نظام تو قائداعظم کا ہی دیا ہوا ہے،اور نظام ٹھیک بھی ہے۔سوال یہ کہ اسے اب کون چلا رہا ہے؟خرابی تو عملدرآمد اور گورننس میں ہے اور گورننس میں محسن نقوی سمیت سب شامل ہیں۔ خرابی نظام میں نہ تلاش کریں،جہاں بھی خرابی ہے،اسکے متعلقہ منتظمیں ذمہ داری اُٹھائیں۔
زرداری صاحب کے چھوٹے صاحبزادے فرما رہے ہیں کہ یہ سیاسی و حکومتی نظام اب ناکام ہو چکا ہے اور مزید نہیں چل سکتا۔ بھائی! اسی نظام کا فائدہ اٹھا کر آپ نے 30 سال کا سیاسی سفر محض ساڑھے تین سال میں طے کر لیا—ذرا سوچیں آپ کہاں سے شروع ہوئے تھے اور آج کہاں پہنچ چکے ہیں! تب تو یہ نظام بالکل ٹھیک تھا، لیکن اب جب آپ کا کام نکل گیا تو اچانک یاد آیا کہ یہ سسٹم خراب ہے؟ حالانکہ یہ نظام بنیادی طور پر قائد اعظم کا دیا ہوا ہے۔"
اوور سیز پیسے نہ بھیجتے تو حکومت کی کیا کارکردگی رہتی۔ہر وقت حکومت کو ڈیفنڈ کرنے کا ٹھیکہ چھوڑ کر دیانتدارانہ تجزیہ کیا کریں۔درآمدات پر کنٹرول اور برآمدات بڑھانے کا کام کس نے کرنا ہے۔ کسانوں کی تباہی کا کون ذمہ دار ہے۔ کسانوں کی گندم مناسب ریٹ پرخریدی نہیں، سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا اور باہر سے گندم درآمد کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔اس وقت کیا ملک میں زرعی،صنعتی اور یا روزگار پالیسی ہے؟ عوام مہنگائی سے رو رہی ہے۔آپ سدِباب کی پالیسی بتا دیں؟
اس دفعہ پاکستان کی درآمدات اڑتیس ارب ڈالر، برآمدات سے زائد تھیں جب کہ تارکین وطن نے ساڑھے بیالیس ارب ڈالر بھجوا کے ساڑھے چار ارب ڈالر کا سرپلس پیدا کر دیا۔ اس سرپلس کا مطلب تھا معیشت سنبھل گئی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے نتائج نکل آئے، اس پر پیپلزپارٹی سمیت سب یار لوگوں کو کھُرک ہو رہی ہے۔
چیک کر لیں
آئین کی شکل میں مؤثر نظام موجود ہے۔خرابی عملدار ی اور حکمرانوں کی نااہلی میں ہے۔میرٹ کی بجائے مفادات اور پاور کا کھیل چل ر ہا ہے۔میرٹ پر تقرریاں ہونگی تو گورننس ہوگی اور مسائل حل ہونگے۔
نئے انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز پرانی ہے۔کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے بہتری نہیں آئیگی بلکہ ایم کیو ایم کے ایکسکلوسو اقتدار اور بعد ازاں آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی والا سین سامنے آئیگا اور پورا پاکستان پورٹ کی سہولت سے بھی محروم ہو جائیگا۔انتظامی یونٹ بنانے کی بجائے ضلع یا ڈویژن کی سطح پر اختیارات اور بجٹ کی تقسیم کا نیا فارمولا بنا لیا جائے۔نیا نیشنل فاننس کمیشن طے کیا جائے۔50 فیصد وفاق اور 50 فیصد تمام صوبوں میں آمدنی تقسیم ہو اور یہ لازمی بنایا جا ئے کہ بجٹ اور اختیارات ڈویژن کی سطح پر آبادی کے تناسب سے ہی تقسیم ہوں۔تعلیم و صحت سمیت ہر شعبے کے ڈویژنل سیٹ اپ تک اختیارات آئیں۔وفاق کی سطح پر نااہلی یہ ہے کہ یہاں اسلام میں ابھی تک پینے کے صاف پانی کا بندوبست ممکن نہیں ہو۔سکا۔اربوں روپے کی عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں،لیکن پانی کے لئے ٹینکرز کی سپلائی کا مجبوری اور عارضی سطح کا نظام رائج ہے۔میرٹ پر تقرریوں کے نظام کو نافذ کیا جائے۔اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین ہی نظام کو چلائیں۔بنیادی تعلیم کے بعد پروفیشنل اور کیریئر اوری اینٹڈ ایجوکیشن سسٹم رائج کر کے گورننس کو بہتر کیا جائے تو شاید بہتری کا راستہ بن سکے ۔ہر تقرری میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمانداری اور کریکٹر کو بنیادی توجہ دی جائے اور ساتھ ہی احتساب کا کڑا نظام بھی تشکیل پائے۔تب جا کرگڈ گورننس ممکن ہو سکےگی۔
