Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
عمران خان صاحب کی جھلک سے زیادہ ضروری ان کی صحت ہے۔۔ آئیے اپنے قائد سے محبت کا ثبوت یہ دیں کہ ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ بنیں۔
کوئی بندہ بھی شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل کے باہر نہ جائے کیونکہ اگر آپ باہر جائیں گے تو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی جس کی وجہ سے عمران خان صاحب کے لئے پھر مشکلات پیدا نہ ہو جائیں۔
کیا ایکسپریس نیوز والے بتانا پسند کریں گے کہ راولاکوٹ میں ریل پٹری کب بنی؟جس پرانی کھڑی گاڑی پر گولیوں کے نشانات دکھا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے، ذرا یہ بھی بتا دیں کہ یہ ریل راولاکوٹ سے کہاں جا رہی تھی؟جھوٹ بولنے کے لیے بھی عقل چاہیے۔
پروپیگنڈا کرنے سے پہلے کم از کم اتنی تحقیق تو کر لیا کرو کہ جس شہر کی خبر چلا رہے ہیں وہاں ریل کی پٹری ہے بھی یا نہیں۔
پی ٹی آئی کو فوری عوامی احتجاج کی کال دینی ہو گی۔ اگلے چند گھنٹے میں احتجاج کی کال دی جائے - جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا۔ احتجاج جاری رہے۔
اگر اس سانحے کو بھی جنرلز کھا گئے اور ہم پی ٹی آئی والوں نے پھر impotent قسم کا رسپانس دیا۔ تو اگلا وار عمران خان کی زندگی پر ہو گا۔
یہ اب decisive moment ہے۔ پی ٹی آئی میں جو جو کھڑا ہو سکتا ہے عہدے رکھے۔ اور اگر تگڑا سٹینڈ نہیں لیا جا سکتا تو مستعفی ہو جائیں۔
عمران خان کی فیملی کی اجازت کے بغیر جس ڈاکٹر نے پروسیجر کیا اور جس ڈاکٹر نے اینستھیزیا دیا ، ان دونوں نے بہت بڑا کرائم کیا ہے ، کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو یہ دونوں اب تک گرفتار ہو چکے ہوتے ،
خان کی فیملی کو ان ڈاکٹرز پر ایف آئی آر کرانی چاہیے ،
ایف آئی آر درج تو نہیں ہوگی لیکن یہ معاملہ ریکارڈ پر رہے گا اور جب بھی ملک میں قانون کی حکمرانی آئی تو یہ دونوں ضرور گرفتار ہوں گے کیونکہ انہوں نے اپنے پیشے سے غداری کی ہے ،
ڈاکٹر کسی عام مریض کو بھی اس کی فیملی کی اجازت کے بغیر نشہ دے کر بیہوش نہیں کر سکتے ،اور وہ تو عمران خان ہیں
کوئی بھی ڈاکٹر یہ سنگین جرم کیسے کر سکتا ہے؟؟؟
رپورٹس کے مطابق عمران خان (central retinal vein occlusion) سے متاثر ہیں۔ اگرچہ ہم اس کی خود آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن ہم شدید تشویش کا شکار ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کی ایک ٹیم کو فوری طور پر ان کے علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔
#SKMCH
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجھے عدالت میں پیش کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کو طلب کیا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ احمد فرہاد اب آزادکشمیر پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر وہاں مقدمہ درج ہے۔
کیوں کہ آزادکشمیر ایک غیرملکی علاقہ ہے اور وہاں ہمارے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم اور قابل غور ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ احمد فرہاد کو کوہالہ پار جا کر مقدمے میں پھنسایا ہی اس لیے گیا ہے تا کہ آئینی و قانونی دائرہ کار بدلا جا سکا۔
سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی عدالت کے حکم اور قانون کا اطلاق میری پیشی پر نہیں ہو سکتا تھا تو پاکستانی قانون کے مطابق آزادکشمیر کے شہری سردار امان کشمیری پر اسلام آباد میں مقدمہ کیسے درج ہو سکتا ہے جبکہ جس جرم میں انہیں ملزم
قرار دیا گیا ہے وہ وقوع پزیر بھی آزادکشمیر کی حدود میں ہوا۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ سردار امان کے نعرے پاکستان اور بھارت دونوں سے برات یعنی علیحدگی سے متعلق تھے اور اس نقطہ نظر سے اختلاف یا اتفاق کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسی رائے رکھنے کا حق انہیں اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیر کی قانونی و آئینی حیثیت اور خود پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے لہذا یہ طے کرنا بھی ضروری ہے کہ کیا آیا ان کے چند سال پہلے لگائے گئے نعرے کسی جرم کی ذیل میں آتے بھی ہیں یا نہیں ۔
اتفاق اور اتحاد کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے پچھلے 75 سالوں سے عوام کو مختلف طریقوں سے الجھایا جاتا رہا لیکن جب قوم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی تو سب نے دیکھ لیا کہ طاقتور لوگوں کے سامنے عام سے تین آدمی ان کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر رہے ہیں یہ حوصلہ انہیں اپنی ذات سے نہیں ملا بلکہ اس لیے ہے کہ ان کے پیچھے عوام کی ایک کثیر تعداد کھڑی ہے اور اسی اتفاق اور اتحاد کی وجہ سے وہ چل کر آپ کے پاس آئے ہیں ورنہ جب ہم بکھرے ہوئے تھے تو یہ ہمیں گھاس تک نہیں ڈالتے تھے۔
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
آپ سبکا مسلہ اگر واقعی عمران خان کی رہائی ہے تو مل کر سب اپنا ہر لفظ ہر بات ہر ٹویٹ بس عمران خان کی رہائی کے لیے کریں ، آپسی لڑائی سے آپ صرف اپنا نقصان کر رہے ہیں کسی کی غداری خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی انشا اللہ ، بے فکر رہیں جہاں ساری سیاسی جماعتیں جج جرنیل مل کر اُسکا کچھ نہیں بگاڑ سکے تو اب بھی اللہ اُسکے ساتھ ہے انشا اللہ آپ بس اپنی زمہ داری پوری کریں اللہ آپکو حکم دیتا ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا ڈٹے رہیں
“Those who stole the people’s mandate are gripped by fear. It is because of this fear that oppression against us is intensifying. My wife and I are being held in solitary confinement. We are being subjected to mental torture in an attempt to break my resolve and make me abandon my ideology. The goal of these attempts to break me is nothing but to suppress the voice of the people.
