جناب محمود خان صاحب آپ نے تو کمال کر دیا فارم 47 کے ذریعہ الیکشن میں شکست کو کامیابی میں تبدیل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا لیکن ذرا یہ بھی تو بتا دیں کہ پیشکش کس نے کی تھی؟
پاکستان کا المیہ ہے کہ
منی لانڈرر وزیراعظم،
جعلی اکاؤنٹس والا صدر،
زیرحراست ہلاکتوں والے آئی جی،
جعلی خبروں والے تمغہ امتیاز،
چادر چار دیواری کی پامالی والا وزیر داخلہ،
70 ہزار ووٹوں سے ہارنے والا وزیر دفاع
اور
ناچنے گانے والے دین اسلام سکھاتے ہیں
ہمارے حکمران مانگتے ہیں تو یہ بیچارہ مانگ رہا ہے تو کیا مسئلہ ہو گیا؟
عنقریب ہم پاکستانی حج یا عمرہ پر حلف نامہ دے کر جائیں گے کہ وہاں بھیک نہیں مانگیں گے۔
وہ بھی کیا دن تھے جب اوریا مقبول جان عمران خان پر سرعام لعنت بھیجتا تھا۔ اوریا مقبول جان یُوتھیا بننے سے پہلے عمران خان پر کئی بار لعنت بھیج چکے اور خان کو منافق بھی قرار دے چکے۔ پھر اوریا صاحب اچانک یُوتھیا گئے اور اسی منافق کے ہاتھ پر بیعت کر لی
یہ کوئی یورپ امریکہ نہیں ہے بلکہ ناظرین یہ اپنا جرنیلوں کا پاکستان ہے
یہ عام شہریوں کے لئیے نہیں بلکہ صرف جرنیلوں اور ان کے بچوں کے لئیے 1900 ایکڑ کا گالف کلب ہے، جس کا کرایہ 12ہزار روپے سال کا ہے.
ان کی گالف کی سٹک ایک مزدور کے ایک ماہ کی تنخواہ اور گیند 1 ہفتے کی روٹیوں کے برابر ہے، جبکہ روزانہ ایک گیم میں 100 گیندیں گم کرتے ہیں.
اس گالف کلب جیسے 200 گالف کلب پاکستان میں موجود ہیں، جہاں سویلین شہری انکے اندر جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بلکہ بلڈی سویلین نے تو پہلی مرتبہ آج صرف اسکی تصویر دیکھی حقیقت میں تو بلڈی سویلین اسکے 100کلومیٹر کے قریب میں بھی نہیں گزر سکتا، کیونکہ یہ ہے جرنیلوں کا پاکستان!
یہ پوسٹ ایک دوست کی وال سے لی گئی ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ۔
ظفر عباس JDC والے کی حقیقت ملاحظہ ہو، جونہی جامعہ مسجد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نام آیا تو اس نے فوراً پیچھے کر دیا، عمر فاروق نام سامنے آتے ہی رنگ بدل گیا اور زبان سے نام لینا بھی اس کو گوارہ نہیں۔ یہ رانگ نمبر ہے
اس تاریخی تصویر میں موجود سعودی حکمران شاہ فیصل اور لیبیا کے صدر قذافی قتل کئے گئے، ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت نے قتل کیا اور فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کو زہر دیا گیا، کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس منعقدہ لاہور میں شامل اکثر لیڈر قتل کر دئیے گئے؟
تخت بھائی کےایک معززگھرانےسے تعلق رکھنے والا عالم دین حضرت مولانا مرادعلی صاحب جوکہ دارالعلوم فاروقیہ تخت بھاٸی میں استادحدیث ھے اور ساتھ کولڈرنکس کا کام بھی کرتے ھے رمضان کے مہینے میں ھر دوسرے دن ان کے گودام پر پیپسی اور کوکاکولا کی گاڑی خالی ھو جاتی تھی لیکن اس بار اس نے فلسطينيوں کے خاطر اپنے کاروبار کو ختم کیا اسرائيلی مصنوعات سے بائيکاٹ کیا اپنے لاکهوں کی کمائی فلسطينيوں پر قربان کیا اس کو کہتے ھے ایک سچا مسلمان اور تقوی دار بندہ اللہ رب العزت اس کے زرق میں برکت ڈال دے آمین ابھی اس کے گودام میں صرف گورمےکولا ھے میرے پوسٹ لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ آج کل ھر بندہ فیسبک پر اپنے اپکو ایک سچا مسلمان ظاہر کرتے ھے کہ اسرائيلی مصنوعات سے بائيکاٹ کرو پر بھی وہی لوگ مصنوعات کی خریداری کرتے ھے ابھی ہمارا حق بنتا ھے کم ازکم مولانا صاحب سے کچھ خریداری کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان کی جرات کو ہم سلام پیش کرے اللہ رب العزت ھم سب کو مولاناصاحب کی طرح ایک مخلص مسلمان بنادے آمین اوربندہ کیلٸےبڑی فخر کی بات ہے کہ حضرت میرااستاد محترم ہے الحَمْدُ ِلله
* وہ بھی کیا عجیب دن تھے،،
جب شیر افضل مروت کو مولانا فضل الرحمان کی تصویر کیلے مقرر کیا جاتا تھا
لیکن افسوس آج وہی بندہ اٹھ کر مولانا صاحب کو گالیاں دیتا ھے
تو افسوس کی بات نھیں ھے
سنو سنو پاکستانیوں ۔۔!! میں وہ بندہ ہوں کہ جس کی اپنی سواری کیلئے گاڑی نہیں ۔ خدا کی قسم میرے گھر میں ایک اینٹ پکی نہیں ۔ اس وقت بھی کچے گھر میں رہائش پذیر ہوں
#مفتی_عبدالشکورشہیدرح