مجھے لگتا ھے چاچو کو محسن نقوی کے متنازعہ بیانات پر منہ توڑ جواب دیتے ہوئے
اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ۔
رانا ثناء اللّٰہ کو وزیر داخلہ۔
مصدق ملک وزیر پیٹرولیم۔
خرم دستگیر کو مشیر بجلی۔
خواجہ سعد رفیق مشیر ریلوے۔
لگا کر باقی نکموں کو فارغ کرنا چاہیے اور چیف منسٹر مریم نواز کو بھی چاہیے کہ
کریں کہ بیوروکریسی کے بجائے اپنے ایم پی ایز پر اعتبار کریں، ان کمشنرز اور ڈی سی وغیرہ کو کنٹرول کریں۔
ورنہ جو ابھی ہو رہا وہ تو صرف ابتدا ہے
آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا؟؟
علیم خان صاحب کے پاس self respect نامی کوئ چیز ھے تو اس بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پہ بیٹھنے کا اعلان کریں ۔ حوصلہ کریں ۔ صرف بیان نہ دیں ۔ راوی کنارے لوگ جنکو چونا لگا ھے وہ پچھلے سال سے رو رہے ھیں ۔ اسمبلی کا اجلاس آنے والا ھے۔ دیکھتے ھیں صرف بھڑکیں ھیں یا کوئ استعفی دے کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ بھی محبت اور یک جہتی کا اظہار کریں ۔ سیاست کبھی کبھی کوئ شرم کوئ حیا بھی مانگ لیتی ھے۔
زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین احمد)
محترم علیم خان صاحب خرابی سسٹم میں نہیں،مخصوص ارینجمنٹ کے تحت اقتدار میں آنے والوں کی ناکامی کی ہے۔آئین اور قانوں کی عملداری کہاں ہے۔پاور گیم کو آئینی عملداری کا نام نہ دیں۔اگر سسٹم کو کام کرنے دیا جائے تو خود محسن نقوی وزیر داخلہ ہوتے ہوئے خارجہ محاذ پر نمائندگی کرتے اور ساتھ ہی ساتھ کرکٹ بورڈ کےچیئرمین ہوتے۔وہ میڈیا رپورٹر،سے اور میڈیا چینلز کے مالک،پھر وزیراعلٰی،پھر وزیر داخلہ،ساتھ ہی پی سی بی کے چیئرمین اور بیک وقت خارجہ امور میں پیغام رسانی ک بھاری ذمہبداریاں نبھا رہے ہیںن بابا جب جو جسکا کام اور ذمہ داری نہیں،وہ کام کریگا اور اپنے مالی و کاروباری تحفظ کے لئے کریگا تو سسٹم تو ناکام ہوگا۔ جب تک آئین پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے مفادات کی بجائے میرٹ پر حکومت سازی نہیں ہو گی کوئی سسٹم کام نہیں کریگا۔ ٹیلرڈ نظام کے تحت نئے انتظامی یونٹ انتظامی اخراجات تو بڑھائیں گے،مسائلبحل نہیں کر ینگے۔آگے حلموں کی مرضی جو دل چاہیں کریں؟
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے انتظامی اصلاحات اور حکومتی امور کے حوالے سے جو اہم باتیں کی ہیں، وہ انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ میں یہ بات کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔
اب وقت آگیا ہے کہ موجودہ چاروں صوبوں — پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان — کو نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے تین تین صوبوں( انتظامی یونٹس) میں تقسیم کیا جائے۔ اس طرح سے کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جس سے تمام علاقوں کی تاریخی و ثقافتی شناخت مکمل طور پر برقرار رہے گی اور نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے گا۔
