متحدہ عرب امارات کی منافقت دیکھیں ساڑھے چھ فیصد شرح سود پر قرض دیا اور سعودی عرب چین کے ساتھ مل کر کمٹمنٹ کی تھی کہ یہ رقم IMF پروگرام مکمل ہونے تک پاکستان کے اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی مگر اب اسرائیل کی حمایت میں پاکستان سے وہ رقم واپس مانگ رہا ہے تو پاکستان نے دوسری بات نہیں کی یہ رقم 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو اور باقی 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کر دے گا۔
یہاں یہ یاد کروانا ضروری ہے کہ یہ دو ارب ڈالر 2018 میں ریاست مدینہ کی مستری رجیم عمران باجوہ فیض نے لئے تھے اور اس طرح UAE کے ساتھ ساتھ IMF کے چنگل میں بھی یہی لعنتی رجیم پھنسا کر گئی تھی جسے اب وزیراعظم شہباز شریف کلئیر کر رہے ہیں۔
تینوں رب دیاں رکھاں 🤲🤲🤲
آپکی شبانہ روز محنت ، نہایت فعال سفارتکاری ، معاشی امور پر کمانڈ اور سب سے بڑھکر پاکستان کے مفاد میں بلاخوف جہد ِ مسلسل بے مثل ھے ۔۔
اکثر لوگ نہیں جانتے مگر ھم اچھے سے جانتے ھیں ،
ڈار صاحب پاکستان بڑے مدبر اور خاموش مجاھد ھیں ، میں وفاقی کابینہ اورسیاسی امور میں برادرم اسحاق ڈار کی محنت ،ذھانت ، بہادری اور ریاست سے وفاداری کا ذاتی طور پر گواہ ھوں ۔۔۔
خان حکومت ختم ہونے کے بعد کبھی تحریک انصاف نے پاکستان کے خلاف FATF کو خطوط لکھے اور کبھی ورلڈ بنک کو اور کبھی IMF کو۔ یورپی یونین سے بھی پاکستان کا GSP پلس سٹیٹس ختم کرنے کی درخواستین کی گئیں
سیاست اپنی جگہ، مگر پی ٹی آئی نے ایک خطرناک حد عبور کر لی ہے۔ عمران خان صاحب کے صاحبزادے قاسم خان نے یورپی یونین کے ایک فورم پر بلوچ علیحدگی پسندوں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک عناصر کے ساتھ بیٹھ کر، صرف عمران خان کی قید کو جواز بنا کر پاکستان سے جی ایس پی پلس حیثیت واپس لینے کا نہایت غیر سنجیدہ اور نقصان دہ مطالبہ کیا۔
یہ معاملہ انسانی حقوق کا نہیں بلکہ ریاست کو کمزور کرنے کا ہے۔ ذاتی مفادات کے لیے ملک اور عوام کے مستقبل کو داؤ پر لگانا کسی طور دانشمندی نہیں۔ جب کسی سیاسی جماعت کا بیانیہ دشمن پراکسیز سے ہم آہنگ دکھائی دے، تو اس کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے، اس طرح کے اقدامات نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ریاست مخالف عناصر کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو یقیناً اپنی پالیسیز پر نظرثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
عطاء تارڑ بھائ !
عارف اجائیکا,نسیم بلوچ اور “ان” کا DNA ایک ہے۔ ایک “ان” کا نانیال ہے اور دوسرا ددیال ہے انہی کی گود میں بالآخر جاکر بیٹھنا تھا بیٹھ گئے۔ جو باپ نے کیا تھا وہی اولاد کر رہی ہے۔ انکا ساتھ دینے والو پر ترس آ رہا ہے جو اپنی ایک بوٹی کیلئے وطن کے دشمنوں کے منشی بنے پھرتے ہیں
یہ بنگلہ دیش کے موجود وزیراعظم طارق ضیاء ہیں یہ خود شیخ حسینہ کے دور میں 17 سال جلاوطن رہے جبکہ انکی ماں سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء (مرحومہ) 17 سال جیل میں قید رہی اور ان پر بدترین ظلم ڈھائے گئے لیکن انھوں نے کبھی ملک کے خلاف نہ IMF کو خطے لکھے نہ یورپی یونین سے GSP+ سٹیٹس کے خاتمے کیلئے اپیلیں کی نہ کبھی انڈیا یا پاکستان یا کسی تیسرے ملک سے رابطہ کرکہ اپنے ملک سے غداری کی کوشش کی بلکہ ہمیشہ اپنے ملک کو پہلے رکھا اور پھر اپنے حقوق کیلئے اواز اٹھائی۔ ان کے صبر کا پھل ان کو یہ ملا کہ جس دن بنگلہ دیش میں قدم رکھا اس سے ایک ماہ بعد وزیراعظم کا حلف اٹھا رہے تھے۔ دوسری طرف عمران خان کو دیکھیں۔ یہ بندہ صرف دو سال نہیں ہوئے قید ہوئے اسکے بیٹے جو کہ پاکستانی شہری بھی نہیں وہ پاکستان کے خلاف کبھی امریکی کانگریس سے مل رہے ہیں کبھی یہودی لابیاں ہائیر کرتے ہیں کبھی پاکستان کے بدترین مخالفین کے ساتھ ملکر پاکستان پر پابندیوں کی بات کرتے اور اج تو حد کر دی کہ انڈین اور BLA کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان کا GSP+ سٹیٹس ختم کرنے کیلئے یورپی یونین سے اپیل کر دی۔ وہ سٹیٹس جس سے 20 لاکھ پاکستانی برائے راست جبکہ 35 سے 40 لاکھ لوگوں کا روزگار بلواسطہ طور پر جڑا ہوا ہے۔ یہ 60 لاکھ گھروں کی دال روٹی کے ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے پی ٹی ائی ائی ایم ایف کو خط لکھ چکی خان نہیں تو پاکستان نہیں کہ نعرے لگا چکی پاکستان کو اگ لگا دو کے نعرے لگا چکی لیکن اب حد سے گزر چکی۔ سوال یہ ہے کہ اب عوام اسکا کیا نوٹس لے گی؟ کیا پی ٹی ائی کے اندر کوئی اتنا سیانہ شخص نہیں جو انکو بتا سکے کہ حالات بدلتے ٹائم نہیں لگتا تھوڑا صبر کریں کل کو اقتدار اپکے قدموں میں ہو سکتا ہے؟ پی ٹی ائی جلد بازی میں ایم کیو ایم بنتی جارہی ہے۔
