یہ ملتان ہے،آج ملتان میں 2 خواتین جا رہی تھی یہ ایک موٹر سائیکل والے نے پرس کھینچا جس سے ایک خاتون بہت بری طرح گر گئیں۔
اوپر سے 15 کرنے کے باوجود پولیس FIR نہیں دے رہی۔ تمام سی سی ٹی وی ریکارڈ ہونے کے باوجود کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔
ہماری CPO ملتان سے گزارش ہے کہ اس خاتون سے پرس چھیننے والے کو جلد پکڑا جائے۔
@CCD_Punjab
سلمان بٹ نے کیا خوبصورت بات کی 👌
عمران خان کے بارے میں بات کرنا یہ پلاٹ فارم نہیں تھا
مائیک اتھرٹن یا سکاے سپورٹ کو بولو ک کبھی غزہ کے بچوں کے لیے بھی بات کرو نا وہاں تو تم چپ ہو جاتے ہو
کلے کلے نوں تک لیساں : تھانے کے اندر کانسٹیبل کی شہری کو منہ پر جوتا ما۔رنے کی ویڈیو وائرل..!
سوشل میڈیا پر بھرپور تنقید کے باوجود باوردی فرعون بے لگام..!
متاثرہ شخص کی حالت بتا رہی ہے کہ اسکے ساتھ پہلے ہی بہت کچھ ہو چکا ہے ۔ راولپنڈی کے تھانہ گوجر خان میں باوردی پولیس اہلکار کی جانب سے تھانے میں بیٹھے ایک شہری کے چہرے پر جوتا مارنے کا معاملہ سامنے آنے پر سی پی او راولپنڈی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ کانسٹیبل کو فوری معطل کرکے انکوائری کا حکم دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں ایک مکان پر مبینہ طور پر قبضے کے تنازعہ پر فریقین کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا، جس پر ون فائیو 15 کی کال پر دونوں فریقین کو تھانہ گوجر خان منتقل کیا گیا، اس دوران فیاض ججی نامی شہری بغیر جوتوں اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں تھانے کے اندر موجود تھا۔ویٹنگ روم میں بیٹھے دوسرے فریق اور فیاض ججی کے درمیان تکرار ہوئی تو اسی اثنا میں ایک باوردی پولیس کانسٹیبل ہاتھ میں جوتا اٹھائے آیا اور فیاض ججی کے چہرے پر زور سے جوتا رسید کر دیا۔ پولیس کانسٹیبل کے اس اقدام سے صاف ظاہر ہے کہ پولیس کمزور کے مقابلے میں طاقتور کی بھرپور حمایت کی مرتکب ہوئ�� ہے ۔اہم بات یہ نہیں کہ جوتا مارنے والا معطل ہو گیا سوال یہ ہے کہ ایک کانسٹیبل کو طاقت اور فرعونیت کا اتنا خمار کیوں کہ عمر کا لحاظ کیے بغیر ایک شہری کو بیہمانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنائے ۔۔۔۔۔
تحریر/مظہر صدیقی
چند دن پہلے مری جانا ہوا ۔ بچوں نے ضد کی کہ نئی الیکٹرک بس میں نیو مری جاتے ہیں ۔ پتریاٹہ چیئر لفٹ تک اسی بس سے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد جب جنرل بس اسٹینڈ پر پہنچے تو یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ دو اڑھائی ماہ پہلے جو گیارہ بسیں حکومت کی طرف چلائی گئی تھیں ان میں سے پانچ بسیں خراب حالت میں کھڑی ہیں۔ بہت برا حال ہوا ہے ان بسوں کا ۔ وہاں انتظار میں عام عوام ان بسوں پر سفر کے لیے سیکڑوں کی تعداد میں موجود تھے، لیکن بسیں نداراد ۔
کیا حکومتی ذمہ داران کے علم میں ہے کہ جو عوامی سہولت چند ماہ پہلے بڑی دھوم دھام سے شروع کی گئی تھیں وہ ابتداء میں ہی ناکامی کا منہ دیکھ چکی ہے۔۔ کیا ہر حکومتی منصوبہ حسب روایت اسی طرح کے انجام سے دو چار نہیں ہوتا؟
