جناب چیف سیکرٹری ۔۔ میں ارشاد بھٹی نہیں ہوں !
جی ہاں! ارشاد بھٹی نے آپ سے معافی مانگ لی تو آپ نے ہمیں بھی ارشاد بھٹی ہی سمجھ لیا۔ اپنے ایجنٹ کے ذریعے ہمیں ہی NCCIA کا نوٹس بھجوا دیا، ناٹ فئیر سر !!! کالم اٹیچ ہے اور معذرت کے ساتھ آپ تو ایک اردو کالم کی روح تک نہ سمجھ سکے، آپ پیچیدہ سرکاری معاملات کی تہہ تک کیسے پہنچتے ہوں گے؟
معاملہ توفیق بٹ صاحب کے کالم کا ہے جس میں کچھ بیوروکریٹوں کو بیوروکرپٹ لکھا گیا اور اس پر ایک سرکاری ملازم صاحب این سی سی آئی اے پہنچ گئے کہ ہماری شہرت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس میں کئی نکات ہیں سنتے جائیں اور سر دُھنتے جائیں۔ پہلا یہ کہ سائبر کرائم ایجنسی کا دائرہ کار اخبارات تک نہیں ہے اس کے لئے پریس کونسل موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ شکایت کنندہ متاثرہ فریق کیسے ہے، کیا اس کا نام یا کوئی الزام کالم میں موجود ہے؟تیسرا یہ کہ آپ بیوروکریسی کو انبیا کا درجہ کیسے دے سکتے ہیں کہ وہ معصوم عن الخطا ہے اور اس کی کرپشن کا ذکر ہو ہی نہیں سکتا؟ چوتھا یہ کہ اگر آپ سب معصوم ہیں تو آڈیٹر جنرل کا دفتر یہ اربوں کھربوں کی کرپشن کن کی پکڑتا ہے؟ پانچواں یہ کہ کیا آپ کے اس ایجنٹ نے روزنامہ نئی بات سے رابطہ کیا اور کیا ہم نے آپ کا موقف یا جواب شائع کرنے سے انکار کیا؟ چھٹا یہ کہ آپ اخبارات کے مدیران کو نوٹس جاری کروا کے حکومت اور صحافیوں کی لڑائی کیوں کروانا چاہتے ہیں، کیا کل جنگ، نوائے وقت، دنیا، ایکسپریس کے ایڈیٹر بھی ایک سب انسپکٹر کی عدالت میں حاضر ہوں گے کہ تم نے تنقید کیوں کی؟ ساتواں یہ کہ اگر صحافی تنقید نہیں کرے گا، رائے نہیں دے گا تو وہ اس کے سوا کیا کرے گا؟ آٹھواں یہ کہ آپ نے آئین کا آرٹیکل 19 پڑھا ہے؟ نوواں، کیا آپ نے ماضی میں میڈیا اور حکومت کی لڑائیاں دیکھی ہیں، ان میں نقصان میں کون رہا ہے؟ دسواں یہ کہ آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا میڈیا اپنی تنقید کرنے کی آزادی محض ایک نوٹس پر سرنڈر کر دے گا۔ ہو سکتا ہے آپ ایک ہزار برس چیف سیکرٹری رہیں مگر صحافت ایک ہزار برس بعد بھی زندہ رہے گی۔
ہم نے یہ معاملہ اے پی این ایس، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات اور وفاقی وزیر اطلاعات کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اپنے موقف کی نقول وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، وزیراعلی پنجاب، ڈی جی آئی ایس پی آر، پریس کلبوں اور پی یو جیز کو بھی بھیج رہے ہیں۔ سر! آپ کا نمائندہ اپنی ادارہ جاتی سیاست، شہرت کی بھوک اور کچھ مذموم مقاصد کے لئے میڈیا ہاوسز اور حکومت کو آمنے سامنے لا رہا ہے۔ اس سازش کی سرکوبی ضروری ہے۔ ہم اس معاملے سے آئین، قانون، صحافتی روایات کے مطابق نمٹیں گے۔
ہم آپ سمیت ہر پاکستانی کا احترام کرتے ہیں مگر ہم بزدل نہیں ہیں اور نہ ہی خوفزدہ۔۔ ہم ہر پلیٹ فارم پر جوابدہی کے لئے تیار ہیں مگر وہ آئینی اور قانونی ہونا ضروری ہے۔ میں آپ کو پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم ایماندار افسران کا دلُ کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں مگر صحافی اور صحافت بطور ادارہ کرپٹ کو کرپٹ کہنے کے آئینی، قانونی، سماجی، اخلاقی حق اور صحافتی اختیار سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہی ہمیں ہمارے اساتذہ نے سکھایا ہے اور یہی ہمارے پروفیشن کا بنیادی تقاضہ ہے، ہم اس سے ہٹ گئے تو ہم خود کو صحافی بھی نہیں کہہ سکیں گے۔ ہم اپنے وجود کی قیمت پر آپ کی خواہشات کی تکمیل نہیں کر سکتے۔ معذرت خواہ ہیں !!!
