تیراہ میں جرنیلوں کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ یہ جنگیں عوام کے لیے نہیں، ڈالرز اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے لیے لڑی جاتی رہی ہیں۔ عوام کو بار بار بے گھر کیا گیا، گھر اجاڑے گئے، جنگلات اور وسائل لوٹے گئے، اور ہم اٹھارہ سال سے اس ظلم کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم فریاد کس سے کریں؟ صوبے کا وزیرِاعلیٰ بھی اسی خطے سے ہے، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی اسی علاقے سے ہے، مگر تیراہ کے بے گھر لوگوں کے لیے کسی کے پاس آواز نہیں۔جب اپنے ہی علاقے کے حکمران اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ خاموش رہیں، تو مظلوم آخر کس دروازے پر دستک دے؟ ہمیں انصاف چاہیے، خاموشی نہیں
#StopStateTerrorism
#StopLootingOurResources
خیبرپختونخوا کے پانی اور زمین پر پنجاب کا قبضہ🛑🛑
ڈونگا گلی واٹر ریزروائر کے نام پر خیبرپختونخوا کی کم و بیش تین سو کنال انتہائی قیمتی زمین پر اس وقت مری واٹر بورڈ کے ذریعے پنجاب کی اجارہ داری ہے محتاط اندازوں کے مطابق اس زمین کی مالیت تیس ارب روپے سے زائد بنتی ہے بعض اندازے ایک سو ارب روپے کے بھی ہیں حیرت اور افسوس کی بات یہ ہےکہ اس احاطے میں جو کہ خیبرپختونخوا کا آئینی و قانونی حصہ ہے خود صوبائی حکومت کے اہلکاروں تک کے داخلے پر پابندی ہے ماضی میں داخلے کی کوشش پر خیبرپختونخوا کے سرکاری اہلکاروں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے
ڈونگا گلی سے مری کو روزانہ پانچ لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ گلیات کی دو لاکھ گیلن ضرورت مکمل طور پر نظر انداز
کی جا رہی ہے ان علاقوں کو ایک بوند پانی بھی فراہم نہیں کیا جا رہا جس کے نتیجے میں ایبٹ آباد سے پمپنگ کے ذریعے اور یا پھر ٹینکروں کے ذریعے کروڑوں روپے خرچ کرکے گلیات کو پانی فراہم کیا جاتا ہے گنڈاپور دور حکومت میں پانی بقایا جات کے لیے 65 ارب روپے کا کیس دوبارہ تیار کیا گیا یہ معاملہ وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ کے پاس پڑا ہوا ہے مگر ،65ارب کا معاوضہ دینے سے پنجاب حکومت کا انکار ابھی تک جاری ہے،۔۔..ماضی کی تمام صوبائ حکومتیں (مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی،اے این پی ایم ایم اے) اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھے رہیں پہلی بار محمود خان کے دور میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے معاملہ اٹھایا پھر گنڈاپور نے آخری دنوں میں سخت اعلان بھی کیا ۔۔۔۔مگر بدقسمتی سے سہیل آفریدی کی قیادت میں قائم خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت مکمل طور پر خاموش ہے ؟؟؟
#nsfwtwtًً #Pakistan #Murree
#Nathiagali #ChiefSecretaryPunjab
@CSKPOfficial@SohailAfridiISF@PTIKPOfficial@Pakistan@PTIofficial@MoulanaOfficial@juipakofficial@ANPMarkaz@saidalammahsud@ImranKhanPTI@MeenakhanAfridi@AimalWali@AftabSherpao@a_siab
وزیرستان کا کرومائیٹ کرفیو کے دوران کیسے لوٹ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ پشتون وطن کو دھشتگردی کے نام پر ، سیکیورٹی کے نام پر جرنیل کیسے مل بانٹ کر کھا رہے ہیں۔ ایک جرنیل نے تیراہ کی بھنگ اور لکڑیاں پکڑی ہیں، دوسرے نے وزیرستان کا چلغوزہ اور تیسرے نے وزیرستان کے معدنیات پکڑے ہوئے ہیں۔ خود بیچ رہے ہیں، دنیا بھر کے ارب پتیوں سے انکی کمپنیوں سے ڈیل کر رکھے ہیں۔ اور ھمارے مفتی و امیر سانپ شریعیت کے لولی پاپ پر کھیل رہے ہیں۔!