اس وقت شہریوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے سرکاری و قانونی کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا لمبا، تھکا دینے والا اور خوار کن سفر کر کے صوبائی دارالحکومتوں تک جانا پڑتا ہے۔ اگر اس طرح سے نئے انتظامی یونٹس بن جائیں اور عوام کے مسائل ان کے گھر کی دہلیز پر حل ہونا شروع ہو جائیں، تو آخر اس سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ ہاں، اگر کسی کی 'بادشاہت' میں کمی آتی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے، لیکن پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس میں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں۔
ان نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے لوگوں کو یہ طویل اور دشوار سفر نہیں کرنا پڑے گا، صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہوگی اور چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور ہائی کورٹس جیسے اہم ادارے عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری انصاف و خدمات فراہم کر سکیں گے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کے قیام کی بات صرف سیاسی نعروں تک محدود رہی ہے، لیکن اب وقت ہے کہ تمام سیاسی بصیرت کو ایک پیج پر لا کر اس وژن کو حقیقت کا روپ دیا جائے۔ نئے انتظامی صوبے ملک کو تقسیم نہیں کریں گے، بلکہ قومی یکجہتی کو مضبوط، معیشت کو مستحکم اور تمام علاقوں میں ترقی کو متوازن بنائیں گے۔
یوتھیوں کی بھی کیا “ جندگی “ ہے
ٹرمپ کے انے اور بائیڈن کے جانے پر دھمال ڈالتے رہے
پھر قاضی فائز عیسی کے جانے اور منصور شاہ کے انے کی خوشیاں مناتے رہے
پھر نیپال والوں کے پیچھے لگ گئے
پھر بنگلہ دیشیوں کو آوازیں مارتے رہے
پھر سری لنکا جانب منہ کرکے لیڈر تلاش کرتے رہے
پھر انقلاب کی کشتی پر اچکزئی اور ناصر عباس کو سوار کرلیا
پھر سہیل آفریدی میں انقلابی لونڈا تلاش کیا
پھر ایکشن کمیٹی کو اصل تبدیلی کا سورج قرار دیا
پھر ایران سے امیدیں باندھ لیں
پھر کاکروچ پالٹی جانب آس امید لگالی
پھر مولانا فضل الرحمان کو قافلے کی سالاری سونپ دی
اور اس وقت محسن نقوی کے پیچھے ٹر پئے ہیں
یہ ہے کپتان کا وہ سیاسی شعور جس پر 27 سال لگ گئے ہیں اور یوتھیے ایک تھاں پر ٹِک نہیں رہے
اس حکومت کے اڑھائی سالوں میں کوئی ایک درجن مرتبہ وفاقی کابینہ کے وزرا کے جتھوں سے ملاقات کا اتفاق رہا لیکن جس طرح بیوروکریسی سے براہ راست وزیر بننے والوں کو آٹھویں آسمان سے بات کرتے دیکھا، ان کا نخوت و غرور دیکھا توبہ توبہ۔ وزیراعظم سے زیادہ پروٹوکول کے متقاضی نخوت کے گُُن سے آلودہ لوگ۔
بس انہی کی شان میں گستاخی ہو گئی جناب سید عمران شفقت زنجانی سے، ویسے برادرم فواد حسن فواد بھی انہی عہدوں پر براجمان رہے، لیکن خاندانی پس منظر اور علم و حلم کے باعث اس نخوت کدے کے مکین نہ بن سکے۔
یہیں سے بندے کے خاندانی ہونے کا پتہ چلتا ہے
Baat tu kisi had tak theek.Lekin anjan aur nai brodhry mein rishton ka risk tu maujood hota he.Waldain ke liye mushkilat ziyada hein.Lekin tajveez buri nhi.
