ایک خبر پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک سوال۔۔
خبر: “سہیل آفریدی کے جانے سے پہلے اندرون لاہور کی فوڈ سٹریٹ بند کر دی گئی تاکہ لوگ جمع نہ ہو سکیں”
سوال: آپ نے ساڑھے تین سال میں اپنا سارا زور ایک ناجائز حکومت اور ناجائز حکمرانوں کو انگلی پکڑ کر چلانے / نچانے میں لگا دیا۔۔ اور یہ حال ہے آج بھی؟ کہ راستے بند کرنے، چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنے کے بعد فوڈ سٹریٹ تک بند کرنا پڑ گئی؟
پاکستان آپ کے “شوق” اور “انتقام” کا مزید کتنا متحمل ہو سکتا ہے؟
جن سے عوام محبت کرتے ہیں ان سے عوام کو کب تک دور رکھ سکتے ہیں؟ اور جن سے عوام کو نفرت ہے ان کو کب تک عوام پر مسلط رکھ سکتے ہیں؟
اب بھی وقت ہے کہ اپنی آئینی حدود میں واپس جائیں اور عوام کے اصل منتخب نمائندوں کو ملک سنبھالنے دیں۔۔ تاکہ فوڈ سٹریٹس اور گلیاں بند نہ کرنا پڑیں!!!
By taking on Imran Khan, Pak Fauj has committed a monumental strategic blunder. Driven by animosity toward him, they have inflicted severe damage on their own credibility in the eyes of the public and instead of correcting this mistake, they continue to compound it with one miscalculation after another. Their obsession with popularity has brought them down. If Fauji leadership believes it can reclaim its lost standing by invoking past performance in an India–Pakistan conflict, then it is clearly operating with a mindset frozen in the 1970s. Even more delusional is the notion that dispatching an ill-prepared DG ISPR to lecture universities will somehow manufacture a persuasive national narrative. This is not strategy; it is wishful thinking and self-deception, and it only accelerates the erosion of whatever legitimacy the institution still possesses.
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
ڈمہ ڈولہ چیک پوسٹ کے بلکل سامنے بچے کو کوشھید کردیا ۔ حالانکہ وہاں کوئ کرفیو نہیں تھا۔ مبارک ہو فرسز کو فلسطین دوئم - اپنے ہی پاکستانیوں کی نسل کُشی میں پیش پیش - اللہ کی لعنت وردی پہنے خوارج پر۔
کیا کبھی کسی نے سوچا تھا ایک چھوٹا سا لیکچر اس طرح گلے پڑ جائے گا۔ ہوش کے ناخن لیں۔ عوام ساری گیم سمجھ چکی۔ اب مزید یہ نہیں چل سکتا۔ عوام ملکی مفاد کی محافظ ہے آپ نہیں۔
کاش ایوب خان یحی خان ضیا مشرف کا احتساب ہو جاتا تو یہ سب نہ ہوتا۔ جزیرے۔ مال۔ زمینیں۔ آئین توڑنا۔ عدت کیس بنانا۔ عورتوں کو جیلوں ڈالنا۔ ججوں کے کمروں میں کیمرے۔ آدھی درجن وزیراعظم قید - ایک کو پھانسی- NRO - گندی وڈیوز
آپ اور آپکا ملکی مفاد تالیاں
DGISPR نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ادارے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
حقائق کی درستگی کے لیے صرف اپنی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
دوران جبری گمشدگی مجھے ISI کے ایک آفیسر نے نواز شریف کی حمایت کے بدلے آزادی آفر کی تھی۔