اگر کوئی عریاں تصویر بنانے کے لیے AI یا فوٹو شاپ سے آپ کی تصویر میں ترمیم کرتا ہے تو آپ
https://t.co/taqooBLT1P
پر جائیں اور اصل تصویر اور ترمیم شدہ تصویر اپلوڈ کريں پھر وہ تمام انٹرنيٹ سے تمام جگہوں سے ترمیم شدہ تصویر کو ہٹا دیں گے اس کے لیے آپ کو کسی سے براہ راست بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی شناخت خفیہ رہے گی
یہ ترانہ پاکستان بننے کے بعد بنایا گیا تھا۔۔ جب پاکستان بنانے والے بڑے ایک ایک کر کے گزر رہے تھے۔ انے والی نسل کو نصیحت کی گئی تھی کہ اس پاک سرزمین کی حفاظت کرنا۔ اج بھی استرانے کو سنیں تو انکھوں میں انسو ا جاتے ہیں۔۔
برسوں کے بعد اڑے پرچم ہلال کے۔۔۔۔
اس جملے کے اندر چھپے چھپے ہوئے جذبات محبت پیار عشق اور امید کو سمجھ سکتے ہو؟
صدیوں کے بعد اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔۔۔ اب اس کی حفاظت کرنی ہے سر دھڑ کی بازی لگا کر۔
کیا اپ جانتے ہیں دس سے بارہ لاکھ میں ہونے والا IVF پراسیز جس کے تحت بے اولاد جوڑے اللہ کے حکم سے اپنی اولاد حاصل کرتے ہیں وہ پاکستان میں اک ہسپتال اسی ہزار روپے میں کر رہا ہے ۔
اولاد اللہ کی طرف سے ہوتی ہے یہ بات ہر مسلمان کے دل میں پتھر پر لکیر کی طرح کندہ ہے مگر جن جوڑوں کے گھر برسوں سے یہ نعمت نہیں آئی وہ جانتے ہیں کہ انتظار کی راتیں کتنی طویل ہوتی ہیں اور امید کا دیا کتنی بار بجھتے بجھتے دوبارہ جلتا ہے ۔
IVF دراصل کوئی معجزہ یا تخلیق کا متبادل نہیں بلکہ محض ان طبی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بچے کی پیدائش کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں شریعت میں اس عمل کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔
کیونکہ اس میں میاں بیوی کے اپنے مادہ تولید کو استعمال کیا جاتا ہے اور رحم مادر میں وہی امانت رکھی جاتی ہے جو اللہ نے پہلے ہی ان کے نصیب میں لکھ رکھی ہے پاکستان میں نوجوان جوڑوں میں اس کی کامیابی کی شرح ساٹھ سے ستر فیصد تک بتائی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل نہ صرف شرعاً جائز بلکہ میڈیکل طور پر بھی قابل بھروسہ ہے۔
اسی میدان میں ایک نام ڈاکٹر محمد اعجاز انجم کا لیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس برس امریکہ میں ڈاکٹری کر چکے ہیں اور IVF گائناکالوجی کے ماہر ہیں ۔ اور اسی فیلڈ میں امریکہ میں بہترین کام کر چکے ہیں ۔
ان کا اپنا بیان ہے کہ امریکہ میں ان کے پاس دولت بھی تھی اور بہترین زندگی بھی مگر دل میں ایک خیال بار بار آتا رہا کہ پاکستان کے غریب بے اولاد جوڑے جو دس سے بارہ لاکھ روپے کے اخراجات کے سامنے بے بس ہیں وہ یہ نعمت کیسے پائیں گے انہی کے بقول اسی خیال نے انہیں واپس پاکستان کھینچ لیا اور انہوں نے آزاد کشمیر پشاور سوات اور لاہور میں سنٹرز قائم کیے جہاں وہی طریقہ کار جو لاکھوں میں ہوتا ہے کہیں کم قیمت میں پیش کیا جانے لگا۔
ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ ہے کہ اصل لاگت اتنی زیادہ نہیں جتنی مریضوں سے وصول کی جاتی ہے اور یہی بات جب انہوں نے کھل کر کہی تو ان کے بقول میڈیکل کمیونٹی کے ایک حصے نے اسے اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھا انہوں نے ان پر الزام لگانا شروع کر دیا ۔
پاکستان میں ای وی ایف ڈاکٹروں نے آپس میں مل کر ایک ریٹ طے کر رکھا ہے اور اس سے کم پر علاج نہ کرنے کی ضد ہے ڈاکٹر اعجاز انجم کے مطابق ان کے اس مؤقف کے بعد ان کے ہسپتالوں پر چھاپے پڑے مہنگی مشینری ضبط کی گئی اور انہیں ہر طرح سے تنگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اعجاز انجم صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ان مشکلات کے باوجود اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور پورے پاکستان میں سستے IVF سنٹرز کھولنے کے ارادے پر قائم ہیں۔
اگر ان کا دعویٰ درست ہے تو یہ واقعی کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ بانجھ پن کا دکھ صرف وہی جانتا ہے جو برسوں سے اولاد کی دعا مانگ رہا ہو اور پیسے کی کمی کے باعث علاج کا سوچ بھی نہ سکتا ہو ایسے میں ۔