Yahya Khan had adopted this very approach at the time of the Fall of Dhaka.Blinded by his lust to prolong his rule, he unleashed every form of fascism to suppress the people’s voice, and ultimately broke the country apart. All of this is documented in the Hamood-ur-Rehman Commission Report. Today, Asim Munir is also resorting to oppression to extend his rule, making the country weaker.
However, the difference between 1971 and the situation today is the awareness among the masses. Social media has unveiled all the truths before the nation, and the people have learned to rise for their rights against tyranny. That is why this oppressive system will soon crumble. It is time for the people’s voice to be heard.
The country is facing widespread devastation due to floods. Pakistan’s economy was already in shambles, and now,as a result of the extensive flooding, people’s crops and livestock have been destroyed. This has wiped out the agricultural economy and its effects will be felt across the entire nation. In such circumstances, it is essential that relief efforts in flood-affected areas be carried out without discrimination, with everyone playing their part. If I were not in prison, I would certainly have organized a telethon and fundraising campaign for this cause. Government institutions alone cannot tackle a disaster of this scale; every citizen must contribute so that we may confront it collectively as a nation. To prevent future destruction from floods, large-scale plantation of trees must be undertaken urgently.
I strongly condemn the attack on the death anniversary of Akhtar Mengal’s father in Balochistan and extend my condolences to him. The situation in Balochistan is deteriorating with each passing day because the people’s elected representatives are not allowed to govern. Pakistan Tehreek-e-Insaf must fully participate in Mehmood Achakzai’s call for strike on September 8th. The people of Balochistan deserve to be freed from terrorism and the hybrid system imposed upon them.
In Khyber Pakhtunkhwa, an operation has been launched to weaken the government of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The provincial government must immediately put an end to it. I give special instructions to Ali Amin Gandapur that since the people of the province are already suffering due to the floods, this operation must be firmly resisted and stopped. It is the responsibility of the Khyber Pakhtunkhwa government to halt the drone strikes occurring in the tribal districts. Safeguarding the lives and property of the people is the duty of our government.
The earthquake in Afghanistan has left my heart deeply grieved, and I am pained that at a time of such hardship, we are forcibly expelling our Muslim brothers from the country. In this difficult hour, we should be standing with them. The Khyber Pakhtunkhwa government must also extend help to our Afghan brothers.”
