پہلے سامنے رکھے بیرئر نے بدتیمزی کی پھر آگے جا کر خاتون طلباء کے یجوم نے ایک پٹھان کی بیوی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی - کرنل صاحب سچے تھے 😭 ہم ایسے ہی تنقید کا نشانہ بناتے رہے
کل سے کرنل صاحب کے یونیورسٹی میں باوردی داخل ہو کر گولی چلانے کو بیوی کے تحفظ کے لیے “غیرت” کا معاملہ قرار دینے کی بڑی کوششیں کی جارہی تھیں ۔ اس معاملے میں صحافی اور آزاد و غلام چینلز بھی “دفاع” کے لیے دھکیل دئیے گئے تھے مگر شاید ان سب کو معلوم نہیں تھا کہ موصوف جس کے دفاع کے لیے اپنا منہ کالا کررہے تھے وہ محترمہ تو پولیس تک کے ڈنڈے چھین کر بے قابو ہو چکی تھیں ۔ اس ویڈیو میں فوجی افسر نظر نہیں آرہا بظاہر یہ ان کے آنے سے پہلے کا معاملہ ہے ۔ یقین ہے کہ فوج ایسے معاملے پر ضرور ایکشن لے گی ۔کرنل صاحب نے اپنی نہیں فوج کی توہین کی ہے۔
میاں محمود الرشید کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی بد ترین تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سوچنا چاہیئے کہ انکا زاتی عناد لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔
سرحد یونیورسٹی میں خاتون پولیس کا ڈنڈا چھین رہی ہے ایک کلپ میں بیریئر کو لات مار رہی ہے اس خاتون کے بارے میں بھاڑے کے ٹٹو کہہ رہے تھے کہ اسے ہراس کیا گیا۔ راتب خوروں بولو کون کس کو ہراس کر رہا تھا اور کون تکبر رعونت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ شرمناک بھاڑے کے ٹٹو شرمناک
ذیل کا صفحہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سے ہے۔ فوجی افسران کی بیگمات ، جی ہاں صاحب ہمراہ نہیں ہے ، صرف بیگمات ، شام کے اوقات میں ایوان صدر اتر رہی ہیں۔ جنکی واپسی کا وقت درج ہے وہ اگلی صبح یا دن کے اوقات درج ہیں۔
واہ غیرت مندو واہ !
جس معاشرے میں عام انسان اور سوکالڈ ایلیٹ پر قانون کی عملدرآمد ایک جیسی ہوتی ہے وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے، پاکستان میں جب یہ تحریک کامیاب ہو گئی تو پاکستان آگے بڑھ جائے گا، ایسی تحریک کو تحریک انصاف کہتے ہیں۔