دنیا والو دیکھ لو، تیراہ کے لوگوں کی یہ صرف جنگلات کی کٹائی نہیں، ایک بے گھر قوم کے وسائل کی لوٹ مار ہے۔ ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر اپنے گھروں اور زمینوں سے نکالا گیا، اور اب ہماری غیر موجودگی میں ہماری زمین کے درخت تک گاڑیوں میں بھر بھر کر لے جائے جا رہے ہیں۔
ہم سے گھر چھینے، زمین چھینی، روزگار چھینا—اب ہماری زمین کے جنگلات بھی نہیں چھوڑے جا رہے۔ اگر یہ جنگ ہمارے تحفظ کے لیے تھی تو پھر ہماری بربادی اور ہمارے وسائل کی یہ لوٹ مار کس کے لیے ہے؟
تیراہ کے سرسبز جنگلات کی کھلی لوٹ مار زور و شور سے جاری ہے۔
دن کی روشنی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے، جبکہ رات کی تاریکی میں لکڑی چوری چھپے علاقے سے باہر نکالی جاتی ہے۔
آخر یہ جنگلات کس کے حکم پر اور کس کے فائدے کے لیے تباہ کیے جا رہے ہیں؟
تیراہ کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے نام پر اپنے ہی گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا یہ بے دخلی صرف امن کے لیے تھی، یا تیراہ کے وسائل، جنگلات اور معدنیات پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے؟
تیراہ کی زمین کوئی مفت کا مال نہیں۔ یہاں کے وسائل پر پہلا حق تیراہ کے عوام کا ہے۔
جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار فوری طور پر بند کی جائے،
ورنہ عوام یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ اس تباہی کے پیچھے کون ہے اور کس کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے؟
#Forest #StopcuttingForest #StopStateTerrorism
ایک طرف وزیرستان سے لوگوں کو نکالا اور وہاں سے تمام معدنیات نکال کے بڑے بڑے ٹرکوں میں بھرے گئے ہیں
اور دوسری طرف تیرا ہ کے پورے کے پورے جنگلات کاٹے گئے ہیں
ثبوت اپ کے سامنے ہے
ایک طرف وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ڈرون حملے ، کرفیو اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں مگر دوسری طرف اسی وزیرستان کے قدرتی معدنیات کو درجنوں گاڑیوں میں ہزاروں ٹنوں کے حساب سے لے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔۔۔۔ سوال تو بنتا ہے
100 ٹن کانکنی سے ریکوڈک بلوچستان کاسونا تانبہ نکالا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں امن نہیں آسکتا۔
یہ کہاں جا رہا ہے سب کو پتہ ہے بتانے کی ضرورت نہیں
روزانہ 100 ٹن سونے اور تانبےکا پیسہ کہاں جا رہاھے
ابھی بھی پاکستان مقروض کیوں ہے؟
سیندک بلوچستان سونا اگلتی کان کےاندرونی مناظر
ہر دن لگ بھگ 100 ٹن مائننگ ہوتی ہے جس میں خالص سونے اور تانبے کی بہت بڑی مقدار نکلتی ہے
یہ دنیا کی تیسری بڑی کان سمجھیں جاتی ہے
جو ریکوڈک کے علاؤہ ہے
یہ وہ ٹرک ہے جو شمالی وزیرستان کے وسائل سے بھرے ہوئے تھے، اب بنوں پہنچا دیے گئے ہیں اور وہاں سے انہیں پنجاب منتقل کیا جائے گا۔
یہ صرف وسائل کی منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری سرزمین کی دولت کو منظم طریقے سے نکالنا ہے۔
ہمیں اپنی ہی سرزمین پر اپنے وسائل سے محروم رکھا جاتا ہے، اور پھر اپنی ضروریات کے لیے ہمیں محتاج بنایا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟
اگر وسائل ہمارے ہیں تو اس کا فائدہ بھی ہمارے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔
ہم اب یہ حالت مزید برداشت نہیں کریں گے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے اور اس ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
یہ ویڈیو 8 اگست 2026 کی ہے
آج رات کراچی شفیق موڑ پر واقع پشتون چائے کے ہوٹل اور ریڑھیاں والوں کے ساتھ پولیس کا تشدد اور ناروا سلوک!
