اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی
وفاقی حکومت جواب دیں؟؟
چیف کمشنر/چئیرمین سی ڈی اےجواب دیں؟؟؟
اسلام آباد کو صحرائے چولستان بنایا جارہا ہے،
اسلام آباد کے گرین بیلٹ پر قبضہ کیا جارہا ہے،
اسلام آباد کے جنگل، جنگلی حیات، ماحولیات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
یہ آئندہ نسلوں سے دشمنی ہے،یہ بدترین کرپشن ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد کیساتھ ناجائز طور چئیرمین سی ڈی اے کا ایڈیشنل چارج کیا اسلام آباد کی تباہی اور لوٹ مار کیلئے ہے؟؟؟
اسلام آباد کے شہری اس اسلام آباد دشمن اقدامات کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
@CDAthecapital
اسلام آباد ٹریفک پولیس کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی ملاحظہ کریں،
وزارتِ خارجہ بریفنگ پر آئے صحافیوں کی گاڑیاں گرین بیلٹ پر پھولوں کے کیاروں کے اوپر رکھ کر بیڑا غرق کر دیا۔
اوپر سے مشتاق نامی اہلکار نے سینیئر صحافی شوکت پراچہ، عامر متین اور دیگر سینئر صحافیوں سے انتہائی بدتمیزی بھی کی
منظر عام پر لانا میرا کام تبدیلی لانا وزیراعلی کا کام🚨
حال ہی میں میں نے ملاکنڈ بورڈ میں دو آسامیوں کے لیے اپلائی کیا تھا۔ ایک پوسٹ Personal Assistant to Secretary (BPS-16) تھی جبکہ دوسری پوسٹ Junior Clerk (BPS-11) تھی۔
دونوں ٹیسٹ دینے کے بعد میں نے شاندار پوزیشنز حاصل کیں۔
Personal Assistant to Secretary (BPS-16) کے ٹیسٹ میں، میں نے 100 میں سے 73 نمبر حاصل کیے اور سیکنڈ پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹاپ 75 نمبروں پر ہوا۔
دوسری پوسٹ Junior Clerk (BPS-11) کے ٹیسٹ میں میں نے 100 میں سے 71 نمبر حاصل کیے۔
ان دونوں ٹیسٹوں کے بعد مجھے کمپیوٹر ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا اور ان ٹیسٹوں میں بھی میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد میں کال لیٹر کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر تین دن بعد مجھے ایک سورس سے پتا چلا کہ بورڈ میں تو انٹرویوز ہو چکے ہیں۔
جب میں نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ چیئرمین صاحب نے صرف 3 افراد کو انٹرویو کے لیے کال کیا ہے، جن میں سے ایک شخص لوئر دیر کے MPA ملک شفیع اللہ خان کا بیٹا ہے جس کے 75 نمبر تھے۔ باقی دو افراد کے نمبر مجھ سے کم تھے، لیکن وہ مضبوط سفارشات کے ذریعے شامل کیے گئے تھے۔
اگلے دن میں اپنے چچا اور وحیداللہ بھائی کے ساتھ ملاکنڈ بورڈ گیا اور براہِ راست چیئرمین سے ملاقات کی۔
میں نے چیئرمین صاحب سے کہا کہ:
1) میں نے ٹیسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے، پھر بھی مجھے انٹرویو کے لیے کال نہیں کیا گیا۔
2) قانون کے مطابق 5 یا کم از کم 3 سے زیادہ امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے، مگر آپ نے صرف 3 لوگوں کو کال کیا۔
3) آپ مجھے میرٹ لسٹ دکھا دیں تاکہ پتہ چلے کہ فیصلے میرٹ پر ہوئے ہیں یا نہیں۔
4) آپ لوگ کسی کو صرف ٹیسٹ نمبروں پر منتخب نہیں کر سکتے۔ قانون کے مطابق Test Marks + Matric + FSc + Degree سب کا مجموعہ بنا کر Aggregate بنتا ہے۔ جبکہ میرے تمام ڈاکومنٹس آپ کے پاس رجسٹرڈ ہیں، اس کے باوجود مجھے جان بوجھ کر میرٹ سے نکالا گیا ہے۔
کافی بحث کے بعد چیئرمین صاحب نے مجھے صرف یہی کہا کہ:
“بیٹا، میں بے بس ہوں۔ یہ تین نام DTS (Domestic Testing Services) والوں نے بھیجے ہیں۔ اور MPA صاحب کا بیٹا کنفرم ہے کیونکہ اس کے لیے وزیرِاعلیٰ، گورنر اور امیر مقام نے سفارش کی ہے۔ لہٰذا آپ لوگ مزید تکلیف نہ کریں۔
اور Junior Clerk کی سیٹس پر میں نے اپنے اسٹاف کے کلاس فور ملازمین کو رکھا ہے، اس میں بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔”
آخر میں میں نے یہی کہا کہ:
اگر سیٹیں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں، تو پھر اشتہار (Advertisement) دینے کا فائدہ ہی کیا ہے؟
عاطف خان شانگلہ پورن