اگر کوئی شخص اپنی آسائشیں چھوڑ کر واپس آئے اور غریبوں کے لیے کم قیمت پر یہی سہولت دینے کی کوشش کرے تو یہ قابل قدر بات ہے مگر ساتھ ہی ایک سچے صحافتی اور دینی اصول کی بھی یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی بھی طبی فیصلے سے پہلے خود تحقیق ضرور کریں ہسپتال کا طریقہ کار عملے کی قابلیت اور مریضوں کے تجربات خود دیکھیں دل مطمئن ہو تو ہی آگے بڑھیں ۔
کیونکہ اولاد کی خواہش جتنی مقدس ہے اتنی ہی احتیاط اس کے حصول کے راستے میں بھی ضروری ہے آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ پاک تمام بے اولاد جوڑوں کو نیک اولاد سے نوازے اور جو لوگ سچے دل سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں انہیں ثابت قدمی اور حفاظت عطا فرمائے۔
اس انفارمیشن کو اگے تک بھجیں تاکہ بے اولاد جوڑے جو برسوں سے صرف اس انتظار میں ہیں کہ انکے پاس پیسے نہی ہیں ان تک مسیج پہنچ سکے ۔ اور اس مہنگای اور لوٹ مار کے دور میں ڈاکٹر اعجاز صاحب کا اس ملک میں انا کسی نعمت سے کم نہی ہے ۔
پانی سے چلنے والی گاڑی کے
کونسیپٹ پر بڑا مذاق اڑا تھا
لیکن
اب پانی سے چلنے والا"چولہا"
انڈیا میں مارکیٹ میں آ گیا ہے۔
اس کا سائنسی کونسیپٹ یہ ہے👇
پانی سے چولہا جلانے کا تصور سائنسی طور پر بالکل ممکن اور حقیقت پر مبنی ہے، لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پانی خود نہیں جلتا بلکہ اسے جلنے والی گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اس پورے تصور کے پیچھے کام کرنے والی سائنس، طریقہ کار اور اس کی حقیقت 👇 الیکٹرولیسس (Electrolysis)
پانی کا کیمیائی فارمولا
\(H_{2}O\)
ہے، یعنی یہ دو گیسوں ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتا ہے۔چولہا جلانے کے لیے پانی کے اندر سے بجلی (DC Current) گزاری جاتی ہے۔اس برقی عمل کے نتیجے میں پانی کے مالیکیولز ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہائیڈروجن گیس (جو انتہائی تیزی سے جلتی ہے) اور آکسیجن گیس (جو جلنے میں مدد دیتی ہے) الگ ہو جاتی ہیں۔اس گیس کے مرکب کو HHO گیس یا براؤن گیس (Brown's Gas) کہا جاتا ہے۔ جب اسے چولہے کے برنر تک پہنچا کر آگ دکھائی جاتی ہے تو یہ ایل پی جی (LPG) کی طرح تیز شعلے کے ساتھ جلتی ہے۔
(اسد آر چوہدری)
نیتن یاہو کے مطابق ۔۔۔ پاکستان کے ہندؤں کے دیوتا وشنو کی طرح ہزار ہاتھ ہیں اور اس نے اپنا ہر ہاتھ الگ الگ جگہ دشمن کی دکھتی رگوں پر رکھا ہوا ہے۔
ایک ہاتھ سے وہ امریکہ اور انڈیا میں دراڑیں چکا ہے سیز فائر اور نوبل پیس پرائز والی ڈپلومیسی پر۔
ایک ہاتھ بنگلہ دیش تک دراز ہے اور وہ انڈیا کے چنگل سے نکل چکا۔
ایک ہاتھ بدستور کشمیر میں متحرک ہے۔
ایک ہاتھ افغانستان میں ان کی سرکوبی کر رہا ہے جن کو انڈیا نے اپنا اثاثہ بنا لیا تھا۔
ایک ہاتھ سعودی عرب اور قطر کر ایران جنگ میں کودنے سے روک رہا ہے۔
ایک ہاتھ ایران اور امریکہ کو دوبارہ لڑنے سے روک رہا ہے۔
ایک ہاتھ چھپ کر ایران کی مدد بھی کر رہا ہے۔
اور ایک ہاتھ اسرائیل اور امریکہ میں دراڑیں ڈال رہا ہے اور انکو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے۔
ہزار مشکلات اور دہشتگردی سے نبردآزما پاکستان کا یہ چہرہ دیکھنا ایک خوش کن احساس ہے۔
#Pakistan
#CDFisAbsolutelyGreat
پاکستان دنیا کی سالسی کرانے میں مصروف ہے اور اس کا اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا ہو چکی ہے
ایک گورے کی رپورٹ
جاپان نے حال ہی میں مکمل طور پر گتے (کارڈ بورڈ) سے بنا ایک ڈرون متعارف کرایا ہے۔ یہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے، صرف 5 منٹ میں تیار کیا جا سکتا ہے، اور اسے بڑی تعداد میں جھنڈ (swarm) کی صورت میں استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اسے کسی بھی عام کارڈ بورڈ فیکٹری میں بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے۔
"وائرل کلپ" ایک بچے کا جو اپنی بہن کو پیٹھ پر اٹھائے ہوئے تھا
کچھ نیک دل نوجوانوں نے اس کے اس خوبصورت رویے پر اسے اسکوٹر تحفے میں دینے کا فیصلہ کیا واقعی بہترین تربیت 🥹❤️