قالَ ﷺ:
1) میں اُس شخص کے لئے جنت کے کنارے ایک گھر کا ضامن ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ وہ حق پر ہو،
2) اور جنت کے بیچ میں ایک گھر کا اُس کے لئے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ مذاق ہی میں ہو،
3) اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا، اُس کے لئے جو اپنا اخلاق اچھا بنائے.
ابوداؤد 4800
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
لا حول ولاقوۃ إلا باللہ کے فضائل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ورضامندی کے حصول، آخرت کی ابدی ودائمی نعمتیں پانے، جنت میں بلند درجات حاصل کرنے اور کم وقت میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے مختلف اعمال واذکار بیان فرمائے ہیں، اور انہیں کرنے کی ترغیب وتاکید کی ہے۔ انہی اذکار و اوراد میں سے ایک ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا ورد ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس کلمہ کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں، یہ کلمہ دنیا و آخرت کی بہت سی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے، لہٰذا ذیل میں اس کے فضائل ذکر کیے جارہے ہیں۔
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا مفہوم
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ :’’گناہوں سے بچنے کی طاقت اور اچھے اعمال کرنے کی قوت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ ہے۔‘‘
اس کلمہ کے معنی ومفہوم میں غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ اس کلمہ کے ذریعے بندہ اپنی صلاحیت، لیاقت اور قدرت کی نفی کرتا ہے، ہر خوبی واچھائی کا اپنی ذات سے انکار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی محتاجی ظاہر کرتا ہے، اور اپنی عاجزی وانکساری کا برملا اقرار اور اپنی بےبسی ولاچاری کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرتا ہے۔ اور بزبانِ حال کہتا ہے کہ اے اللہ! میں ایک عاجز وکمزور بندہ ہوں، مجھے گناہوں سے بچنے اور اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما؛ کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی نہیں جو انسان کو گناہوں اور برے کاموں سے بچاسکے، اور نیک اعمال کرنے کی قوت دے سکے۔
الغرض یہ کلمہ یعنی ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ الف��ظ کے اعتبار سے مختصر ہے، لیکن اس کا مفہوم بہت وسیع ہے، اور اللہ تعالیٰ حمد وثناء کو عمدہ طریقہ سے اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے احادیثِ مبارکہ میں لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کا کثرت سے وِرد کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔
لا حول ولا قوۃ إلا باللہ جنت کا خزانہ
متعدد احادیث مبارکہ میں لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے، چنانچہ بخاری شریف وغیرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، جب وہ کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی وادی میں اُترتے تو باآوازِ بلند تکبیر کہتے، یہ دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
’’أيہا الناس اربعوا علی أنفسکم، فإنکم لا تدعون أصم ولا غائبا، ولکن تدعون سميعًا بصيرًا۔‘‘
ترجمہ: ’’اے لوگو! اپنے اوپر نرمی کرو، کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، بلکہ تم اس کو پکار تے ہو جو سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ فرماکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے دل میں ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہہ رہا تھا تو آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لے کر فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس!
