تمام اثاثے پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے پیچھے لگا کر اصل معاملے سے توجہ ہٹوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ معاملہ جس کے لیے خان صاحب نے کہا ہے کہ ہم سب نے اس کو نہیں بھولنا اور پوچھ��ے رہنا ہے کہ
#گولی_کیوں_چلائی
عطا تارڑ کہہ رہا تھا یہ دوبارہ نکل نہیں سکیں گے لیکن آج لوگ بڑی تعداد میں نِکلے حیران کن مناظر تھے۔ لوگ شہداء کی تصویریں لے کر نِکلے 26 نومبر کے واقعے میں زخمی لوگ بھی وہاں آئے والدین اپنے بچوں کو لے کر آرہے اِس کا مطلب یہ لڑائی اگلی نسل میں منتقل ہو رہی ہے۔۔۔
اسد اللہ خان
نہ ہم اپنے شہیدوں کو بھولے ہیں اور نہ کسی کو بھولنے دیں گے۔
ریاست کی بدترین فسطائیت کے نتیجے میں، اپنے ملک کی حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہونے والے ان بہادر سپوتوں کو قوم کا سلام!
#گولی_کیوں_چلائی#دسمبر15_یوم_شہداء
عدالت نے دوبارہ گرفتاری سے روکنے کے احکامات کے ساتھ ان تمام 80 سے زائد ورکرز کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا مگر پولیس نے انہیں عدالت سے ہی دوبارہ گرفتار کر لیا۔ لیڈروں کی پیشیوں پر یہ ورکرز اپنے کام کاج چھوڑ کر آتے ہیں مگر انکی آزادی کے لیے کوئی لیڈر موجود نہیں تھا۔ بس ILF کے چار وکیل تھے۔
عمران خان نے آج اڈیالہ جیل میں باجوہ فیض س��شل میڈیا شہداء گرفتاری جنرل ڈائر یکجہتی فوج ادارے ان سب پر بات کی یہ بندہ لگ بھگ 500 دنوں سے جیل کے ایک کمرے میں ہے یہ غیر معمولی اعصاب کی مضبوطی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ"عمران خان کو خود عمران خان بھی نہیں ہرا سکتا "۔۔۔۔
سہراب برکت
آج میں جب سینیٹ میں آرہا تھا تو D چوک کا وہ قیامت بھرا منظر میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ مجھے لگا شاید سینیٹ میں بھی سوگ کا ماحول ہوگا لیکن افسوس ہوا کہ یہاں حکومتی بینچز پر بیٹھے لوگ شہداء کے خون کا مزاق اڑا رہے تھے۔ ہمارے 13 لوگ شہید کردئیے گئے۔ کسی کی بیوی بیوہ ہوئی تو کسی کے بچے یتیم ہوئے اور اس تمام فاشزم کی ذمے دار حکومت وقت ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف جس فاشزم سے گزر رہی ہے اس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی، سینیٹر عون عباس بپی
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو:
“اسلام آباد قتل عام کے سانحے کو جلیانوالہ باغ کی طرح نہ عوام بھولے گی نہ ہم بھولیں گے-
جنرل ڈائیر کا قتل عام سو سال بع�� بھی عوام کو یاد ہے- اس وقت نہ کیمرے تھے نہ میڈیا تھا-
اسلام آباد قتل عام کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، یہ شواہد چھپائے نہیں جا سکتے، آج نہیں تو کل سب ظاہر ہو جائے گا-
میری اپنی پارٹی اور کارکنان کو ہدایت ہے کہ اس ظلم پر پارلیمنٹ، عدلیہ، انٹرنیشنل میڈیا سمیت ہر سطح پر بھرپور آواز اٹھائیں-
پندرہ دسمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہدائے اسلام آباد قتل عام کے حوالے سے یومِ سوگ اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا-
ہمیں آخری سٹیج پر دھکیلا گیا، لوگ پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان پر سیدھی گولیاں چلائی جاتی ہیں، ہمارے شہدا کا ڈیٹا تک چھپا لیا گیا،کئی لوگ لاپتہ کر دئیے گئے، مجھے ایک کیس کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا ہے-
