قائد پی ایم ایل این محمد نواز شریف نے بہت پہلے واضِع کر دیا تھا کہ مخلوط حکومت کی صورت میں وہ وزیر اعظم کے امیدوار نہیں اور بالکل ٹھیک فیصلہ تھا ورنہ بونوں سے بلیک میل ہوتے رہتے جس طرح آج ہر اہم موقع پر PPP حکومت کو بلیک میل کر رہی ہوتی ہے-
🚨 آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت منی پور، کشمیر اور خالصتان سے متعلق امریکی صحافی کے سخت سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے دم دبا کر بھاگتے نظر آرہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سانحہ پمز کے حوالے سے ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ پمز ہسپتال کے پاس فائر ڈیپارٹمنٹ کا این او سی موجود نہیں ہے۔اگر سرکاری جگہوں پر انفورسمنٹ نہیں تو پھر پرائیوٹ سے تو شکایت بنتی ہی نہیں ہے۔گراونڈ کی حقیقت یہ ہے کہ فائر سیفٹی کے سامان میں جگاڑ لگایا جاتا ہے اور ڈیڑھ کروڑ کے نظام کی بجائے دو سے پانچ لاکھ روپے کے سامان کا جگاڑ لگایا جاتا ہے۔راولپنڈی میں آر ڈی اے کی سوسائٹیز میں بھی یہی جگاڑ لگایا جا رہا ہے۔
تبدیلی اسے کہتے ہیں!
جو بچے نارول سے دوسرے شہروں میں پڑھنے گئے تھے وہ واپس اپنے ناروال میں پڑھنے آگئے
کبھی سوچا تھا کے نارووال مدوکالواں میں رہ کر انجنیر بنو گی ۔
دیامر بھاشا ڈیم کے 4,500 میگاواٹ پاور کمپوننٹ کی منسوخی کی خبر حقائق کے برعکس ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کے 4,500 میگاواٹ پاور پراجیکٹ کی منسوخی کے نام پر سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبر کی تہہ تک جائیں تو کہانی سرخی سے خاصی مختلف نکلتی ہے۔
یہ دعویٰ ایک نومولود سائیٹ کی جانب سے سامنے آیا ۔ جو وقاص احمد نامی مفرور شخص چلاتا ہے ۔ یہ شخص امریکی پلیٹ فارم سے بھی منسلک ہے اور پاکستان مخالف صحافیوں کیساتھ مل کر پاکستان سے متعلق پہلے بھی من گھڑت جعلی خبریں دے چکا ہے جس پر اس کو قانونی کاروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ۔
اس نے خبر لگائی کہ پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کا 4,500MW power component “cancel” کردیا۔ مگر خود اسی رپورٹ کے اندر تسلیم کیا گیا ہے کہ کوئی باقاعدہ عوامی cancellation order موجود نہیں، WAPDA آج بھی منصوبے کو 4,500 میگاواٹ کے ساتھ دکھا رہا ہے اور حکومتی پاور پلاننگ میں بھی یہ منصوبہ برقرار ہے۔
سوال کرنا صحافت ہے، لیکن من گھڑت کہانی کو “منصوبہ منسوخ ہوگیا” بنا کر پیش کرنا صحافتی تحقیق نہیں بلکہ narrative building ہے۔ وقاص احمد اور ان کے ڈراپ سائٹ کے امریکیوں کی گزشتہ چند برسوں کی پاکستان کوریج دیکھی جائے تو عمران خان اور PTI کے مؤقف کے ساتھ واضح editorial alignment نظر آتی ہے۔
یہاں نہ cancellation order سامنے آیا، نہ منصوبہ سرکاری planning سے نکلا، نہ WAPDA نے 4,500MW ختم کیے۔ لیکن اس نے خبر بنادی ۔ یہ صحافت نہیں ہے ۔
حکومت سے نکلے تو نعرے لگائے “ امریکی غلامی نامنظور “ پھر لاکھوں ڈالر دیکر لابنگ فرم ہائر کروائی
پھر ٹرمپ کے چپڑاسی رچرڈ گرنیل کو بہنوئی بنایا “ لنڈسے گرام کے دونوں ہاتھوں سے اُٹھائے
اب سابق کرکٹروں کو مال کھلا کر ناچ رہے ہیں لیکن وہ اندر ہی رہے گا
