فیمینزم ، ہیومن رائٹس اور global harmony کے نقاب اتار پھینکنے والی فلسطینی مائیں اور بہنیں تنہا کیوں ہیں؟
ان سے یکجہتی اور بحالی کے اقدامات ہمیں ہی اٹھانا ہیں ۔ یہی امت کا وہ تصور ہے جس سے عالمی کفر ہمیشہ خوفزدہ رہا ہے۔۔ ہم معاشی بائیکاٹ اور آگاہی مہم جاری رکھیں گے ۔
اہلِ فلسطین آج بھی اپنے لہو سے تاریخِ اسلام کو روشنائی مہیا کررہے ہیں ۔ باطل قوتیں ہزار چالوں کے باوجود شکست خوردہ ہی رہیں گی۔ یہی معرکہء حق و باطل میں ازل سے اللہ کی سنت رہی ہے ۔ امت پر قابض حکمران طبقات کی بےحسی کے باوجود ہر مسلمان کا دل غزہ کے لئے غمگین ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتحادی حکومت پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بجائے پٹرول پر 120 روپے کے ٹیکسز کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی جس کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔ لیوی کے نام پر بھتہ خوری کیوں ختم نہیں کرتی۔ ناکام حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈال رہی ہے
كذبوا عليكم..
لا أقول غزة ما زالت تنزف، لأن نزفها لم يتوقف ساعةً منذ ثلاث سنوات أصلًا؛ بل أقول إن نزف غزة وصل إلى أقصى حد فاصل بين الحياة والموت، مدينة كاملة في ذمة الله، تزهق أنفاسها قطعةً قطعةً، وقد أقنعوا المتفرجين من خلف زجاج الإنعاش أنها تتحسن، سحبوا الستار، ثم تناوبوا على خنقها، جرحها، تمزيقها؛ والجريمة هنا ليست على الكاذب وحده، وإنما على من صدقوه كذلك.
..
أعيدوا غزة إلى الواجهة، نعم لم يوقف ذلك الحرب أول مرة، وربما لن يوقفها الآن، لكنه يكشف الجريمة، ويعظم الضغط والتأثير، ويقدم المعذرة، ويحرك ذوي الدم الساخن إذ تغلي الكرامة في عروقهم، فيدمون الكيان اللعين وأعوانه من حيث ظنوا المأمنة، فتوقفوا عن تلك المعمعة التي غرقنا فيها، وعودوا إلى أضعف الإيمان، على الأقل حتى "نبقى" مؤمنين.
جو شخص حالات ،مواقع اور ذرائع کی تبدیلی کے ساتھ ان اصولوں پر عمل درآمد کی شکلیں نہ بدل سکے اس کی مثال میرے نزدیک اس عطائی طبیب کی سی ہے جو کسی حکیم کی بیاض کا ایک نسخہ لے کر بیٹھ جائے اور آنکھیں بند کر کے تمام مریضوں پر اسے جوں کا توں استعمال کرتا چلا جائے۔۔۔ مولانا مودودی رح
تحریک اسلامی کی قیادت اور اس کے کارکنوں میں اتنی وسعت نظری ضرور ہونی چاہئے کہ وہ کسی جدت اور مثبت تبدیلی کو اپنانے میں تردد یا ہچکچاہٹ کا شکار نہ رہیں ۔ دین اسلام ہر ممکن کوشش اور دستیاب ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔
کراچی میں بسوں کی کمی اور انکی بدحالی
ڈرائیورز کی لاپرواہی کے باعث کئ گھروں کے چراغ گل ہوچکے۔ جن میں اکثریت خواتین/طالبات کی ہوتی ۔
وہ ایسا نظام چاہتی ہیں ، جہاں طلبہ کی جانیں اور مستقبل محفوظ ہوں۔ اور خواتین کو عزت کے ساتھ ٹرانسپورٹ میسر ہو۔
#jiwomen#karachi