انہوں نے سول نافرمانی کے علا��ہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا- اگر سینئر ترین ججز پر مشتمل آزاد جوڈیشل کمیشن اور انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کی رہائی کے ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تو سول نافرمانی کی تحریک بھرپور طریقے سے چلائی جائی گی جس میں پہلا قدم اووررسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں کمی کی مہم ہو گی-
ہم اداروں سے کہتے ہیں کہ جو لوگ عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں انہیں پہچانیں اور روکیں- ہم اپنا ملک ٹوٹنے نہیں دیں گے-
جنرل فیض جنرل باجوہ کے ماتحت تھے- جنرل فیض کا معاملہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جب میں وزیرِ اعظم تھا جنرل فیض جنرل باجوہ کی اجازت سے مجھے ملتے تھے اور پھر جنرل باجوہ کو ڈی-بریف بھی کرتے تھے۔ نو مئی کے سلسلے میں جنرل فیض سے تعلق جوڑنا احمقانہ بات ہے۔ کیا مجھے پتہ تھا کہ نو مئی کو مجھے گرفتار کرنا ہے؟ تو سازش کس بات کی کرنی تھی؟ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری کیا مدد کر سکتے تھے؟
اصل حساب تو جنرل باجوہ کا ہونا چاہئے جس نے ہماری منتخب حکومت کے خلاف شازش کی۔ اس بات کو مولانا فضل الرحمٰن ، شاہد خاقان عباسی، محمد زبیر سمیت بہت سے لوگ کنفرم کر چُکے ہیں۔ ایک منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنے کے جُرم میں جنرل باجوہ کا ٹرائل ہونا چاہئے۔“
گولی کیوں چلائی کے ساتھ ایک اور سوال پوچھیں "ایف آئی آر کیوں نہیں کروائی "
اور یہ بھی پوچھیں کہ ابھی تک انٹرنیشنل پریس کانفرنس کیوں نہیں کی ان کے سامنے سارے ثبوت کیوں نہیں رکھے ساری ویڈیوز کیوں نہیں چلائیں ؟
#گولی_کیوں_چلائی#FIRکیوں_نہیں_کروائی
ایاز امیر صاحب آپ کو ٹکٹ ملنا تھا تب تک آپ ایکٹو بھی رہے
اور
نظر بھی آتے رہے
مگر
نتائج تبدیل ہوتے ہی نا آپ کبھی نظر آئے نا کبھی آپ کی اصول پسندی جاگی
۔۔
کتنی بار آپ عمران خان کی خاطر نہیں بلکہ جمہوریت کی خاطر، عوام کے ووٹ کو عزت کی خاطر، انصاف کی خاطر نکلے؟
“اپنا گریبان جھانکیں”
@HassanAyub82@PTIofficial تمہاری مالکن پٹواریوں کی باجی کسی عہدے کے بغیر ایک ارب کے یوتھ پروگرام کی چیئر پرسن کیسے بنی تھی۔۔۔؟؟ بعد میں ذلیل ہو کر سائڈ پر ہوئی تھی جواب کا انتظار ہے مالکوں سے پوچھ کر بتا دو۔۔۔
ہمیں فوری طور یہ چیزیں کر دینی چاہئیے تھیں - ابھی بھی ان پر فوری کام شروع کرنا چاہئیے۔
۱- انگریزی زبان میں ایک تگڑی پریس کانفرنس اور انٹرنیشل میڈیا کو متعدد بار بریفنگ۔
۲- شہدا کے گھر والوں کے انٹرنیشل میڈیا پر انٹرویو اور ہو مین رائٹس کے اداروں سے انکا رابطہ۔
۳- مِسنگ پرسنز کے کوائف کو اکٹھا کرنا۔ اور میڈیا سے شئیر کرنا
۴- مِسنگ پرسنز کی گمشدگی اغواہ کی عدالتوں میں پٹیشنز کرنا۔
۵- ایف آئی آر کرانے کی عدالت سے کوشش کرنا۔
۶- لاشوں کی تلاش کے لئے عدالتوں سے رجوع کے تمام سرد خانوں مردہ خانوں کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا جائے۔
۷- شہدا کے لئے مساجد میں قرآن خوانی اور جماعتی لیول پر اعلی قیادت کی اس میں شمولیت۔