ٹرمپ نے سینٹ کام نے آبنائے ہرمز پر بیان دئیے کہ وہاں پر انکا کنٹرول ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایرانی عوام کو کشتیوں پر بٹھا کر آبنائے ہرمز کی سیر کروائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانیوں کا کنٹرول ہے اور اس کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔
ایرانی آبنائے ہرمز کھولنے کی ایک قیمت چاہتے ہیں کیونکہ عربوں کا تیل آبنائے ہرمز کے علاوہ بکنا مشکل ہے۔ ایرانیوں کی شرائط ابھی آبنائے ہرمز کھلونے کے حوالے سے سامنے نہیں آئی ہیں۔
اگر امریکہ ناکہ بندی ختم کردے تو ایران صبح اپنا تیل چین کو بیچنا شروع کردے گا معاشی پابندیاں ایران کو بہت تنگ کررہی ہیں، مجبتیٰ خامنہ نے بھی بیان دیا ہے کہ ملک میں یکجہتی رکھیں تنازع والے بیان نہ دیں لوگوں کو ریلیف دیں اس کا مطلب ہے کہ لوگ معاشی مشکلات کا شکار ہیں، مزمل سہروردی
@M_Suharwardy
https://t.co/qptiWfe7gA
🚨ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اگر اب بھارت نے حملہ کیا تو ہم اسے اس کی مشرقی سرحد سے جواب دیں گے۔ لیکن بھارت کے مشرقی سمت پر اٹیک کے لیے پاکستان کو بنگلہ دیش کی سرزمین درکار نہیں۔ پاکستان کی لانگ رینج میزائل صلاحیت پورے بھارت کو پاکستان سے ہی کور کرتی ہے۔
اور اگر PNS Hangor-class خلیجِ بنگال سے نمودار ہو گئی تو بھارتی مشرقی ساحل—تامل ناڈو، آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور مغربی بنگال—پاکستانی بحری طاقت کی عین دہلیز پر آ جائیں گے۔
یعنی وار کے لیے راستہ نہیں، صلاحیت کافی ہے۔ 🇵🇰⚓🔥
🚨 تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ کیسے ایک سپہ سالار افواج پاکستان ہر محاذ پر پاکستان کو اسکا جائز مقام دلانے، اور دنیا میں آگے لے جانے میں دن رات مگن تھا۔۔ پاکستان کی تاریخ کے اس سنہرے باب کو ہمیشہ سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا ۔۔ ناقدین کو ماضی میں ملٹری ڈپلومیسی کی ایسی کوئی شاندار مثال ملتی ہے تو بتائیں؟؟؟
1950 کے اندر اتفاق فاؤنڈری
میاں صاحب کے والد صاحب نے بنائی میں سمجھتا ہوں میاں صاحب کے والد انڈسٹریل تھے
اور میں اس وقت ہوٹل کے برتن دھوتا تھا ۔
سنیئے عمران خائن کی زبانی
پمز اسلام کے نرسری وارڈ میں آگ لگنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
جس میں صرف ایک نرس کو ہی بچے بچاتے دیکھا جا سکتا ہے باقی سٹاف نے اگ لگنے کے ساتھ ہی باہر جانا شروع کر دیا۔۔۔
کچھ عرصہ قبل انکشاف ہوا کہ مولانا فضل الرحمان اور ہیبت اللہ کے درمیان بات چیت ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ ہیبت اللہ نے مولانا کو کہا کہ افغانستان کے تناظر میں آپ پاکستان کی ریاست پر پریشر بڑھائیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری آپ کی مذہنی جہادی اور نظریاتی ہم آہنگی ہے جب بھی پاکستان اور افغانستان میں مقدمے اور بیانیے میں کسی ایک کا ساتھ دینا پڑا تو میں آپ لوگوں کا ساتھ دوں گا اس پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ مولانا کو شٹ اپ کال دی جس کے بعد مولانا کے رویے میں اتنی تلخی آگئی، عقیل یوسفزئی
@iaqeelyousafzai
https://t.co/wprryqSBZ9
"امارات اسلامی کی پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں، ہم تو اسکو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہیں۔"
ذبیح اللہ مجاہد
جیسے ہی افغانستان کے اندر نمبر ون نے تھوڑی سی گیم اٹھائی تو تیر کمان کی طرح سیدھے پوگئے۔