گزشتہ چند مہینوں میں سندھ پولیس نے کئی پشتونوں کو اغوا کرکے پیسوں کی ڈیمانڈ کے بعد رہا کیا ہے۔ اس طرح ان بدمعاش و عونڈہگرد پولیس کو بھتہ نہ دینے پر پشتونوں کے ہوٹلز، دکانیں، ریڑھیاں وغیرہ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بے انتہا تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
ایک طرف استعمار نے پشتونوں کی اپنی ہی اربوں ڈالرز سے مالامال وطن سے کراچی یا پنجاب جانے پر مجبور کر رکھا ہے جہاں وہ دن رات محنت کرکے دو وقت کی روٹی کمانے والوں پشتونوں کے ساتھ اسرائیلی پولیس سے بھی زیادہ بدتر سلوک اور تعصب کیا جاتا ہے۔
یہاں پورے پشتون بیلٹ پر ڈالری آپریشن مسلط کیے گئے ہیں۔ روزانہ نوجوان، بچے اور بچیاں چھین لیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہزاروں میل دور روٹی کمانے والے پشتونوں کا معاشی اور روایتی قتلِ عام ہو رہا ہے۔
پھر چند پشتون ہمیں مضبوط پاکستان بنانے کا درس و تدریس دیتے ہیں۔
پنجابی استعمار نے اس قوم کو ذلت و غلامی کی علامت بنا رکھا ہے جس قوم نے فرنگ، اورنگ ، برطانیہ، امریکہ اور دیگر سامراج کو عبرتناک شکست دی۔
آج یہاں پشتون عزہ سے بدتر صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ظلم اور طاقت کی یہی نشہ ایک دن ختم ہوگی تو پھر تمہارا احتساب دنیا کے دیگر شکست خوردہ سامراج سے بھی زیادہ بدترین ہوگا۔
#StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide
ایک سوال !
اگر مسلمان افغانستان دہشت گردی کا مرکز اور ہمارا دشمن ہے اور دہشت گرد پختونخوا اور بلوچستان میں داخل ہو کر روز روز ان کی لاشیں گرارہے ہیں
تو پھر
ہندو انڈیا تو ہمارا ازلی اور افغانستان سے زیادہ طاقتور دشمن ہے پھر مشرقی بارڈر پر پنجاب میں یہ صورتحال کیوں نہیں؟
سوات میں کبل پولیس سٹیشن کے گیٹ پر دھماکہ.7 افراد جان بحق ۔25 سے زائد زخمی
زخمیوں کو خون کی ضرورت ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ ایمرجنسی اور کبل ہسپتال جا کر خون کا عطیہ دیں۔ جزاک اللہ
دیگر تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے قابل نہیں
سوات کے علاقے کبل میں امن جرگے کے دوران دھماکے کے وقت اسٹیج پر موجود ایک نوجوان نے حاضرین سے کہا:ڈریں مت، خوفزدہ نہ ہوں۔ امن کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہم متحد رہیں گے اور امن کا سفر جاری رکھیں گے۔"
پاکستان میں پشتونوں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 29،30 اور 31 اگست کو جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کا کوئٹہ میں جرگہ بلا رہے ہیں۔
دوستوں سے مشورہ کرکے شاید ستمبر یا اکتوبر میں تمام پشتونوں کا جرگہ بلائیں۔
یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے نا جس کا بیانیہ تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت برقرار رہی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ پھر اسی اسٹیبلشمنٹ نے بیانیہ بنایا کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آ گئے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا اور ترقی رک جائے گی۔
پھر کہا گیا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم اس لیے ضروری ہیں کیونکہ عدلیہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ وہ بھی کر کے دیکھ لیا، مگر اب فرمایا جا رہا ہے کہ پورا نظام ہی غلط ہے اور اسے تبدیل ہونا چاہیے! شہزاد اقبال۔