Pakistan threatened Lord’s Test boycott after broadcaster Sky Sports telecast interview with Imran Khan’s two sons which was actually recorded at the Lord’s Long Room a day before the Test. PCB wanted SKY not to air the interview during Lunch break else they wouldn’t take the field post Lunch.
The 18-min interview done by Michael Atherton (one of the 21 captains to sign the letter to Pak PM) was shown and Pak did take the field too
#PakvsEng
نظامِ مملکت کو چلانے اور اسے دیانتداری سے ماتحت رکھنے کے لیے امین اور اہل افراد کا تقرر ناگزیر ہے۔ جب تک آپ میرٹ اور اہلیت کو نظر انداز کر کے محض ذاتی تعلقات یا روابط کی بنیاد پر فیصلے کریں گے، تب تک نتائج مایوس کن ہی برآمد ہوں گے۔
یہ معزز ایوان بھی ہمارے پاس ایک قومی امانت ہے۔ وزیرِ قانون صاحب ناراض نہ ہوں، لیکن آپ مجھے بتائیں کہ اس دن آپ نے عسکری امور سے متعلق بل اچانک پیش کیا اور عجلت میں اس کی منظوری بھی لے لی۔ کیا قانون سازی کا یہی طریقہ کار ہے؟ کیا یہ ہماری پارلیمانی روایات کے مطابق ہے؟ یہ ہماری عزت افزائی تھی یا توہین؟ ہمیں اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا کہ دو یا تین دن قبل اس بل کے مسودے سے آگاہ کر دیا جاتا۔
اگر قانون سازی کا یہی وطیرہ رہا تو کیا ہم نے اپنی امانت کا حق ادا کیا؟ عوام اور قومی اسمبلی کے نمائندوں نے ہمیں قانون سازی کے لیے اپنا امین مقرر کیا ہے۔ کیا اس طرح کی عجلت پر مبنی قانون سازی سے ہماری دیانتداری ثابت ہوتی ہے؟ کیا قوانین اس طرح وضع کیے جاتے ہیں؟ کیا عوام اس غیر جمہوری عمل کو تسلیم کریں گے؟ ہم نے ایسا قانون منظور کیا ہے جس کا خمیازہ مستقبل میں پوری قوم، آنے والی حکومتوں اور اسمبلیوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا؛ اس پر ایوان میں باقاعدہ اور تفصیلی بحث ہونی چاہیے تھی۔
ہم عوام کے مفاد پر مبنی ہر بہترین قانون سازی میں حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے، بشرطیکہ ہم پر اعتماد کیا جائے۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ بل ایوان میں لاتے ہی منظوری کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے، جسے پڑھنے کا موقع تک نہیں ملتا، حتیٰ کہ بسا اوقات منظوری دینے والوں کو خود بھی اس کے مندرجات کا علم نہیں ہوتا۔ اگر نظامِ مملکت اسی طرح چلنا ہے، تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ نظام کام نہیں کر رہا۔ کہیں بھی امانت اور دیانتداری کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے، جو ہمارے لیے انتہائی تشویش ناک اور مشکلات کا باعث ہے۔
جنابِ چیئرمین! میری گزارش یہ ہے کہ آپ یہاں سیاست نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں، حالانکہ خامیوں کی نشاندہی کرنا محض سیاست نہیں ہے۔ سیاست دراصل عوام کی خدمت اور ان کے آئینی حقوق کے لیے بلند آواز ہونے کا نام ہے۔ ہم سب سیاست کرتے ہیں اور یہ ہمارا جمہوری حق ہے، لیکن سیاست کا مقصد جھوٹ بولنا، دھوکہ دہی، فریب یا مکاری ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ اگر ہمارے کسی سیاسی حریف کے ساتھ بھی ناانصافی ہو، تو ہمیں اس کے حق میں بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی پالیسی ترک کرنی چاہیے، کیونکہ آج ہم اسی روش کے تباہ کن نتائج بھگت رہے ہیں۔ یہ کیسی طرزِ حیات ہے کہ جب ان پر ظلم ہو تو ہم خوش ہوں اور جب ہم پر ظلم ہو تو وہ خوش ہوں؟ ہم سب ایک ہی معزز ایوان کے رکن ہیں؛ ہمارے درمیان نظریاتی و سیاسی اختلاف ضرور ہونا چاہیے، لیکن ذاتی دشمنی اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