یہی نمک حرام کچھ ماہ پہلے تک خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو افغانستان بتاتے تھے
📢 عوامی خدمت۔ انسانیت۔ اخلاق اور پیشہ وارانہ مہارت جیسی تمام خوبیاں اگر دیکھنا ہوں تو اسکی بہترین مثال "ڈاکٹر عامر رفیق ایم ایس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور" ہیں۔۔
📌 میرا ڈاکٹر عامر رفیق ایم ایس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور سے نہ کوئی تعلق ہے، نہ ان سے کبھی ملاقات رہی ہے۔۔ اپنے ایک فیملی ممبر کو تشویشناک حالت میں فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور ایمرجنسی میں شفٹ کیا گیا، پریشانی میں ذہن ماؤف ہوچکا تھا، وہاں پر کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ ایم ایس صاحب سے ملیں، چنانچہ اگلے دن میں صبح ایم ایس آفس پہنچا، انکے آفس کے باہر لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر ذاتی طور پر پریشان ہوگیا کہ پتہ نہیں میری باری آتی بھی ہے یا نہیں؟ لیکن اس دوران میں نے یہ آبزرو کیا کہ وہ ہر شخص کا مسئلہ پوری توجہ سے سن رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے سٹاف کو انکے متعلق احکامات بھی دے رہے ہیں، مجھے بھی انھوں نے بہت تفصیل سے سنا، تسلی دی، اور اپنے سٹاف کو بلا کر احکامات دئیے۔۔
👈 جو کام فیصل آباد انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی نے کرنے کیلئے مجھے 1 سال کا وقت دیا تھا، وہی کام محض 3 دن کے اندر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہوا، اس ایک ہفتے کے دوران میں نے یہ نوٹس کیا کہ کنسلٹنٹ، پروفیسرز صاحبان وقت کے پابند دکھائی دئیے، پیرا میڈیکل سٹاف بہت مستعد نظر آیا، ادویات کی فراہمی انتہائی برق رفتاری سے ہوئی، ٹیسٹ اور لیبارٹری کے تمام مراحل میں بھی بہت قابل تعریف تبدیلی نظر آئی۔۔
👈 میں گزشتہ 4٫5 سال سے P.I.C جاتا رہتا ہوں، لیکن MS PIC صاحب سے پہلی بار ملاقات ہوئی، اور یہ بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ MS Punjab Institute Of Cardiology ڈاکٹر عامر رفیق صاحب کے دور میں یہ ادارہ روز بروز بہتری کیطرف گامزن ہے، وہاں پر موجود دیگر مریض اور انکے ساتھ آئے ہوئے اٹینڈنٹز کی بھی یہی رائے تھی جو میں نے تحریر کی۔۔
📢 اگر ہر ڈاکٹر MS PIC عامر رفیق صاحب کیطرح جذبہ خدمت کے تحت اپنے فرائض سر انجام دے، تو وہ دن دور نہیں جب محدود وسائل کیساتھ پنجاب حکومت عوام کو صحت کے شعبے بہترین سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔۔
📌 @MaryamNSharif@Kh_ImranNazir@SalmanRafiquePK
آپکے پاس ڈاکٹر عامر رفیق صاحب جیسی شخصیات موجود ہیں، جنکی تقلید دوسرے ہسپتالوں کے MS صاحبان اور Administrative staff کو بھی کرنی چاہئیے، ایسے مخلص، دیانتدار شخصیات کی قدر کرنا چاہئیے اور انکی بھرپور معاونت کی ضرورت ہے تاکہ یہ عوام کے مفاد کیلئے بہتر سے بہترین اقدامات کر سکیں ۔۔
👈 اللہ پاک ڈاکٹر عامر رفیق کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اسی استقامت اور ثابت قدمی کیساتھ مریضوں کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 🤲
میں سہیل آفریدی کا ناقد ہوں مگر ہری پور میں جو متاثرہ بچی جس کے ساتھ ظلم ہوا تھا اس کے گھر جا کر اس کے والد سے سہیل آفریدی کا ملنا قابل تعریف ہے۔ اس طرح کے گندے ذہن کے جو لوگ ہیں ان کو چوک میں سر عام لٹکانا چاہیے۔ ایسے واقعات روزبروز بڑھ رہے ہیں۔