’’ألا أدلک علی کلمۃ ہي کنز من کنوز الجنۃ؟ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘(۱)
ترجمہ: ’’میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، وہ ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ ہے۔‘‘
اس حدیث شریف میں ترغیب دی گئی ہے، جس طرح انسان کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خزانہ جمع کرے؛ تاکہ دنیا میں خوشحال اور عیش وراحت سے زندگی گزارے، اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اس کلمہ یعنی ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا کثرت سے ورد کرے، تاکہ آخرت میں ابدی راحت نصیب ہو، جنت میں اعلیٰ درجات اور زیادہ نعمتوں کا حصول ہو۔
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ جنت کا دروازہ
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کا دروازہ کہا ہے، چنانچہ مشہور صحابی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے فرزند قیس بن سعد سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں دو رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہوا اور لیٹنے لگا تو اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھے متوجہ کرکے فرمایا:
’’ألا أدلک علٰی باب من أبواب الجنۃ؟ قلت: بلٰی؟ قال: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘ (۲)
ترجمہ: ’’کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘
اور یہی فضیلت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے م��وی روایت میں بھی ہے۔ (۳)
ایک دوسری حدیث میں مزید یہ بات بھی آئی ہے کہ جب بندہ ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہتا ہے تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’أسلم عبدي واستسلم‘‘ یعنی میرے بندے نے فرمانبرداری کی اور سرِ تسلیم خم کیا۔
فرشتوں سے اپنے حق میں دعا کرائیں
من چاہے وقت تک
خاتم الانبیاء ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
( ابن ماجہ ، حدیث907)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۰۵)
زیتون کا تیل
اجزاء:
اومیگا 9، 3، 6 فیٹی ایسڈز اور وٹامن K, E
(کولیسٹرول، گلوٹین سے پاک)
خواص:
کولیسٹرول بلڈ پریشر کنٹرول رہے
ذیابیطس، کینسر سے بچاو
جسمانی ورم دور
ہڈیاں مضبوط
آپ ﷺ نے فرمایا:
زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے۔
ترمذی، ح1851
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔
نبی ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس ( داہنی آنکھ ) میں اور تین سلائی اس ( بائیں آنکھ ) میں سرمہ لگاتے تھے۔
ترمذی، 1757
رسول الله صلی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نبی نوح علیہ السلام!جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تمہیں وصیت بتاتا ہوں، میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں(لا الہ الا اللہ) کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں ،اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں تو لا الہ الا اللہ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر ساتوں زمین اور ساتوں آسمان ایک مضبوط دائرہ بن جائیں تو لا الہ الا اللہ انہیں توڑ دے گا، اور میں تمہیں سبحان اللہ وبحمدہ کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ یہ ہر مخلوق کی دعا ہے اور اسی کے ذریعے مخلوق کو
رزق دیا جاتا ہے۔ میں تمہیں شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں،
السلسلہ صحیحہ ۳۱۳۰
ابن عمر رضی الله عنه سے روایت ہے کی ایک شخص ن�� نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا:
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً*
« اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا
سنن نسائی جلد ١ حدیث ٨٨٨ -صحیح
جو کوئی بندہ اللہ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے، یا اس دعا کے نتیجہ میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کر دیتا ہے، جب تک اس نے کسی گناہ یا قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) کی دعا نہ کی ہو۔
(ترمذی،۳۳۸۱)
مثبت سوچ رکھنے والے ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے، وہ اللہ تعالی کے ہر فیصلے پر راضی و خوش ہوتے ہیں !
آپ ﷺ جب کسی کو اپنے اصحاب ؓ سے کوئی کام دے کر بھیجتے تو فرماتے: خوشخبری سناؤ اور نفرت مت دلاؤ، آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو۔
مسلم، ح4525
رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے سورۃ الاخلاص قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ دس مرتبہ مکمل پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کر دے گا۔ عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تب تو ہم بہت سے محل حاصل کرلیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا اور پاک ہے
السلسلہ صحیحہ ٢٩٧٩
صحیح الجامے ٦٤٧٢
*أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ*
----------
*قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ*
*لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ*
عبادات میں دل نہیں لگتا؟!
آپ ﷺ نے فرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
ابوداؤد،ح1522
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
حضرت علی رضی الله عنه سے روایت ہے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اگر تم ��ہ دعا پڑھا کرو تو
اگر تمہارے تمہارے پاس «صیر» پہاڑ کے برابر بھی (یعنی بہت زیادہ) قرض ہو تو بھی ،تمہاری جانب سے اللہ اسے ادا فرما دے گا
*اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ*
اے اللہ! مجھے حلال دے کر حرام سے دور کر اور مجھے اپنے فضل سے نواز کر اپنے سوا کسی اور سے مانگنے سے بے نیاز کر دے۔
جامعہ ترمذی، کتاب 46,3563-حسن
اللہ تعالی سے مانگا کرو اور باتیں کیا کرو!!!
باتیں کرنے کا معنی یہ ہے کہ جو تمہارے دل میں آرہا ہے، بے تکلفی سے اللہ تعالی سے کہا کرو!
یا اللہ میاں! آپ میرا یہ کام کردے۔
کیوں اتنے تکلف کے پردے حائل کر رکھے ہیں تم نے اپنے اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ؟!
https://t.co/JVX4737rTe