سندھ ہائی کورٹ سے انصاف کی امید رکھنا عبث ہے-
میں ڈپٹی وزیراعظم جناب اسحٰق ڈار صاحب @MIshaqDar50, وفاقی وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب @MohsinnaqviC42, وفاقی وزیر قانون جناب اعظم نذیر تارڑ صاحب @AzamNazeerTarar اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جناب ڈاکٹر عثمان انور صاحب @FIA_Agency سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ جیسی زہین ہستیوں کے ہوتے ہوۓ یہ معاملہ عدالت تک پہنچنا ہی نہیں چاہیئے تھا لیکن اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی, اسے فوری طور پر ماورا عدالت ہی حل کروائیں, انتظار کس بات کا ہے؟
کراچی کاٹن ایکسچینج اور پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری،توجہ فرمائیے🚨🚨
پاکستان کے قدیم ترین ادارے کراچی کاٹن ایکسچینج کو سیل ہوئے آج کئی ماہ گزر چکے،اسکا نقصان کتنا ہے،تحریر پڑھیں اور اندازہ لگائیں۔
👇👇
پاکستان کی زراعت میں کپاس کی فصل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،اور کراچی کاٹن ایکسچینج میں کپاس کی امپورٹ،ایکسپورٹ،کپاس کے ریٹس کا تعین ہوتا ہے۔
اب جب ایکسچینج ہی بند پڑی ہے تو کپاس کی تجارت کیسے ہو گی؟
جب کپاس کی تجارت نہیں ہو گی،اسکے ریٹس کا تعین نہیں ہو گا تو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کپاس کیسے ملے گی؟
اور جب کپاس نہیں ملے گی تو پاکستان کا سب سے بڑا کاروبار جو کہ ٹیکسٹائل ہے،وہ بند ہو جائے گا،اور جو کافی حد تک ختم ہو بھی چکا ہے۔
کاروباری حضرات اپنا پیسہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لگانے کی بجائے بینکوں میں رکھوا رہے ہیں،کیونکہ انہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری سے زیادہ بینکوں میں منافع نظر آ رہا ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہونے سے جہاں ہماری بڑی تعداد میں ایکسپورٹ ختم ہو گئی،اور اربوں کا زرمبادلہ ڈوب گیا،وہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کرنے والے ہزاروں ورکرز کے چولہے بھی بند ہو گئے۔
اور دوسری طرف کپاس پیدا کرنے والا کسان بھی سوچ رہا ہے کہ اسکی فصل کا ریٹ کون متعین کرے گا؟
اور جب کسان کے اخراجات زیادہ ہوں گے،جبکہ اسے ریٹ نہیں ملے گا تو کسان بھی دو وقت کی روٹی سے محروم ہو جائے گا۔
اور یہ سب کراچی کاٹن ایکسچینج کے بند ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے،کراچی کاٹن ایکسچینج کی لیز سال 2081 تک ہے،جس کو کراچی مئیر بھی تسلیم کر چکے ہیں۔
اب یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اب ہماری اس اربوں ڈالرز انڈسٹری کو بچانے کے لئے کراچی کاٹن ایکسچینج کو بحال کیا جاتا ہے،یا پھر اس پر بھی ہم پاکستانی ماتم کی تیاری کر لیں۔
@TauqirNasser پاکستان ایک زرعی ملک ہے
اسکی پہچان زراعت ہے
لیکن
اب اسے ہم، ہے ،نہیں
تھی کہیں گے
کسان رو رہا ہے
کیوں ؟؟؟
کسانوں کے پاس جا کر ایک انٹرویو کیجئے گا 🙏🏻
کسان کا کوئی پرسان حال نہیں 😭
یہ جواب آئیگا
پاکستان کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک تھا،اور آج یہ حالات ہیں کہ پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی کپاس امپورٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
کراچی کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں ایف آئی اے نے اپنے دفاتر قائم کر لئے،جس پر سندھ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو دفاتر قائم کرنے سے روک کر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو فوری طور پر اس کاٹن انڈسٹری کی طرف متوجہ ہوں۔
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
سندھ ہائی کورٹ نے کاٹن ایکسچینج بلڈنگ کی ملکیت سے متعلق مختلف دعووں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ، کے ایم سی، کاٹن ایکسچینج ایسوسی ایشن، ایف آئی اے اور انفرادی درخواست گزاروں نے اپنے مؤقف پیش کیے،
@CourtSindh