مسلمانوں کی وہ پاک دامن بیٹیاں جو تیس، پینتیس برس کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں، لیکن پھر بھی حرام کے قریب نہیں جاتیں،
شادی میں تاخیر کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً:
- مالی تنگی
- ظاہری حسن کی کمی
- صرف اپنی برادری میں شادی کرنے کی شرط
- یا خاندان سے باہر رشتہ نہ کرنا
ان وجوہات کی بنا پر وہ زیادہ عمر ہونے کے باوجود اپنے گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں، صرف اس امید پر کہ کوئی عزت کے ساتھ نکاح کرکے انہیں اپنے گھر لے جائے گا۔
ورنہ گناہ کے دروازے تو ان کے لیے بھی کھلے ہوتے ہیں، اور آج کے دور میں گناہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں بھی جو اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہی تو ایمان والی، اللہ سے ڈرنے والی اور عزت دار ماں باپ کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔
ورنہ آج پندرہ، سولہ سال کی عمر کی بعض لڑکیاں بھی خود کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھ پاتیں۔
لہٰذا اپنی اولاد پر ظلم نہ کریں۔ اگر اپنی برادری میں مناسب رشتہ نہیں مل رہا تو کلمۂ اسلام کی بنیاد پر رشتہ کر دیں۔ اگر لڑکا کم آمدنی والا ہو تب بھی اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ ہر انسان اپنے نصیب کا رزق ہی کھاتا اور پہنتا ہے۔
آخر کیوں اپنی بیٹیوں کی قیمتی عمر ضائع کر رہے ہیں ؟؟
اس بارے میں اپنی راۓ کمنٹ سیکشن میں دیں ۔ شکریہ
Mmaulana Sahib is not so brave as he is talking. Like other politicians Maulana Sahib is also power monger and bargainer. He remained Chairman Kashmir Committee,what he did for Kashmir at International Level.He failed to promote Kashmir causé except enjoying perks of Federal Minister as Chairman KC and always mulas of his school of thought in mosques of Auqaf ignoring Maulvis of other shools of thought.
Is he capable of becoming PM during this modern age.
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔
تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔
آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔
اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔
جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔
تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔
#عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور
*🫣 رکارڈ کی درستگی کے لیے 🧠*
کیا آپ کو یاد ہے کہ یہ شخص 64 ووٹوں کے ساتھ 36 ووٹ والے سے ہروایا گیا تھا تب عمرانی دور تھا۔
تب شعور باجوہ اور فیض کے بوٹ پالش کر رہا تھا۔
*روندے فارم 47 نوں 😎*I just
جنرل کا ایک نہیں دو بیٹے بارڈر پہ ہیں..
سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے مفتی صاحب کی ملاقات ہوئی...
انہوں نے بتایا کہ مفتی صاحب میرے دو بیٹے فوج میں ہیں اور اس وقت دونوں بلوچستان کے مشکل ترین محاذوں پر ہیں، ایک بیٹا ژوب کے مورچوں پر ہے اور دوسرا بیٹا جس کی ابھی ایک ماہ پہلے شادی ہوئی ہے وہ چمن بارڈر پر ہے...