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with family members and lawyers in Adiala Jail (September 5, 2025)
لڑائی کا مقدمہ
لڑائی پھیل چکی ہے۔ لڑائی کو پھیلنا ہی تھا۔ یہ تطہیر کا قدرتی عمل ہے۔ ابھی کچھ مہینے پہلے کچھ لوگ شیر افضل مروت کے لیے مرنے مارنے پر اترے ہوئے تھے۔ لیکن اب شاید ہی کوئی شخص بچا ہو جسے شیر افضل مروت سے کوئی ہمدردی باقی رہی ہو۔کم از کم ٹائم لائن پر تو نہیں۔ اسی طرح علی امین گنڈاپور کی وارنٹی اب ختم ہوگئی ہے۔ یہ جلد پٹاکا مارے گا اور ساتھ اسکی وائرنگ بھی جل جائے گی۔ لہذا میری نظر میں اگر کوئی لالچ یا مفاد وابستہ نہیں تو اس کے ہمدرد اپنی ساکھ مفت میں خراب کررہے ہیں۔
کچھ لوگ صنم جاوید کے بارے میں جو الفاظ استعمال کررہے ہیں یہ نہیں کرنے چاہییں۔ تنقید اور سوال جتنے مرضی کریں۔ لیکن ایسے الزامات مت لگائیں جو غلاظت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہاں پہلے ہی خواتین کے سامنے ہر شعبے میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ ان رویوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ ان خواتین کے لیے آسانیاں نہیں پیدا کرسکتے تو ان کی زندگیوں میں زہر مت گھولیں۔ جمہور بھائی نے مناسب بحث کی ہے۔ شمس خٹک اچھی بحث کرلیتا تھا لیکن مروت اور اب گنڈاپور، اس کا بوجھ ہی بہت زیادہ ہوگیا ہے۔
پسند نا پسند ہر کسی کی اپنی اپنی۔ ادارہ ولاگرز میں سے معید پیرزادہ کا معتقد ہے ، سلمان اکرم راجہ کا ایک مدت سے شیدائی۔ مراد سعید ، خالد خورشید ، سالار کاکڑ ، خرم ذیشان ، مہر عبدالستار جیسے لوگ تو ہمارے ملک کی سیاست کا مستقبل ہیں۔ علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کا موازنہ نہیں ہونا چاہیے یہ اختلافات کو ہوا دینے والی بات ہے لیکن اگر موازنہ ناگزیر ہو تو علیمہ خانم۔ سب سے زیادہ اختلافی جوابات تو دیے ہی ڈاکٹر معید کو ہیں۔ سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خانم پر بھی بھڑاس نکال رکھی ہے۔ کسی کو پسند نا پسند کرنا اپنی جگہ لیکن کمر کس کے ایک غیر مقبول آدمی کے دفاع میں کھڑے ہوجانا کسی بھی شخص کی ذات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ فوج بھی تو ایک غیر مقبول جتھے کے پیچھے کھڑی ہوئی اور آج اس نوبت تک پہنچ چکی ہے۔
بابا کوڈا نے بھی اسی موضوع پر خوبصورت تحریر لکھی ہے۔ مزید روشنی کے لیے اس سے استفادہ کریں۔ فوج سے مفاہمت کرنے والے گنڈاپور کو اسکی اپنی جماعت کے لوگ بخش نہیں رہے تو کسی دوسرے سیاستدان یا خود فوج کو کیا چھوڑیں گے۔ فوج کو اندازہ ہی نہیں کہ نفرت کس حد تک پہنچ چکی ہے، اور یہی نفرت ایک دن ایسا بھڑکے گی کہ طاغوت کو جلا کر راکھ کردے گی۔
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-
میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-
فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔
میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔
جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو
(26 اگست، 2025)
2/2
My cousins Shahrez & Shershah have been abducted, while Hassan Niazi has been convicted in a military court. This is blatant state repression, punishing family members because the Supreme Court tried granting Imran Khan bail.
Such tactics will not break us - they only expose the injustice further. Targeting innocent family members is cruel, unlawful, and must end.
علمیہ خان کے بیٹوں کی گرفتاری کے خلاف اب تک
سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی ، پارلیمانی کمیٹی سمیت تمام عہدیدار جن کے پاس پارٹی فیصلوں کا اختیار ہیں ابتک کوئی اجلاس کیوں طلب نہیں کیا؟ احتجاج کی کال کیوں نہیں دی جب بہنیں شکوہ کرتی ہیں تو پھر بُرا لگتا ہیں اب تک پارٹی میں ایمرجنسی حالات ہونے چاہئے تھے اپ کی کمزوروں کے سوال جواب ہم سے ہوتے ہیں آخر کب تک ہم خاموش تماشائی بنے رینگے
Message from Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf, Imran Khan, during a meeting with his legal team - 19 August 2025
“My message to the entire nation, to my workers and to the party leadership is that your captain is still standing tall with his head held high. Have no fear.
I pay tribute to the party leaders and workers who, after the 5th of August demonstrations, once again took to the streets across the country on the 14th of August.
Whether it is arrests carried out during the recent protest movement, or the unjust sentences handed down by kangaroo courts in cases related to the false-flag events of May 9th (2023), this is fascism. Despite this, you must not lose courage in any circumstances. You must stand steadfast in the face of this storm of oppression and brutality. Even while confined to a solitary confinement cell in this prison, I am fighting for the true freedom of my nation, and I will continue to stand firm until I free my people from the chains of slavery.
I have yet again been placed under complete isolation. Meetings with my family and lawyers have been suspended. In order to keep me entirely cut off from the outside world and unaware of current affairs, every source of information, whether television or newspapers, has been completely blocked. The same inhumane treatment is being meted out to Bushra Bibi; even our meetings are prohibited. Out of the dozens of books sent by my family, only four have been provided to me in the last two months; the rest have been confiscated. Even access to my personal doctor has long been denied, such that my basic right to healthcare has also been taken away.
We must not, under any circumstances, bow our heads down before tyranny and oppression. Remember: No matter how long and dark the night may be, dawn is certain to break. The end of this night of oppression is near. God willing, the sun of justice and freedom will soon rise.
The loss of precious human lives throughout the country due to the torrential rains and flooding is extremely tragic. The entire nation must actively participate in the rescue and relief efforts during this difficult time.”