کراچی کاٹن ایکسچینج کا معاملہ ہم نے 19 مارچ کو اٹھایا تھا،اور اب تک اس پر کیمپین کر ہیں،اب یہ معاملہ نیشنل میڈیا تک پہنچ چکا ہے،ابصار عالم صاحب نے بھی کراچی کاٹن ایکسچینج پر بات کر دی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو کراچی کاٹن ایکسچینج میں اپنے دفاتر قائم کرنے سے منع کر دیا تھا،بہرحال اب دیکھتے ہیں کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیال کیا جاتا ہے یا نہیں۔
زمینی حقائق میں ناکامی اور سفارتی محاذ پر مسلسل پسپائی کے بعد اب مودی کی زیرِ سرپرستی چلنے والا پروپیگنڈا نیٹ ورک اور اس کے پراکسی عناصر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے لیے پرانے اور مسخ شدہ واقعات کا سہارا لے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تصدیق شدہ رپورٹس واضح طور پر بتاتی ہیں کہ آبنائے ہرمز کے قریب جس جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، وہ کسی پاکستانی آئل ٹینکر کا نہیں بلکہ تھائی پرچم بردار کارگو جہاز “مایوری ناری” (Mayuree Naree) تھا، جسے اسی مہینے کے آغاز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس کے برعکس پاکستان کا نام گھسیٹ کر جھوٹی کہانیاں گھڑنا دراصل ایک منظم کوشش ہے تاکہ عالمی سطح پر کنفیوژن پیدا کی جائے اور حقائق کو مسخ کیا جائے۔ لیکن زمینی سچائی اور مستند رپورٹس اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کر رہی ہیں، اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ جھوٹے بیانیے کے ذریعے حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا🇵🇰
یہ دیکھیئے اور سمجھئیے
پاکستان کتنی بڑی نعمت ہے
🇵🇰🇵🇰👌🏻🇵🇰🇵🇰👌🏻🇵🇰🇵🇰
دہلی کے ایک سرکاری دفتر میں ایک ہندو ساتھی ایک تھکی ہوئی مسلمان خاتون ملازم کو جوتا مار کر اسے سلام کر رہا ہے
😡😡🖐🏻😡😡🖐🏻😡😡
جنرل آصف غفور کی ہمارے ٹویٹس پر خصوصی نظر ہوتی تھی آئے دن ٹویٹس ڈیلیٹ کرنے کے محبت نامےموصول ہوتے المختصر وہ ہمیں ایک نظر نہیں بھاتا تھا لیکن جب بالا کوٹ سٹرائیک کے بعد بھارت کو جواب دیا گیا تو آصف غفور پر بھی پیار آتا تھا، نہ جانے پی ٹی آئی کے دل و دماغ میں کتنی نفرت بھری ہوئی ہے یہ دشمنی میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں باور رہے نفرت سب سے زیادہ نفرت کرنے والے کو نقصان پہنچاتی ہے وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے وہ ہر ایک کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور ناآسودگی اسکا مقدر بن جاتی ہے
@Saba5670 I completely agree. This historic Cotton Exchange has been operating since Pakistan's independence disrupting it over ownership disputes is only hurting our economy, brokers, and the textile sector.
دلال کون ؟؟ ایک جہاز ایران کا روک کر ایران کو بلیک میل کیا کہ دو جہاز گُزار دیں۔۔۔
دلال کون؟؟ یوکرین کی جنگ رکوانے کے لئے بے تاب ہندوستان پاکستان کو کیوں یہ الفاظ استعمال کر رہا ہے۔
کانگرس کے راہنماء سے بہتر اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا 😊
آج میں (آر پی او) ریجینل پولیس آفس فیصل آباد گیا،اور RPO فیصل آباد سہیل احمد سکھیرا صاحب کا کام دیکھ میں حیرت میں مبتلا ہو گیا۔
سہیل احمد سکھیرا کو بطور ریجینل پولیس آفیسر چارج سنبھالے تقریباً 110 دن ہوئے ہیں اور میرے لئے حیرانگی کی بات یہ تھی کہ انہوں نے ان 110 دنوں میں 2400 شکایات کا ازالہ کیا ہے۔
حیرانگی بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ فیصل آباد میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا انتخاب بہت ہی شاندار رہا۔
سہیل احمد سکھیرا صاحب سے ملاقات اور انکا کام دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے سہیل احمد سکھیرا کی بطور ریجینل پولیس آفیسر فیصل آباد تعیناتی میرٹ اور ویژن کی زبردست مثال ہے۔
امید کرتا ہوں RPO فیصل آباد سہیل احمد سکھیرا اسی طرح عوام کی خدمت میں ہمیشہ سرگرم رہیں گے۔
@MaryamNSharif@rpo_faisalabad
Aman ki pehchan...Asim Muneer 🇵🇰
🤍💚
Field Marshal Hafiz Syed Asim Muneer is a great guys, great leader and great fighter and now new Role Peace between Iran...Israel..America
🇮🇷🇮🇱🇺🇸
#PeaceThroughPakistan#Iran#Irán#Israël#IranWar#America