سرکاری سکول کی بچیوں کیلئے ایک پل تعمیر کر نہیں سکتے اور سوشل میڈیا پر پختونخوا کو سوئٹزرلینڈ بنانے کے دعوے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی
یہ ہے خیبرپختونخوا، جہاں 12 سال سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے
ملاکنڈ تحصیل درگئی جبن میں سرکاری سکول کی بچیوں کا سکول جانے کا منظر
خوش قسمت وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور
پورے صوبے میں ایک ہفتے سے سرکاری مشینری احتجاج پر ہے
سول سیکرٹریٹ میں دھرنا اور ہڑتال جاری ہے
صوبے بھر کے افسران سراپا احتجاج ہیں
انتظامی سیکرٹری اپنے محکموں میں سیاسی مداخلت کا شکوہ کر رہے ہیں
افسران سیاسی دباؤ میں کام چھوڑنے کی کھلم کھلا خواہش کا اظہار کر رہے ہیں
لیکن
جس طرح حکومت ایک ہفتے سے غائب ہے ویسے ہی اپوزیشن کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے
صوبے میں بدانتظامی کی سب سے بڑی ذمہ دار غیر فعال اور لاپرواہ اپوزیشن ہے
عذر گناہ بدتر از گناہ ۔
چترال میں شندور فیسٹیول کے دوران تین دن تک مسلسل پانچ ھیلی کاپٹرز ابر آلود موسم میں 12000 فٹ کی بلندی پر وی ائی پیز کو آنے جانے کیلئے دستیاب تھے مگر دریائے سوات میں پھنسے عام عوام/ کیڑوں مکوڑوں کیلئے ایک بھی ھیلی کاپٹر دستیاب نہیں ہوسکتا تھا ۔
ریسکیو 1122 سوات کی ایک 4x4 گاڑی اس وقت اسلام آباد پولیس کے پاس ہے
یہ گاڑی 26نومبر کے پی ٹی آئی احتجاج میں وزیر اعلی کے معاون خصوصی نیک محمد اپنے ساتھ لے گئے تھے
جو آپریشن کے دوران وہی چھوڑ دی گئی تھی ریسکیو کے گرفتار اہلکار بعد میں ضمانت پر رہا ہوگئے تھے
کسی فلم میں کرینہ کپور کا ڈائیلاگ تھا
میں اپنی فیورٹ ہوں
یہ اصل میں حال مریم نواز صاحبہ کا ہے۔ ساٹھ ہزار ایتھلیٹس لندن میراتھون میں تھے۔ چالیس کے قریب پاکستانی تھے ۔ ان میں ایک مونا خان تھیں۔ مریم نواز کی تصویر والی شرٹ پہن کر دوڑیں اور مریم اورنگزیب کو ٹیگ بھی کیا ۔ ان کو ان کے کوچ کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور ایک ایک میڈل اور باقی اڑتیس پاکستانیوں کو ٹھینگا۔
میڈم کو اپنی تصویر کا اپنی خود نمائی کا اتنا شوق ہے۔ حد ہوتی ہےچھچھورپن کی بھی۔
PTI can protest, block roads, use govt machinery, even march on Islamabad, & it’s fine. But if local reps in Peshawar demand rights, they face tear gas. Is democracy only for PTI’s benefit? Pakhtunkhwa sees it all. Injustice isn’t just ANP’s issue; it’s everyone’s problem.
ایسا کیوں ہے کہ ہر وقت عام لوگوں کے بڑے جانی و مالی نقصان کو قومی سانحہ کا نام نہیں دیا جاتا، نہ میڈیا پر مہینوں تک افسوس اور خبریں چلتی ہے
شمالی وزیرستان میر علی میں سبزی/مویشی منڈی کی حال آپ سب کے سامنے ہے۔ (جانوروں کی تصویر AI کے ذریعے بنائی گئی ہے، اصل دیکھنے کے قابل نہیں)
علاقہ بھی پختونوں کا ہے ( صوابی )
جس خاتون کو مارا جا رہا ہے وہ بھی پختون ہے
اور یہ جانور نما پولیس بھی پختون ہے ،
اس جانور کو فی الفور نوکری سے برخاست کیا جائے ،
اور اہل علاقہ میں غیرت ہو تو اسکا منہ کالا کرکے اسکو گدھے پے بٹھا کر گلی گلی گھومایا جائے۔۔۔
🚨🚨
Young and charismatic Baloch daughter @MahrangBaloch_ is face of peaceful Baloch resistance against state oppression, she is not only a ray of hope for thousands of Baloch missing persons families but emerged as a binding force marginalised segments of #Balochistan. Glimpse of her speech in #Gwadar today where thousands gathered to listen her.
وزیراعظم خاموش ہے خاموش رہے گا؟ چیف جسٹس خاموش ہے خاموش رہے گا؟ پارلیمان خاموش ہے خاموش رہے گا؟
نیشنل میڈیا خاموش ہے خاموش رہے گا؟ آج اگر ریاست کا کوئی ستون بلوچ عوام کے لئے نہیں بولے گا تو کل یہ عوام آپ کی کوئی بات کیوں سنے گی؟ ہم خود اپنوں کو غیر بنا رہے ہیں۔
پختونخوا حکومت کا اے این پی دور حکومت میں باچاخان گریٹر ایجوکیشنل کمپلیکس کیلئے خریدی گئی زمین کو بیچنے کا فیصلہ شرمناک اور انکی نااہلی کا ثبوت ہے۔ مالی بحران پر قابو پانے کیلئے یونیورسٹیوں کی زمینوں کو بیچنا کہاں کی دانش ہے؟