اور ناظرین عمران نیازی کے بیٹے کاسم گولڈ سمتھ نے یورپی یونین سے پاکستان کے جی ای�� پلس سٹیٹس کو منسوخ کرنے کیلئے شعلہ بیانی کر ڈالی
آج ثابت ہوگیا کہ اکرام اللہ نیازی کی نسل پاکستان کی بدترین دشمن ہے
پشاور شہر میں کھلے سیوریج می�� ماں بیٹی گر گئ، ماں کو نکال لیا گیا لیکن بچی کا ابھی تک کوئ سراغ نہ ملُ سکا۔
اگر کراچی کے واقعے پر مراد علی شاہ کی حکومت ذمہ دار تھی، لاہور کے واقع پر مریم نواز پر تنقید کی جاتی رہی تو پشاور کے واقعے پر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف ذمہ دار ہے۔ سارے ٹرولز کہاں ہیں ؟
افغان طالبان رجیم یہ الزام لگا کر مزید جھوٹ بول رہا ہے کہ پاکستان نے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔
پاکستان، دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026 کی رات کو کیے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ ورانہ تھے۔ کوئی ہسپتال، کوئی منشیات کی بحالی کا مرکز، اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں۔
جیسا کہ روایت ہے، تمام چھ حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے ویڈیو فوٹیج کے ساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا، جس سے اہداف کی نوعیت سب کے لیے واضح ہو گئی۔ فراہم کردہ ویڈیوز و تصاویر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
موجودہ پروپیگنڈہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے آرہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار جھوٹے بیانات، جھوٹے دعووں، پہلے کی پوسٹوں کو منتخب ڈیلیٹ کرنے، سامعین کو گمراہ کرنے اور ��چائی کو چھپانے کے لیے پرانے تصویروں کی گردش پر انحصار کیا ہے۔ ان کا تازہ ترین الزام دھوکہ دہی کی بوسیدہ روایت کا حصہ ہے۔
اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے: پاکستان، خطے اور دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر اثر ع��اقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ یہ خطرہ اور بھی وحشیانہ ہو گیا ہے، منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لیے استحصال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔
جن نمک حراموں کو جن یوتھیوں کو رمضان کے مہینے میں یہ زخمی پاکستانی ایمبولینس میں جلتے نظر نہیں آئے اُنہیں قابل کا پوڈری سینٹر نظر آ گیا ہے
یہ جلنے والے بھی پختون مسلمان تھے
یہاں تم پھٹے کے نیچے کیوں چھپ گے تھے بے غیرتوں
24 گھنٹے گزر گئے لیکن ابھی تک کابل میں ہسپتال حملے میں،
1۔ کوئی مریضوں کی فہرست سامنے نہیں آئی
2۔ کوئی ڈاکٹر فوت نہیں ہوا
3۔ کوئی نرس فوت نہیں ہوئی
4۔ کوئی ٹیکنیشن فوت نہیں ہوا
البتہ 400 کا جھوٹ تواتر سے بول رہے ہیں۔
مرنے والوں کی تعداد کا انکو 5 منٹ میں پتہ چل گیا تھا
حالات یہ ہیں کہ اگر آج پاکستان کی اسرائیل سے براہ راست جنگ شروع ہو تو ساری قوم یوتھ ، پشتون نسل پرست ، اعزاز سید کے قبیلے کے صحافی اور لبرل پاکستان کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے
انڈیا کے ساتھ جنگ میں یہ ہو چکا طالبان دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں یہ ہو رہا ہے یہ بات باعث تشویش اور ہمارے میڈیا سوشل میڈیا سے متعلق اداروں کی ناکامی ہے کہ پاکستان کی سوشل میڈیا کی اکثریت پاکستان سے نفرت پر چل رہی ہے
چار سال میں اربوں لگا کر یہ ناکامی کس کی ہے ؟
چالان کرنے سے پہلے اگر پولیس شہری کو ہیلمٹ پکڑا دے تو آدھی مشکلات ویسے ہی ختم ہوجائیں۔
2000 روپے جرمانہ لے کر خزانے میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ وہی رقم لگا کر موقع پر ہیلمٹ دے دیا جائے۔
اس سے نہ جھگڑا ہوگا، نہ وقت ضائع… اور سب سے بڑھ کر جان بھی محفوظ رہے گی۔
@HamidMirPAK@HamzaSS
ٹی ایل پی کے شرپسندوں نے
پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی سرکاری گاڑی پر قبضہ کر کے
تمام پولیس والوں کو ٹرک میں
بٹھایا ہوا ہے۔
ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
2 دن میں SHO سمیت پولیس والوں کو شہید کرنے کے علاوہ سینکڑوں پولیس والوں پر ایسا تشدد کیا کہ کئی لوگ لمبے عرصے کے لیے بستر پر رہیں گے۔