ابابیل دوستو! ذرا یہ بتائیں، کیا ہم اپنے قائد کے لئے مزید وقت، مزید محنت اور کچھ نیند قربان کرنے کے لیے تیار ہو؟
اگر دن میں کئی مرتبہ ٹرینڈ بدلنا پڑے، اگر آرام میں خلل آئے، اگر مخالف پروپیگنڈے کا جواب دینا پڑے تو کیا ہم میدان چھوڑ دیں گے یا ڈٹ کر اپنے قائد حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور ان کے جرأت مندانہ بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
کمنٹس میں بتائیں ساتھ دیں گے ناں ؟ ان شاء اللہ!
#لعنتی_امریکی_پٹو
#وسائل_چور
#ڈیجیٹل_حرام_خور
#سلیکٹڈ_بدامنی
#کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا
"قیامت میں اقتدار کا نہیں، دین کے لیے محنت کا حساب ہوگا"
"" مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہم ""
امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا جےیوآئی اسلام آباد کے زیر اہتمام سیرت النبی کانفرنس سے خطاب ۔۔۔!
ہم دن رات ایک کرتے ہیں، گلی گلی، گاؤں گاؤں پھرتے ہیں، آزمائشیں بھی مول لیتے ہیں اور اس راستے میں شہادتیں بھی آتی ہیں تو اسے برداشت کرتے ہیں۔ لیکن اگر قوم ہماری بات نہیں مانتی، پیغام کو قبول نہیں کرتی اور انتخابات میں ہمیں ووٹ نہیں ملتا تو کیا ہمیں اس راستے کو چھوڑ دینا چاہیے؟
اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ نتیجہ آپ کے ذمہ نہیں ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بات اتارنا، اسے قبول کروانا یا نہ کروانا آپ کا کام نہیں۔
وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
اللہ تعالیٰ جس کے حق میں ہدایت نہیں لکھتا، آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ
لہٰذا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
ہمیں دو باتیں سمجھنی چاہئیں۔ جس دین کی خدمت کے لیے ہم نکلے ہیں، جو پروگرام اور منشور لے کر میدان میں آئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے کہ ہمیں ہماری استطاعت کے مطابق مکلف بنایا ہے۔ اللہ نے ہمیں ہماری طاقت سے بڑھ کر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔
جو ہمارے بس میں ہے، وہ ہمیں کرنا ہے؛ اور جو ہمارے بس میں نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمیں مکلف نہیں بنایا۔
دوسری بات یہ ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا مکلف بھی ہمیں نہیں بنایا گیا۔ کامیابی اللہ کی مرضی ہے، وہ چاہے تو کامیابی دے اور چاہے تو نہ دے۔
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے اسلامی نظام نافذ کیا یا نہیں، لیکن ضرور پوچھے گا کہ اللہ کے دین کے لیے تم نے محنت کی یا نہیں؟
اگر ہم اقتدار تک نہیں پہنچ پا رہے اور اللہ کے دین کے نفاذ کی قدرت ہمارے ہاتھ میں نہیں آ رہی تو کم از کم یہ قدرت تو ہمارے پاس ہے کہ ہم اس کے لیے محنت کریں، عوام کو سمجھائیں اور حق کی بات ان تک پہنچائیں۔
یہی وہ حق ہے جس کے بیان کرنے میں آزمائشیں آتی ہیں۔
ہمارے علماء لکھتے ہیں کہ حق کا پرچار کیا کرو۔
حق کے مقابلے میں باطل ہے۔ حق اس چیز کو کہتے ہیں جو قائم رہنے والی اور ثابت ہونے والی ہو، جبکہ باطل مٹ جانے والی چیز کو کہتے ہیں۔
باطل کی عملی صورت اگر باطل حکمرانی ہے تو حق کے معنی بھی باطل حکمرانی کے مقابلے میں حق کی آواز بلند کرنا ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جب حق کے پرچار کا حکم دیا تو فوراً فرمایا:
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
یعنی حق کی تلقین بھی کرو اور صبر کی تلقین بھی کرو۔
کیونکہ جب آپ عوام کے سامنے حق کی بات کریں گے تو پہلے سے اقتدار میں موجود طاقتور قوتوں کی طرف سے آزمائشیں آئیں گی؛ اور جب یہ آزمائشیں آئیں گی تو پھر استقامت، استقلال اور صبر کی ضرورت ہوگی۔
لہٰذا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اگر معاشرے میں جبر، ظلم، استبداد اور معاشرتی اضطراب ہے تو اس کے مقابلے میں وہ نظام کیا ہے جو ہمیں عدل کا تصور دیتا ہے؟
اقتدار بذاتِ خود ہمارا مقصودِ اصلی نہیں۔ اقتدار ہو تو اس لیے ہو کہ ہم عدل نافذ کر سکیں۔
ظلم اور جبر کے مقابلے میں عدل و انصاف کا نفاذ، معاشرے میں انصاف اور مساوات کا قیام ، یہی وہ دین ہے جو رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے لے کر آئے تھے۔
#سمیع_سواتی
#TeamJUISindh #TeamJUIPak #DefendersOfJUI
ہمارا دعویٰ ہے پاکستان رمضان کے مہینے میں بنا
قرآن کا نفاذ کا حق سب سے پہلے پاکستان پر ہے
قرآن سے اعراض کرو گے تو تمہاری معیشت کبھی ٹھیک نہیں ہوگی
محسن پاکستان مولانا فضل الرحمن کی فکر انگیز گفتگو
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق جےیوآئی، PTI سے اسرائیل، احمدیوں اور بعض اسلامی شقوں پر تحریری کمٹمنٹ چاہتی ہے، تاکہ اقتدار میں آکر ان پر عمل یقینی ہو۔
ویسے آپس کی بات ہے یہ تو PTI کے ہاتھ پیر باندھنے کی بات ہوگئی ان تمام باتوں پر عمل ہوگیا تو گولڈ سمتھ کی انوسمنٹ تو ضائع ہو جائیگی
قلندر ہر چہ گوید، حق گوید
مولانا فضل الرحمان نے تو اس سسٹم کے شروع ہوتے ہی بتا دیا تھا کہ جو اس سسٹم میں رہیگا وہ روئے گا اور جو سسٹم سے باہر ہوگا وہ ڈٹ کر بات کرینگے اور جرات سے بات کرینگے۔
#سالار_امن_مولانا#شہدائےجمعیت_باجوڑ#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
کیونکہ یہ سسٹم جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں، یہ (Collapse) کر چکا ہے، ( یعنی کے مکمل طور پر نام ہوچکا ہے ) آپ مانیں نہ مانیں۔
محسن نقوی
اور میں ان شااللہ آنے والے دنوں میں یہ بتاؤں گا کہ جو سسٹم کے اندر ہیں وہ روئیں گے اور جو سسٹم سے باہر ہیں وہ جم کر بات کریں گے اور جرات سے بات کریں گے، ان شااللہ
مولانا فضل الرحمٰن صاحب
آج محسن نقوی صاحب نے جو باتیں کی ھیں وہ 1973 کے آئین کے تحت ان کے لیے گئے حلف سے روگردانی ھے انکو فوری طور اپنی وزارت سے استعفی دے دینا چاھئیے یا وزیراعظم کو فی الفور انکو وزارت سے سبکدوش کردینا چاھئیے
#شہدائےجمعیت_باجوڑ#سالار_امن_مولانا#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