اس لیے میری گزارش ہے کہ سینیٹ کی ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں زیرک اور باصلاحیت ارکان شامل ہوں جو معاملات کی شفاف تفتیش اور حقائق کی جانچ پڑتال کر سکیں۔ اس کمیٹی میں سعدیہ عباسی صاحبہ، ڈاکٹر صاحب، سواتی صاحب اور بیرسٹر صاحب جیسے معتبر اور قابل ارکان کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
عوام تک درست اطلاعات کی رسائی احتساب کا ایک بنیادی جزو ہے۔ اگر عوام کو بروقت اور مصدقہ معلومات فراہم کی جاتی رہیں، تو کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا۔ درست معلومات کو عوام تک پہنچنے سے ہرگز نہیں روکنا چاہیے اور میڈیا کو اپنا مثبت اور آزادانہ کردار ادا کرنے کی مکمل اجازت ہونی چاہیے۔ ہم جھوٹ یا افواہ سازی کے حامی نہیں ہیں، تاہم معاملات میں مکمل شفافیت کا ہونا ناگزیر ہے۔
آج کل یہ تشویش ناک افواہیں بھی زیرِ گردش ہیں کہ جن خاندانوں کے بچے شہید یا قتل ہوئے ہیں، ان کے والدین کو شدید دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب ریاست حقائق کو عوام کے سامنے رکھے گی اور کسی متاثرہ ماں یا باپ کو اپنا مؤقف آزادانہ بیان کرنے کی اجازت دے گی، تو ایسی افواہیں خود بخود دم توڑ جائیں گی اور کسی کو بھی بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
میری استدعا ہے کہ ریاستی امور کو سہل اور شفاف بنائیں۔ عوام تک اصل حقائق پہنچنے دیں؛ اسی میں آپ کا، ہمارا اور پورے پاکستان کا وسیع تر مفاد ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
Imran Khan’s sons, Sulaiman and Kasim Khan, tell Al Jazeera they are increasingly worried about their 73-year-old father after hearing he is “agitated” and suffering from “severe anxiety.”
ہماری جب بھی والد ( عمران خان ) سے فون پر بات ہوتی ہے تو ہمیشہ بڑی جلدی میں اور افراتفری میں ہوتی ہے کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی وقت یہ فون کاٹ دیں گے،
عمران خان ہمیشہ ہمیں زندگی گزارنے اور مشکلات کا کس طرح مقابلہ کرنا ہے اس کا سبق دیتے ہیں۔۔!!
قاسم خان
#StopRiskingImranKhansLife
I’m just so impressed by the bravery of these boys. They take after their father @ImranKhanPTI and though he has been locked away in inhumane, life threatening isolation and will not have seen their many interventions, I know he would be so proud to see them fighting for justice
ہم نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ہمارے والد موروثی سیاست کے سخت خلاف رہے ہیں ۔ پاکستان کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہی موروثی نظام رہا ہے ۔ میں اور سلیمان اپنے والد کی رہائی اور ان کی صحت کی ضمانت کے لیے جو کچھ ہو سکا اخلاقی ور قانونی دائرے میں رہ کر کریں گے تاکہ وہ بحفاظت ہمارے پاس واپس آ سکیں اور قوم کو اپنا منتخب لیڈر مل سکے ۔ لیکن جہاں تک سیاسی قیادت کا تعلق ہے ، ہم موروثی سیاست کو آگے نہیں بڑھائیں گے ۔ والد کی رہائی کے بعد اگلا سیاسی قائد وہی بنے گا جسے پاکستان کے عوام منتخب کریں گے اور جو اس عہدے کا اہل ہوگا، قاسم خان
اس وقت پوری دنیا میں ٹاپ ہیڈ لائن عمران خان کی صحت کا معاملہ چل رہا ہے، ہر ملک میں اس پر میڈیا رپورٹ کررہا ہے،
عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویوز کیلئے اپروچ کررہا ہے
خوفزدہ فرعون !
پاکستان انگلینڈ میچ کے دوران جیسے ہی قاسم اور سلیمان سکرین پر آۓ تو پی ٹی وی سپورٹس نے اشتہارات چلا دئیے۔
چھوٹے دماغ کبھی بڑے فیصلے نہیں کر سکتے !
#StopRiskingImranKhansLife .
