فتنہ الہندوستان کے تین سفاک درندوں کے نرغے میں پھنسی بلوچ لڑکی کی اس استحصال کرنے والی تصویر دیکھ کر کیا نام نہاد روایات کے محافظ اب بھی خاموش رہیں گے؟؟؟
پہاڑوں میں جاری بیٹیوں کا یہ گھناؤنا استحصال بلوچ غیرت کے منہ پر ایک بدترین طمانچہ ہے۔
#Balochistan
In Gaza, even the mosquito has become part of the daily suffering.
Heat, tents, stagnant water, and harsh conditions make everything harder — even sleep is no longer peaceful.
Yet people are still trying to survive through it all.😢
New data from Gaza’s Ministry of Health reveals a devastating trend in newborn health. During the first nine months of 2026 alone, the ministry documented 260 cases of congenital abnormalities, surpassing the 184 cases recorded throughout the entirety of 2022.
The sharp increase in birth defects has been linked to the catastrophic humanitarian conditions caused by the war, including severe maternal malnutrition, exposure to environmental toxins from bombardment, and the near-total collapse of prenatal healthcare.
شہباز گل نے خبردار کردیا ۔!!!!🛑
جنرلز جو سب کی شلوار کے اندر گھستے ہیں, وہ اس بار مولانا کی شلوار کے اندر گھس گئے ہیں اور انہیں بے آبرو کرنے کی کوشش کی گئی ۔!!!
لیکن یہ سب ملا جھلا کام ہے ۔ اور یہ معاملہ اس سے بھی بہت آگے جائے گا ۔ چونکہ مولانا نے ہر جگہ پر جنرلوں کا ساتھ دیا ۔ پھر چاہے وہ 26 ویں ترمیم ہو یا 27 ویں ترامیم ۔ ہر جگہ جنریلوں کے گندے کام کا ساتھ دیا ہے ۔ اس لئے سب کو پتہ ہے کہ, چھوٹے موٹے حملے سے عوام کو یقین نہیں آنا ۔ اس لئے معاملہ اتنا خون ریز اور اتنا گندہ کرکے آپ کو دکھایا جائے گا ۔ تاکہ آپ یقین کرلیں کہ, یہ نورا کشتی نہیں ہے ۔ یہ اصل لڑائی ہے ۔🚨
Believe me, if you were to live with us in Gaza for just one single day,
you would spend the rest of your life kissing the walls of your home, weeping with gratitude for the blessing of your own bed, and thanking God for every night in which you do not have to wait for death.
اگر انہوں نے میرے پاپا کو مار دیا تو میں بڑی ہو کر چن چن کر ان پولیس والوں کو ماروں گی ۔۔۔۔۔ کچھ روز قبل مقابلے میں پار ہونیوالے ملزم شاہزیب عرف زیبی بٹ کی 5 سالہ بیٹی کی وہ بات کہ سن کر خاتون جج کی آنکھیں نم ہو گیں ۔۔۔۔ ملزم شاہ زیب کے وکیل میاں عبدالحفیظ بتاتے ہیں کہ کاش میں ملزم کی ویڈیو ایک دو دن پہلے جاری کردیتا تو شاید اسکی جان بچ جاتی مگر مجھے پولیس والوں سے اتنی جلدی کی توقع نہ تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ملزم کے ساتھ ساتھ میرے اوپر بھی کوئی پرچہ ہو جائے کیونکہ ان سے کچھ بعید نہیں ۔ زیبی کو مقابلے میں پار کرنے سے 3 دن قبل جب میں خاتون جج نتاشا سپرا کے سامنے پیش ہوا تو میں نے انہیں کہا کہ مجھے لگ رہا ہے یہ شاہ زیب کو مقابلے میں پار کردیں گے ،یہ بات سن کر ملزم کی 5 سالہ بیٹی جو ماں کے ساتھ وہاں موجود تھی ۔ اس نے جج صاحبہ سے کہا اگر انہوں نے میرے پاپا کو مار دیا تو میں بڑی ہو کر چن چن کر ان پولیس والوں کو مارونگی ۔۔۔ ایک بچی کی بات سن کر میڈم نتاشا کی آنکھیں نم ہو گئیں انہوں نے اپنی طرف سے کوشش کی اور مزید انکوائری کرکے رپورٹ جمع کرانے کو کہا مگر پولیس طے کر چکی تھی دو راتیں قبل ملزم کو ایک اے ایس آئی نے کہا تھا کہ تمہاری وجہ سے میں نے نائٹ لگوائی ہے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔ میاں عبدالحفیظ ایڈووکیٹ کے بقول مقدمہ کا مدعی ملک سجاول ایک طاقتور اور بااثر شخص ہے ۔ شاہزیب اسکے گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا اور اسکی ایک سال کی تنخواہ رکی ہوئی تھی ۔ شاہزیب بیوی اور بیٹی کا خرچہ بھی پورا نہ کرسکتا تھا اس نے اپنے مالک سے تلخ کلامی کی کہ مجھے پیسے دو ۔۔۔۔ اسی تلخ کلامی کو اسکا جرم بنا دیا گیا اور اب وہ بیچارہ قبر میں سویا ہے ۔۔۔۔۔۔۔