سرکاری جہازوں میں بیٹھ کر لندن سیر کو جانے والوں عوام کا کیا حال ہے یہ ویادیو ایک چھوٹی سی جھلک ہے
تمھاری عیاشیاں ہی نہیں ختم ہورہی اور قوم کے بچے یہاں کھانے کے لئیے رو رہے ہئں
یہ پاکستان کا کریڈٹ ہے اور بدترین مخالف بھی یہ کریڈٹ فخر سے اس کے حقدار کو دے رہے ہیں کیونکہ کام ہی اتنا بڑا کیا ہے
لیکن افسوس کسی پاکستانی سپورٹس جرنلسٹس میں اتنی جرت نہیں ہے کہ وہ ہمت کرے اور فخر سے یہ باتیں بتا سکے
مصطفی کمال نے وزیراعظم کو بتایا کہ سر جس دن میں نے بطور وزیر حلف اٹھایا تھا اسی دن مجھے کہا گیا تھا کہ آپ نے پمز کے ED کی طرف نہیں دیکھنا اس کے خلاف آپ کوئی کاروائی کرنے کے مجاز نہیں ہیں مصطفی کمال نے PM کو بتا دیا ہے کہ کس نے انہیں کہا تھا کہ ED کی طرف دیکھنا بھی نہیں اب وزیراعظم کا امتحان ہے کہ وہ ED کے خلاف کاروائی کرتے ہیں یا نہیں ! حامد میر ۔۔
لاہور علامہ اقبال ائیر پورٹ پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے پانی کی بوتل اور سیون اپ کی بوتل 500 میں دی جا رہی ہے کہاں ہے زمہ دار کہاں ہے انتظامیہ کہاں ہے عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرنے والے کہاں ہیں
"بچوں کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ ہم نے وہ تصاویر دیکھی ہیں، جو کہ بالکل ہڈیوں کے ڈھانچے کی طرح ہیں، بالکل ہولوکاسٹ کے دوران حراستی کیمپوں کے متاثرین جیسی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ میں جانتی ہوں کہ اسرائیل اربوں ڈالر کی پروپیگنڈا مشین کے ذریعے اپنے بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ہم بھوکے بچوں کی تصاویر دیکھ رہے ہیں، ہم ڈاکٹروں کی یہ گواہیاں سن رہے ہیں کہ بچوں کا دودھ ان کے بیگوں سے چھین لیا گیا، بچوں کا دودھ! انہیں نازی جرمنی کے تھرڈ رائش کے افسران سے بالکل مختلف انداز میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔ (سوال کرنے والا شخص): ایبی، آپ کے خیال میں جب کوئی یہ دیکھے گا کہ آپ ایک یہودی شخص کو نازی کہہ رہی ہیں تو وہ کیا سوچے گا؟ (ایبی مارٹن کا جواب): اگر آپ نازیوں کے ساتھ موازنہ نہیں کروانا چاہتے تو نازیوں کی طرح برتاؤ کرنا بند کریں!!"
پمز ہسپتال میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی بھابھی بتیجھے تین عورتوں اور ایک نومولود بچے کی زندگی بچانی والی راولپنڈی کی پندرہ سالہ منیبہ جب سب لوگ عملے سمیت بھاگ رہے تھے تب منیبہ نے اندر جاکر اپنی بھابھی بتیجھے اور تین عورتیں اور آخری لمحے میں جب سب کچھ ناممکن تھا ہرطرف دھواں تھا نومولود بچے کو اٹھا کر صیح سلامت باہر لے آئی۔
یہ ہے قومی ہیرو تمغہ ہلال امتیاز سے ایسے ہیروز کو نوازنا چاہئیے ناچنے والوں کو نہیں
انصاف کا دہرا معیار؟لاہور کےپسماندہ علاقے میں ایک خاتون اپنے گزر بسر کے لئے چند سو روپےلےکر ٹیویشن پڑھاتی تھی گھر کی چھت گر گئی،خود بھی زخمی ہوئی،اس پرحکمران شرمندہ نہیں ہوئےبلکہ مقدمۂ درجہ کروایا گرفتاریاں ہوئیں۔پمز میں 14 بچے زندہ جل گئےافسران ابھی بھی اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔۔۔۔
ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے۔۔۔ریسکیو اہلکار کا موقف
اللٰ٘ہ اسکی نوکری اب محفوظ رکھے۔۔۔
آسلام آباد کے کچھ غیرتی شہری PIMs پہنچ گئے!!
اسلام آباد کر شہریوں نے shame Shame کے نعرے لگائے, حکومت کو شرم آنی چاہیے!!
آج تو چاہیے تھا, پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آتے, لیکن باقی پاکستانیوں نے اپنی باری کا انتظار اچھا سمجھا!!
یہ بچے پورے پاکستان کے بچے ہیں, خدا کے لیے نکل آؤ
ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔
اس شخص کو تمغہ امتیاز ملنا چاہئے کہ ظلم کے اس دور میں جرات اور دلیری سے سچ بولا اور ڈنکے کی چوٹ پر بولا۔ ماشاءﷲ۔ ہر فرد میں یہ قوت ایمانی ہو تو ہم اس ظلم سے جلد نجات پا سکتے ہیں انشاءﷲ۔
مصطفی کمال ایک نہایت بدتمیز اور اخلاق سے گرا ہوا شخص ہے کچھ دن پہلے پریس کانفرنس میں دیر سے آنے پے جب صحافیوں نے شکوہ کیا تو یہ صحافیوں کو ہی اس کا قصور وار ٹھکرانے لگ گیا...
اور آج یہ پمز ہسپتال میں بچوں کے والدین کو دھمکیاں دے رہا
یہ ویڈیو ایک چائنیز ہسپتال کی ہے، جب وہاں زلزلہ آیا تو نرسیں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر نرسری میں نو موجود مولود بچوں کے ساتھ موجود ہیں۔
جبکہ ہم مسلمانوں بلکہ اسلام کے قلعہ ہونے کے دعوایداروں کے ہسپتال کی نرسری میں آگ لگی تو وہاں نہ کوئی نرس موجود اور نہ ڈاکٹر۔۔۔
کتنا تکلیف دہ منظر ہے۔ جس پمز ہسپتال کے قصیدے پڑھ پڑھ کر پوری فارم 47 حکومت تھک نہیں رہی تھی،
اس کے نومولود بچوں کے وارڈ کی صورتحال ملاحظہ ہو کہ آگ لگ گئی اور کوئی آگ بجھانے والا نہ تھا۔
بچے جل گئے۔ والدین بچوں کا پوچھ رہے ہیں اور بچے ان کے حوالے نہیں کیے جا رہے۔