حنا پرویز بٹ نے تصدیق کردی ہے کہ پولیس مقابلے جعلی ہیں اور مریم نواز کے حکم پر ہوتے ہیں۔ حالات کے پلٹا کھانے اور ایک تحقیقاتی کمیشن بننے کی دیر ہے۔ حنا پرویز صاحبہ وعدہ معاف گواہ بنیں گی اور مریم نواز پر سینکڑوں جعلی پولیس مقابلوں کے مقدمات بنیں گے۔
اتنے لوگ مارنے کی سزا بھی یقینا بہت سخت ہوگی۔
علی امین گنڈاپور تھری ایم پی او کے تحت گرفتار ہیں اور انھیں موبائل سے لے کر دنیا کی ہر سہولت میسر ہے جبکہ عمران کی بہنیں بھی اسی قانون کے تحت گرفتار ہیں موبائل تو دور کی بات ان کے خاندان کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ اثاثہ پھر اثاثہ ہوتا ہے فرق جان کر جیو
سلمان اکرم راجہ کا شکریہ
ان کی وجہ سے جو اراکین اسمبلی کئی روز سے غائب تھے وہ سب ایک دم سے نمودار ہو گئے۔
اپنے خلاف لگنے والے گورنر راج پر خاموشی اختیار کرنے والے اراکین آج بھرپور منظرعام پر۔
مشال یوسفزئی کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے پچھلے 36 گھنٹوں میں پورے میڈیا اور پورے سوشل میڈیا کو نان ایشوز کے پیچھے لگا دیا ہے ، میڈیا کے بڑے بڑے نام اس وقت مشال یوسفزئی کے دفاع میں سامنے آ چکے ہیں ، پاکستان کا مسئلہ مشال یوسفزئی نہیں ہے اور نہ ہی اصل مسائل وہ ہیں جو مشال بیان کررہی ہے ، جتنا مشال کو ڈسکس کیا جائے گا ، اتنا ہی اس کا مقصد پورا ہوگا ، کل مشال کی اتنی ڈیمانڈ تھی کہ بڑے بڑے صحافیوں نے منت ترلے کرکے اپنے پروگرام میں ٹیلی فون کال پر اس کا ٹائم لیا ، آج بھی پورے نیشنل میڈیا پر مشال یا مشال کی باتیں ڈسکس ہوں گی ، سوشل میڈیا بھی اس ٹریپ میں آ چکا ہے
پاک فوج نے کل سے فیس بک پر بھی کچھ پوسٹ نہیں کیا۔ حالانکہ دن میں چار چار پوسٹیں کھڑکاتے تھے۔ جنرل صاحب اس میں رونے کی کیا بات ہے؟
فون میرے ہاتھ میں ہے کوئی اسلحہ تو نہیں
ہر پوسٹ پر 😂 ہی کیا ہے کوئی مسئلہ تو نہیں
ایکس پر رپلائیز بند ہیں۔ فیس بک پر پوسٹس بند ہیں۔ سیاست سے لاتعلقی کا جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے۔ مرنے والے سپاہیوں کی خبر چھپانی پڑتی ہے۔ نا گھر میں عزت ہے نا باہر عزت ہے۔
بے غیرت جرنیلا !!!! یہ ہوتی ہے ریڈ لائن ، اسے کہتے ہیں ریڈ لائن۔
عاصم منیر! جو حشر تمہارا ایران کی سپریم کونسل کے سربراہ اور ایرانی صدر نے کیا ہے، تم اب کس منہ سے واپس آؤ گے؟
یہی نتیجہ ہونا تھا امریکہ کی غلامی کا۔ اب ذرا سوچنا کہ اپنی قوم تمہارے ساتھ کیا کرے گی!
صدیق جان بیانیہ سٹور
Siddique Jaan Narrative Store
ہمارے یہاں ہر طرح کے نئے بیانیے دستیاب ہیں۔
پرانے اور گھسے پٹے بیانیوں کی مرمت کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے۔
گونگے بہرے اور عقل سے پیدل نالائق گاہکوں کے لیے خصوصی رعایت ہے۔
خواتین کے لیے پردے کا بہترین انتظام ہے۔
نوٹ: خریدا ہوا بیانیہ واپس نہیں ہوگا۔
”پاکستان پر بیرونی قرضہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے، عاصم منیر رجیم کی طرف سے انہی قرضوں پر ملک چلانے کی ناکام کوشش جاری ہے۔ عاصم منیر نے ہر کوشش کر لی لیکن کوئی یہاں سرمایہ کاری لانے کو تیار نہیں ہے۔ اب ملک کے معدنی ذخائر کو بیچنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ملکی ایکسپورٹ بڑھا نہ پائے، اداروں کو تباہ کر دیا، سیاحت سے لیکر زرمبادلہ کے ذخائر تک ناکامی کی داستان ہے۔“ عمران ریاض خان