چمن بارڈر پر روزانہ ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے، دن میں کئی بار خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو میرے بیٹے کی ساس میرے پاس سفارش لے کر آئی کہ آپ کے اتنے بڑے جنرل ہونے کا کیا فائدہ کہ اپنے بیٹے کو شادی کے چند دن بعد ہی موت کے منہ میں چھوڑا ہوا ہے، کسی سے سفارش کر کے اس کو وہاں سے واپس بلائیں...تو میں نے ان سے کہا کہ اگر ہم جنرلز کے بیٹے اگلے مورچوں پر نہیں لڑیں گے تو عام سپاہیوں کو ہم کس منہ سے وطن پر جان قربان کرنے کا درس دیا کریں گے...
تو وہ مایوس ہو کر چلی گئیں اور بیٹا ابھی تک وہیں ہے اور جب تک اس کی وہاں ضرورت ہے وہیں رہے گا...
آپ نے سوشل میڈیا پر بہت سارے الزامات پڑھ اور سن کر شاید انہیں نظریہ بنایا ہو گا ہم نے براہِ راست ایک جنرل والد سے اپنے بیٹوں کی یہ کہانی سنی ہے...
یقیناََ ایسی اور بھی داستانیں ہوں گی مگر جس کا مجھے یقینی علم ہے وہ آپ کو بیان کر دی...
آپ فوج کو جتنا مرضی مطعون کر لیں لیکن کبھی ثابت نہیں کر سکیں گے کہ کسی آرمی چیف یا جنرل کا بیٹا صرف اس وجہ سے آرمی چیف یا جنرل کی کرسی سے چپک گیا ہو کہ وہ ان کا بیٹا ہے یا بڑے باپ کا صاحبزادہ ہے...
ہاں اپنے گریبان میں جھانکیے گا تو موروثیت اور اقربا پروری کی وہ داستانیں ملیں گی کہ نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہے گا...
فرق صرف نعروں کا نہیں کارکردگی کا ہےجہاں برسوں عوام کو انتظار ملا، وہاں آج پنجاب میں ہزاروں نئی بسوں کا سفر شروع ہو چکا ہے۔
باتیں کم، کام زیادہ!
شاباش مریم نواز
مولانا صاحب
جب تک آپ پارلیمان سے مستعفی نہیں ہوں گے اور جب تک مراعات کے مزے لوٹتے رہیں گے اور جب تک آپ مخصوص نشستیں واپس نہیں کریں گے آپ کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ آپ اس نظام اور پارلیمان پر لفظوں کی گولہ باری کرتے رہیں اور رہی بات آپ کے خلاف مہم جوئی کی تو محترم مولانا صاحب پاکستانی عوام اور شہدا کے وارثان نے آپ پر تنقید تیر چلائے ہیں کیونکہ آپ نے ریاستِ پاکستان کے شہدا کی تضحیک کی ہے اور یہ مہم جوئی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آپ اپنے شہدا والے بیان سے رجوع نہیں کرتے
کیس از ڈسمسڈ
جمیعت علماء اسلام ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے۔اپنے لیڈر کے ایک غلط بیانکے دفاع میں اخلاقیات سے گری زبان اور اپنے ناقدین کے خلاف گالی گلوچ کی زبان کے استعمال پر افسوس اور مذمت ہی کی جا سکتی۔مانو کہ مولانا نے غلط بیان دیا۔
@syed_bacha تم سب ہیرہ منڈی کے گندے کیڑے ہو جو ڈالر کیلئے اپنی ماں بھی چودے تمہارا اصلیت پوری دنیا کو پتہ ہے۔۔ تیری۔ماں کی چھوت کے نیچے جب کیمرے رکھتے تھے اس وقت تم۔غار میں چھپے ہوئے تھے ہم۔میدان۔میں تھے #مرد_آہن_مولانا#چوکیدار_وڑگیا
حق تو یہ ہی ہے کہ ایران کو ایک بار باقاعدہ اور مکمل جنگ جیتنے کا شوق پورا ہونا دیکھنا چاہیے۔
لیکن دل اجڑتی ہوئی سویلین آبادیوں کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا یے۔
پاسداران انقلاب کا جنگی معیشت سے مال بنانے کا جنون کتنی ماؤں کی گود اجاڑے گا۔