کیا یہ لوگ گاڑیاں جلا سکتے ہیں؟ جن پر یہ الزام سوٹ بھی کرتا تھا، ان کو پریس کانفرنس کروا کر چھوڑ دیا گیا۔ آج وہ اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر اپنی پارٹی کے بزرگوں کو سزائیں ملتے دیکھ کر شرم تو محسوس کر رہے ہوں گے۔ مقدس فاروق اعوان
#pakistan@muqadasawann
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
"اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم صاحبہ کی درخواستِ ضمانت کو بغیر حتمی فیصلے کے نمٹا دیا اور مرکزی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ عمران خان صاحب کی لیگل ٹیم کو ان کی جانب سے یہ ہدایت تھی کہ عدالت میں درخواستِ ضمانت پر دلائل دیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے ہم نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے ہمیں ان کے پاور آف اٹارنی، قانونی دستاویزات اور اپیل پیپرز پر ان کے دستخط درکار تھے۔ اس سلسلے میں، میں 9 بار اڈیالہ جیل گیا، 5 بار سپرنٹنڈنٹ جیل کو خط لکھا، اور 2 بار بذریعہ ٹی سی ایس قانونی دستاویزات اور پاور آف اٹارنی جیل بھجوائے؛ گزشتہ روز میں آخری بار اڈیالہ جیل سے واپس آیا ہوں۔
لیکن القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان صاحب کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔ ایک منظم اور سسٹمیٹک انداز میں یہ طریقہ اپنایا جا رہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستِ ضمانت کو بغیر کسی حتمی فیصلے اور میرٹ کے نمٹا دیا ہے، تاکہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کیا جا سکے اور اسے حتمی قرار دیا جائے۔ اس کا مقصد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمران خان صاحب کو جیل میں رکھنا اور انہیں دی گئی 14 سالہ سزا کو حتمی قرار دلوانا ہے، تاکہ وہ اپیلٹ فورم پر اس کا دفاع نہ کر سکیں۔
پوری قوم اور دنیا نے دیکھا ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کا مقدمہ کسی اپیلٹ فورم پر آیا، تو نتیجہ بریت نکلا۔ سائفر کیس ہو یا عدت میں نکاح کا مقدمہ، جب اوپن کورٹ میں سماعت ہوئی تو سزائیں کالعدم ہوئیں۔ اسی طرح توشہ خانہ اور 9 مئی کے مقدمات میں جب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں سماعت ہوئی تو ضمانتیں منظور ہوئیں۔ اب یہ راستہ بھی روکا جا رہا ہے کہ عمران خان صاحب کسی اپیلٹ فورم تک نہ پہنچ سکیں۔ اس سلسلے میں، میں نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ کر مداخلت کی گزارش کی ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سپریم کورٹ، سیکرٹری ٹو چیف جسٹس، رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری ٹو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے علم میں بھی لایا گیا ہے، لیکن عدالتی اور انتظامی دونوں سسٹمز کی جانب سے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔"
وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری
@KhalidYChaudry
عمران خان صدیوں تک کے لئے اب رومانوی داستانوں کا ہیرو بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم کی اپنے لیڈر عمران خان سے محبتیں لازوال ہیں ۔
صاحبزادہ حامد رضا کے عمران خان کے لئے کہے گئے سنہرے الفاظ🔥
پاڪستان جو سڀ کان وڏو الميو صرف اهو ناهي ته هڪ اڳوڻو وزيراعظم قيد ۾ آهي، پر اهو آهي ته هڪ عوامي اڳواڻ جي صحت، خيريت ۽ بنيادي حقن بابت سوالن باوجود سندس خاندان کي ملاقات جي به اجازت ناهي. جڏهن اڪيلائي واري قيد معمول بڻجي وڃي ۽ شفافيت ختم ٿي وڃي، تڏهن ان جي قيمت صرف هڪ فرد نه پر سڄي قوم ادا ڪندي آهي. اڄ به هڪ ئي مطالبو گونجي رهيو آهي: قائد عمران خان کي آزاد ڪيو.
Credit: Hussain Nadim @HNadim87
پاکستان تحریکِ انصاف کے دور میں دھشتگردی نہیں تھی بہترین امن و امان تھا لوگ کاروبار کر رہے تھے جی ڈی پی 6.2 فیصد تھی گھروں کے چولہے جل رہے تھے، اب پاکستان کے پاس صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے کہے ہوئے چار الفاظ 'مائی فیورٹ فیلڈ مارشل' ہی رہ گئے ہیں جبکہ پاکستان بدترین دھشتگردی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر انتہائی کمزور ملک بن چکا ہے، نیا کارنامہ پنجاب کی سی سی ڈی نے آسٹریلوی نژاد پاکستانی بچی کو ناحق شہید کر کے انجام دیا ہے جس پر آسٹریلیا سمیت دنیا بھر سے پاکستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
نواز شریف 12 دن جیل برداشت نہیں کر سکا پلیٹلیٹس گر گئے
عمران خان پچھلے تین سال سے ناحق بند ہے اور نو مہینے سے قید تنہائی میں ہے اس کے قیدیوں والے بیسک رائٹس بھی نہیں دیے جا رہے اور 26 کروڑ اپنی کھلی انکھوں سے یہ ظلم دیکھ رہے ہیں 💔😭
🚨
سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کی جانب سے وکٹری سپیچ
گلگت بلتستان اور پورے پاکستان کی عوام کو مبارکباد !! آج پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی فتح ہوئی ہے
نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
حق کی فتح یقینی ہے، ظلم ہمیشہ نہیں رہتا دعا، اتحاد اور جدوجہد سے نیا پاکستان اور عمران خان کا پاکستان ضرور بنے گا۔