اب ان پانچ خراب بسوں کی درستگی کون کرائے گا ۔ کوئی پرسان حال نہیں ۔۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔ کیا ڈپٹی کمشنر مری کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے یا نہیں ۔۔ سوالات کا انبار ہے پر جواب کون دے گا۔
مظہر صدیقی
30 اگست 2026
muree hills Maryam Nawaz
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@AzmaBokhariPMLN@Marriyum_A@CommissionerRwp
پنجاب میں واساکی نااہلی کااندازہ لگانےکےلئےصرف یہ ایک کیس ہی کافی ہے،پچھلے2سال سےاس گلی سیوریج بندہےجسکی کمپلینٹ کرکرکےعاجزآچکےہیں
@CMComplaintCell@AzmaBokhariPMLN
صاحبہ تک پرسنل ریکوئسٹ کی گیئ انکیطرف سےمحکمےکوسرزنش کروانے اورمسلہ حل کرنےکےاحکامات کاجواب واسایہ کہہ کرنظرانداز
ڈاکٹرز جلاد بن گئے ہیں 💔
بیوی کو سٹی ہسپتال لے کر گیا تھا جہاں اُس کو ایڈمٹ کیا گیا رات تین بجے کے قریب اُس کی نارمل ڈیلیوری ہوئی لیکن بلیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا میں ڈاکٹر اور سٹاف کیلئے آواز دیتا رہا لیکن کسی نے میری بات نہیں سنی اِسی دوران وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی
حکومت میں کون تھا ؟
معلومات مہیا کرنے والی ایجنسیز کس کے انڈر تھیں؟
معلومات مل چکی تھیں تو ارشد شریف کو کیوں نہ بچایا گیا ؟
جعلی فیک تھریٹ لیٹر کہاں سے اور کس نے جاری کیا؟
عمران خان نے ارشد شریف کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیوں کیا ؟
ارشد شریف کا لیپ ٹاپ کس کے پاس ھے ؟
سوچو ابھی
پمز کے مسئلے پر سب سے زیادہ غلیظ مہم جناب محسن نقوی کی ملکیتی سٹی گروپ کے چینلز نے چلائی۔ جب کچھ اس ادارے میں وجود سینئرز کی توجہ اس غیر متوازن مہم کی طرف دلوائی تو انہوں نے اپنے باس کے پیغامات پڑھوا دئیے۔ کہ اگلے تین دن کام اٹھا کے رکھنا ہے۔اب پتہ نہیں ان کا۔ اس کون ہے؟
صبح بخیر
ایک ماں کی زندگی بچانے کے لیے درد بھری اپیل
ریشما ثانی صرف 32 سال کی ہیں اور پانچ معصوم بچوں کی ماں ہیں۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر صرف 18 ماہ ہے۔ ریشما گزشتہ تقریباً چار سال سے کینسر کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں زیرِ علاج رہی ہیں۔ بدقسمتی سے مرض اب جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہے۔
ڈاکٹروں نے مزید خصوصی علاج کے لیے چین جانے کا مشورہ دیا ہے، خاندان اپنی استطاعت کے مطابق بہت کچھ کر چکا ہے، لیکن اس بھاری رقم کا انتظام اکیلے کرنا ممکن نہیں۔
ہم مخیر حضرات اور تمام اہلِ خیر سے دل کی گہرائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ریشما اور اس کے پانچ بچوں کے لیے آگے بڑھیں۔
آپ کا معمولی سا تعاون بھی اس ماں کے علاج اور اس کے بچوں کے مستقبل کے لیے امید بن سکتا ہے۔
اگر مالی مدد ممکن نہیں تو براہِ کرم اس اپیل کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی ایسے صاحبِ خیر تک پہنچ جائے جو ریشما کے علاج کا ذریعہ بن جائے۔
محمد زید
Brother of Ms. Reshma Sani
موبائل: 03157743720.....
