجاب پر بارہویں فیل خاتون مسلط ہے جو دماغ کے بجائے کیمروں پر چلتی ہے۔
غربت نہیں سنبھلتی تو غریب مٹا دو، گولی مار دو؛ ان فارمولوں پر نکموں نے سجائی جنت تو ایک دن ڈھے جانی تھی۔ سڑکیں قالین کی طرح اکھڑ رہی ہے، چھوٹے تاجروں کو راستے سے ہٹایا جا رہا ہے اور یوتھ مایوس ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔
لیکن پنجاب کی ڈائن 'گوگل جیمنائی' کی AI تصاویر کے ذریعے پنجاب کو پیرس بنانے میں مصروف ہے۔
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
#StreetMovementForKhan
اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ میں واقع 'الاقصی شہداء ہسپتال' کے مغرب میں بے گھر خاندانوں کے کیمپ کے لیے استعمال ہونے والے ایک گودام پر بمباری کی۔
یہ مرکز، جہاں سے بے گھر خاندانوں میں خوراک کے پیکٹ اور ضروری امدادی سامان تقسیم کیا جاتا تھا، کیمپ سمیت مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
اس حملے کے نتیجے میں قریبی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ پورے غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری کا سلسلہ ج��ری ہے۔
When someone says: "I don't know how to help"?
But all I'm asking is for people share and leave a dot.
Please don't ignore this 💔
To donate 👇
https://t.co/ljM4SkVeYl
آج میرے اکاؤنٹ کو رپورٹ کیا گیا تھا اور میری یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کروا دی گئی
جس میں نوجوان کشمیری لڑکے صرف نعرے لگا رہے تھے۔
اس کے بعد میرا اکاؤنٹ 12 گھنٹے تک بند رہا۔
الحمدللہ، ابھی کچھ دیر پہلے میرا اکاؤنٹ بحال ہوا ہے۔
اگر آپ کو یہ ٹویٹ نظر آ رہی ہے تو ایک ریپلائی ضرور کریں تاکہ اکاؤنٹ دوبارہ سے ٹھیک ہو جائے۔۔
شکریہ۔۔۔۔
دنیا کی دو طاقتور ترین شخصیات ایک دوسرے سےگفتگو مترجم کے زریعے کررہی ہیں جبکہ پاکستان میں جس کو انگریزی نہ آتی ہو وہ سی ایس ایس میں فیل کردیا جاتا ہے ۔
پاکستانیوں ان دونوں نسلوں پر کبھی یقین نا کرنا یہ دونوں اندر سے ایک ہیں دونوں کا سوشل میڈیا چلانے والے بھی ایک ہی ہیں ذرا اندازہ کریں مک مکا کی سیاست انکا نسلوں کا کام ہے ۔۔۔۔۔ ہمارے تو لیڈر عمران خان نے ہمیں سب بتایا ہوا ہے بھولنا مت ۔۔۔۔۔
عوام کو ہنسانے والے نے جب 1 منٹ کا ویڈیو پیغام جاری کیا کہ کشمیریوں کے ساتھ یہ ظلم مت کریں تو اس کا پروگرام ہی بند کر دیا مگر سلام ہے تابش کو جس نے پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے کی بجائے عزت سے حق پر کھڑا رہنے کو ترجیح دی اور عوام سے الوداع کہتے ہوۓ اپنے پروگرام کو خیرباد کہہ دیا،
ویڈیو میں ایک چیز نوٹ کی ?
جب بھوک روح تک اتر جائے تو گرم سالن روٹی ہاتھ بازو نہیں جلاتے بھوک کے سامنے جلنے کی تکلیف کچھ نہیں لگ رہی
معصوم بچے یتیم بچے انبیا کی سرزمین کے بچے
ہم شرمندہ ہیں اے ارض فلسطین ہمیں معاف کردینا.💔
I'm sorry to bother you, but we are under attack right now. My family is starving, everyone is crying, and we have nothing.
If you’re scrolling, PLEASE leave a dot . it's just a dot.
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ وبرکاتہ 🌸
صبح بخیر
زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت یہ ہے
کہ اللّٰہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ 🤍
جب سب دروازے بند محسوس ہوں،
تب اُس کے در پر دستک دیں۔
جب سب خاموش ہو جائیں،
تب اُس سے بات کریں۔
وہ نہ صرف آپ کی دعا سنتا ہے،
بلکہ آپ کے دل کی کیفیت بھی جانتا ہے۔
یا اللّٰہ! ہمارے دلوں کو اپنی محبت عطا فرما،
ہمیں اپنے ذکر کا عادی بنا،
اور ہماری زندگیوں کو خیر، رحمت اور سکون سے بھر دے۔
آمین یا رب العالمین 🌿