قرآن مجید میں ایک مشہور آیت ہے جس میں قیامت کا تذکرہ ہے:
*"وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ"*
۔ قیامت کے دن زندہ درگور کی گئی بچیوں سے خدا پوچھے گا کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔ اس وقت (عرب معاشرے میں) ایسا ہی ہوتا تھا کہ جب بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اسے زندہ دفن کر دیتے تھے۔ مفسرین نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، لیکن یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خداوندِ متعال اس دن اس بچی سے پوچھے گا جو دفن ہوتے وقت بول نہیں سکتی تھی؛ اگر وہ نومولود یا چھوٹی عمر کی تھی تو صرف رو یا چیخ سکتی تھی۔
خدا اس سے پوچھے گا اور وہ بولے گی۔ اللہ تعالیٰ قاتل سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تو نے قتل کیوں کیا، بلکہ مقتول سے پوچھے گا کہ تجھے کیوں قتل کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقتول، بچیاں اور نومولود بچے خدا کے ہاں کتنے اہم ہیں۔
قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
انٹرنیشنل میڈیا BBC News 🚨
عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ انٹرویو کو اُردو زبان میں شئر کیا گیا ہے!!
یہ BBC news نے اپنے آفیشل پیج پر شئر کیا ہے!
اسوقت عمران خان واحد بڑی نیوز ہے, انٹرنیشنل میڈیا پر!!
ہر انٹرنیشنل میڈیا کی خبر کو پھیلائے!!
🚨اہم ترین
فیصل آباد میں مزدور یونینز نے سلمان اکرم راجہ کی موجودگی میں مشترکہ طور پر 27 ستمبر لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا
ہم لعنت بیجھتے ہیں ان سڑکوں پر اگر ہمارے بچے ہی بھوکے رہنے ہیں، 27 ستمبر کو پورا فیصل آباد نکلے گا، مزدور رہنما
This is really something unusual and amazing. The one you wanted to totally dismantle from the memories of the people is echoing from the world’s most famous cricket ground.
عمران خان کی مسلسل قیدِ تنہائی، ذہنی اذیت، اہلِ خانہ اور وکلا سے رابطے کی پابندیاں اور ضروری طبی سہولیات سے محرومی نے یہ خدشہ مزید گہرا کر دیا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر عمران خان کو جیل میں کسی قسم کا کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ذہنی مریض عاصم منیر اور اس کے مسلط شدہ اس ظالمانہ نظام پر عائد ہوگی اور پھر اس کی قیمت انہیں ادا کرنا پڑے گی۔
#StopRiskingImranKhansLife
#TorturingImranKhanIsACrime
میرے والد اپنے عزم اور ارادے میں اتنے مضبوط انسان ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا مضبوط شخص نہیں دیکھا۔ انہوں نے انتخابی کامیابی حاصل کرنے سے قبل مسلسل 22 سال تک تمسخر اور مشکلات کا سامنا کیا۔ وہ ایک ہولناک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے، بے شمار مصائب برداشت کیے، اور اب گزشتہ تین سالوں سے قید تنہائی کے باوجود ہمت نہیں ہارے۔ تاہم اس ناروا سلوک کے اثرات اب ان کی جسمانی صحت پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ ان کی عمر 73 سال ہو چکی ہے ۔ انہیں بمشکل 6x8 فٹ کی ایک ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جہاں نہ کوئی کھڑکی ہے اور نہ قدرتی روشنی کا گزر۔ انہیں دن کے 23 گھنٹے سے زائد وقت اسی تاریک ماحول میں قید رکھا جاتا ہے ۔ جب گزشتہ سال اکتوبر میں ان کی بینائی متاثر ہونا شروع ہوئی ، تو تین ماہ تک محض آنکھوں کے ڈراپس دینے پر اکتفا کیا گیا۔ رواں سال فروری میں جب ان کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا ، تب تک وہ اپنی دائیں آنکھ کی بینائی کا ایک بڑا حصہ کھو چکے تھے ۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران معزز جج نے نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ان کی نبض اور دل کی دھڑکن معمول پر نہیں تھی ۔ اس کے علاوہ یہ تشویشناک انکشاف بھی ہوا کہ ان کے اہم ترین جسمانی اعضاء متاثر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ کسی شخص کو صرف قید میں ہونے کی وجہ سے طبی نگہداشت سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے ۔ سپریم کورٹ نے اس صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا حکم صادر کیا تھا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت عدالتی حکم کی پابندی کرے، غیر جانبدار ماہرین کو معائنے کی اجازت دے ، طبی رپورٹ منظر عام پر لائے اور بطور اولاد ہمیں ان سے رابطے کا حق فراہم کرے ، قاسم خان