شازیہ نے ایثار رانا کو شرم دلائی یا تو صحافت کر لیں یا عشق عمران کیونکہ صحافی کو ہر کسی کے لئے آنکھیں کھولنا پڑتی ہے۔
شازیہ ذیشا
ایثار رانا اپ اپنے تجربات لوگوں کو بتانے نہیں آۓ صحافت کرنے آۓ ہیں کریں اپنے تجربات اپنی آل ��ولاد کو دیں عوام کو صحافت کر کے دکھائیں۔
یہ تو پکڑا گیا وہ بھی تیس سال بعد ایک جج اسلام آباد ہائی کورٹ کا جعلی ڈگری پر تھا سوچیں ایسے اور کتنے کردار ہوں گے یہ ملک ویسے ہی برباد نہی ہوا ہے اس کی وجوہات ہیں
اگلی دفعہ چودہ بچے جلانے پر وزیر صحت کا ایوارڈ تو پکا ہے تا ہم داد دیجئے کہ جناب وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو برطرف کر کے ایک ایوارڈ بچانے کی کوشش کی ہے۔ اگر سیکرٹری صحت کا ڈومیسائل سندھ سے ہوا تو ایوارڈ پھر بھی ملنے کے خدشات موجود رہیں گے۔
آیت نور کیس کا مرکزی مجرم اور عمر ایوب خان کا قریبی رشتہ دار یہی سفید کپڑوں والا شخص ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس کی اصل عمر 23 سال ہے، لیکن پولیس کی پوری طاقت اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کسی طرح دستاویزات میں ہیر پھیر کر کے اسے 18 سال سے کم عمر (نابالغ) ثابت کیا جا سکے تاکہ وہ سخت سزا سے بچ جائے۔
اس کی باڈی لینگویج اور بیٹھنے کا انداز ملاحظہ کریں۔ چہرے پر نہ کوئی پچھتاوا ہے اور نہ ہی قانون کا کوئی خوف۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی ملزم نہیں، بلکہ کوئی اسسٹنٹ کمشنر (AC) صاحب ہیں جو پولیس کے پروٹوکول اور شاہی مہمان نوازی میں کسی سرکاری دورے پر آئے ہوئے ہوں۔
پمز ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے ںعد ہوشربا انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری
پمز کی نرسری میں لگنے والی آگ اور دھماکے کے وقت نرسنگ سٹاف اور ڈاکٹر جائے وقوعہ سے بھاگ گئے. ذرائع
پمز ہسپتال کی نرسری میں لگنے وال�� آگ کے وقت ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کے بھاگنے کا انکشاف سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوا۔ ذرائع
نرسری میں آگ لگنے کے وقت نائٹ سپروائزر فانوس، سٹاف نرس نسرین اور آیا جافضا بھی جائے وقوعہ سے بھاگ گئے،ذرائع
نرسری میں ڈیوٹی پر تعینات فی میل سیکیورٹی گارڈ بھی بھاگ گئی،ذرائع
ڈیوٹی پر موجود فی میل سیکیورٹی گارڈ کے پاس نرسری روم کی چابیاں تھیں،ذرائع
فی میل سیکیورٹی گارڈ دھماکے کی آواز سنتے ہی نرسری روم کے تالے کی چابیوں سمیت بھاگ گئی، تحقیقات میں انکشاف
دھماکے کی آواز سنتے ہی ڈیوٹی پر موجود سنئیر ڈاکٹر اور ایک ٹرینی بھی موقع سے بھاگتے ہوئے دیکھائی دئیے، ذرائع
تحقیقاتی کمیٹی کو نرسری اور دیگر جگہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے تحقیقات میں بہت مدد دی، رپورٹ میں انکشاف
اس ننھی کلی کو اپنے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ معصوم بچی، جس کی عمر تقریباً 1 سے ڈیڑھ سال ہے، 26 اگست 2026 کو لاری اڈا بس اسٹاپ، لاہور میں لاوارث حالت میں ملی ہے۔
ممکن ہے یہ بچی اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہو، یا (اللہ نہ کرے)کسی نے اسے اغوا کرنے کے بعد بس اسٹاپ پر چھوڑ دیا ہو۔
اگر کوئی شخص اس بچی کے والدین یا اہلِ خانہ کو جانتا ہے تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ معصوم بچی جلد از جلد اپنے والدین تک پہنچ سکے۔
جزاک اللہ خیراً
Contact: 03090000015