میں نے جنگ اس لیئے ختم کی کہ ورنہ دُنیا میں تیل چار ہفتوں میں ختم ہوجاتا۔
یعنی میں نے گَھٹنے اِس لئیے ٹیک دئیے کہ ایران نے آبناۓ ہرموز بند رکھا ہوا تھا۔
کبھی پوری زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ ایک امریکی صدر کو اپنی بے بسی کا اعتراف ایران کی وجہ سے کرنا پڑیگا۔
سبحان اللہ۔
میں نے جنگ اس لیئے ختم کی کہ ورنہ دُنیا میں تیل چار ہفتوں میں ختم ہوجاتا۔
یعنی میں نے گَھٹنے اِس لئیے ٹیک دئیے کہ ایران نے آبناۓ ہرموز بند رکھا ہوا تھا۔
کبھی پوری زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ ایک امریکی صدر کو اپنی بے بسی کا اعتراف ایران کی وجہ سے کرنا پڑیگا۔
سبحان اللہ۔
اُردو میں اس لئیے لکھ رہا ہوں کہو میرے عام پاکستانی بھائ سمجھ سکیں۔ جسے اپنی زبان میں پڑھنا ہے وہ ترجمعے کا بٹن دبا کر پڑھ سکتے ہیں۔
میری آج ایرانی سفارتکاروں کے ساتھ دل گرم کردینے والی انوکھی مُلاقات۔ شہید آیت اللہ خامنائ کے بارے میں گُفتگو جو آپ نے شاید کبھی نہ پڑھی ہو۔
۱۔ پہلے میری مُلاقات میرے بھائ جیسے دوست اور سفارتخانے کے سیاسی کاؤنسلر آغا ہادی گُلریز سے ہوئ۔ میں آج ایرانی سفارتخانے جنگ کی جیت کی مبارکباد دینے گیا تھا۔ آج کی مُلاقات ایسے لگا جیسے مجھ میں اور دو سفارتکاروں میں نہیں بلکہ تین دوستوں اور بھائیوں میں تھی۔ یہ اُن سفارتکاروں کا بڑاپن تھا۔
۲۔ آغا ہادی سے تفصیلی گُفتگو کے بعد ایمبیسیڈر عزت مآب جناب رضا امیری مُقدم @IranAmbPak آۓ۔
۳۔ انھوں نے اس امب معاہدے میں پاکستان کے کردار کی اتنی تعریف کی کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ بہت سی باتیں آف دی ریکارڈ رہیں جو میں یہاں نہیں کرسکتا۔
۴۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے گُفتگو کو شہید آیت اللہ خامنائ کی زندگی کی سمت موڑ دیا۔ سفیر رضا امیری مُقدم نے شہید آیت اللہ خامنائ کے ساتھ بہت وقت گُزارا ہے۔
۵۔ میں نے پُوچھا کہ شہید آیت اللہ پاکستان کے بارے میں کیا سوچ رکھتے تھے ؟
جواب: پاکستان شہید آیت اللہ کے دل کے بہت قریب تھا۔ تب سے جب سے ایران عراق جنگ میں پاکستان کا جو کردار تھا ایران کے لئیے۔ ایران کے فائیٹر پائلٹس میں ٹرین ہُوۓ تھے۔ آیت اللہ نے ہمیشہ مُسلم اُمّت کے اتحاد کی بات کی اور اپنے قریب ترین لوگوں کو ہمیشہ پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا۔
۶۔ میں نے پوچھا کہ شہید آیت اللہ مسلم اُمّت کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔
جواب: شہید کو یہ یقین تھا کہ مسلم اُمّہ ایک دن متحد ہوگی۔ اُنھیں یقین تھا کہ امریکہ کی طاقت ایک دن اس خِطّے سے ختم ہوگی۔ وہ اس بات پر اتنے یقین سے قائم تھے کہ شاید دوسرے نہ قائم ہوں۔ اور اس اُمّت کے طاقتور ہونے میں وہ پاکستان کے کردار کا اہم کردار دیکھتے تھے۔
۷۔ میں نے پٗوچھا کہ آیت اللہ کی اپنے سپہ سالاروں اور دوسری حُکومتی اشخاص سے آخری مُلاقات کے بارے میں بہت افواہیں ہیں۔ سچ کیا ہے ؟
جواب: شہید آیت اللہ کو علم اور احساس تھا کہ امریکہ اس وقت نہیں تو اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں ایران پر حملہ کریگا اور پہلا حملہ اُن پر ہوگا۔ اسی لیئے اُنھوں نے چند وصیتیں کیں جن میں سے سب سے بڑی وصیّت یہ تھی کہ آبناۓ ہرموز آیت اللہ کی شہادت کے بعد بند کردیا جاۓ اور جب تک نہیں کھولا جاۓ جب تک جیت مقدر نہیں بنتی۔ دوسری بات یہ کہی کہ ایرانی قوم پر یقین رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ یہی ایرانی قوم آپ سب کے ساتھ ایران کے حق میں بھرپور طریقے سے کھڑی ہوگی۔ (اور جو ہوئ اور اُس وقت یہ بات کسی کو نہیں پتہ تھی کیونکہ چند ہفتے پہلے تک ایران میں بلوے ہوچکے تھے)
اور پھر یہ کہا کہ جیت آپ سب کی ہی ہوگی۔ اور میں آپ کی پیشکش پر یہاں سے باہر اپنی جان بچانے نہیں جاؤنگا کیونکہ ایرانی قوم کو مجھ جیسی سہولیات نہیں تو میں کیسے اپنی جان بچانے کی خاطر پوری قوم کی جان خطرے میں ڈال سکتا ہوں کیونکہ دُشمن مجھے ڈُھونڈتے ہوۓ مارنے کے لیئے ہر جگہ بمباری کریگا اور اس سے معصوم لوگوں کی جان جائیگی۔
اور بہت باتیں ہوئیں شہید آیت اللہ کے حوالے سے جو میں شہید کی تدفین کے بعد ایک آرٹیکل کی صُورت میں لکھوں گا جو ابھی لکھ دوُں تو تفصیل سے اُس وقت نہیں لکھ سکوں گا۔
ایرانی ایمبیسیڈر کا تہہِ دل سے شُکریہ اتنی باتیں بتانے کے لئیے اور میرے بھائ جیسے دوست آغا ہادی گُلرِیز کا تو ہمیشہ ہی شُکریہ۔
ایران پاکستان دوستی ہمیشہ زندہ باد۔ آمین۔
@siasatpk@SdqJaan فارم 47 کو گھر بیجنا چاہئے ۔ نااہل لوگ ہیں یہ اور چور ہیں یہ ۔۔۔۔ خان بلکُل دُرست کہتا تھا ان کے بارے میں ۔ انہونے ثابت کر دیا کے یہ نااہل ہیں اور رہینگے
ترامب قال امام الشيخ محمد بن زايد 🇦🇪
فقط يوم تكون بهالدرجة من الغنى تتكلم بصوت منخفض كذا
طبعا قالها لان الشيخ يتكلم بصوت منخفض جدا، والمضحك ان الشيخ يتكلم بهالاسلوب حسب رأيي عشان يفرض حدود Boundaries
يعني نظام تراني جاد لا تطقطق علي، بس ترامب خبل
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کے موقع پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج۔
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
ناکے کروا کر عام عوام کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ بلہ وجہ ناکے ۔۔۔۔ کورٹ ایجازت دیتا ہے بہنون کو ملنے کی لیکن عاصم مُنیر روک دیتا ہے ملنے سے ۔
Why is he not obeying court orders .